ایک کمپیوٹر آپریٹر کی غلطی سے
’طاقت کا سراب‘ ایک علمی کتاب ہے جو کسی ممکنہ ایٹمی جنگ اور اس سے ہونے والی تباہی کے حوالے سے روشناس کراتی ہے...
zahedahina@gmail.com
'جنوبی ایشیا میں ایٹم بم' ایک ایسا حساس اور گمبھیر موضوع ہے جس سے میرا گہرا تعلق رہا ہے۔ یہ بھیانک عفریت جس نے میری پیدائش کے پہلے سوا لاکھ انسانوں کو نوالہ بنایا اس کے بارے میں آگہی مجھے نو عمری میں اس وقت ہو گئی تھی جب میں نے ہیرو شیما اور ناگاساکی پر گزرنے والے ناقابل یقین انسانی المیے کے بارے میں پڑھا تھا اور اس سے آگاہی ہوئی تھی۔
میرے مضامین کا مجموعہ' اُمیدِ سحر کی بات سنو' شایع ہوا تو اس کا پہلا مضمون ' ضمیر کا نوحہ' تھاجو 82 صفحات پر مشتمل ہے اور جس میں ایٹمی جنگ کو سنہرے رنگوں سے مصور کرنے والوں کی شدت سے مخالفت کی گئی تھی۔ چند دنوں پہلے ادارہ 'مشعل' کی شایع کردہ اور عبدالحمید نیر کی تدوین کی ہوئی کتاب 'طاقت کا سراب' نظر سے گزری تو خوشی ہوئی کہ نیر صاحب نے اس حساس موضوع پر دنیا کے شہرت یافتہ ماہرین طبعیات کے انگریزی میں لکھے ہوئے مضامین کو منتخب کیا اور انھیں 'مشعل' کی مدد سے کتابی شکل میں پیش کیا۔
ان مضامین میں ہندوستان کے ایم وی رامنا' سورت راجو' آر راجا رمن' ایم وی رامنا' سریندرا گاڈیکر کے علاوہ پاکستان کے ضیا میاں' پرویز ہود بھائی' عبدالحمید نیر کے علاوہ امریکا میں عالمی ترک اسلحہ کی تحریک سے وابستہ میتھیو میکنزی کے مضامین شامل ہیں۔ان مضامین میں دنیا کے اہم ماہرین طبعیات نے اس موضوع پر انسانی نقطۂ نظر سے روشنی ڈالی ہے۔
'طاقت کا سراب' ایک علمی کتاب ہے جو کسی ممکنہ ایٹمی جنگ اور اس سے ہونے والی تباہی کے حوالے سے ہمیں کیسے مہیب امکانات سے روشناس کراتی ہے ۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے مجھے ایک فلم یاد آئی جو دہائیوں پہلے سوویت یونین میں بنائی گئی تھی۔ میں نے جب اس فلم کے بارے میں بعض بین الاقوامی رسائل میں پڑھا' تو اُمید نہ تھی کہ اسے دیکھ سکوں گی کیونکہ یہ فلم سوویت یونین میں بنی تھی اور کراچی میں وہاں کی بنی ہوئی فلمیں عنقا و نایاب تھیں۔ لیکن سوویت کلچرل سینٹر کے ڈائریکٹر طاش مرزائیو کی عنایت کے سبب میں اس فلم کو دیکھ سکی۔
یہ ان بچوں کے بارے میں تھی جو ایٹمی پناہ گاہ سے نکلے تھے تو ان کے ارد گرد کی ہوا ناقابل یقین حد تک سرد تھی۔ ان کے پیروں کے نیچے نیوکلیائی آگ کی راکھ تھی۔ دنیا کا تمام حسن خاکستر ہوچکا تھا اور اب ان کے بھاری بوٹوں سے سرمئی راکھ بن کر لپٹ رہا تھا۔ وہ زمین جس پر دریا لہریں لیتے تھے' پیڑ جھومتے تھے' بچے قلقاریاں مارتے تھے ' نوجوان محبت کرتے تھے' محبوبائیں انتظار کرتی تھیں' بوڑھے کہانیاں سناتے تھے' جس کی فضا میں تتلیاں اڑتی تھیں ' جس کی ہوائوں میں خوشبو تھی' رعنائی و برنائی تھی۔ وہ اب محض خاک کا ڈھیر تھی۔ وہ نیلا آسمان جسے کہکشاں اپنا دوشالہ اڑھاتی تھی' چاند کی کشتی جس کی وسعتوں میں تیرتی تھی اور شام کا پہلا تارا جس کی پیشانی پر ہیرے کی طرح جگمگاتا تھا' اس نیلگوں آسمان کو نیوکلیائی آگ کے دھوئیں نے نگل لیا تھا۔ اب محض خنکی تھی' ایک بیکراں اندھیرا تھا اور پاگل کردینے والا سکوت۔
اس فلم کو دیکھتے ہوئے یہ احساس جاں فزا تھا کہ جو کچھ بھی میں دیکھ رہی ہوں' وہ ایک فلم ہے ' ایک کہانی ہے ' حقیقی زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور اس کے ساتھ ہی ہر مرتبہ یہ احساس بھی ہوا کہ اس وقت ہماری دنیا ہوس جنگ میں مبتلا جن جنونیوں کے چنگل میں ہے' ان سے بعید نہیں کہ کب وہ کسی تخیّلا تی فلم کے دہشت زدہ کر دینے والے مناظر کو حقیقت میں بدل دیں۔
یہ ایسا تھرّ ا دینے والا خیال ہے جو ہم سب کو بہت کچھ سوچنے اور اپنے اپنے حلقۂ اثر میں بہت کچھ کرنے اور مسلسل کرتے رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس فلم کے ڈائریکٹر کانسٹنٹائن پشانکی کا شمار سابق سوویت یونین کے ان ذہین اور با صلاحیت نوجوان فلم ڈائریکٹروں میں ہوتا تھا جو فلم کو انسانی احساسات اور جمالیات کا موثر ترین ذریعۂ اظہار سمجھتے ہیں۔
اس نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا...'مجھے اپنی ذمے داریوں کا احساس ہے اور اسی احساس نے مجھ سے یہ فلم بنوائی ہے جسے دیکھنے کے بعد انسان کے ذہن میں صرف ایک ہی سوال گردش کرتا ہے کہ ایٹم بم کی شکل میں انسان نے کہیں اس 'جن' کوبوتل سے آزاد تو نہیں کردیا جو آخر کار اپنے آزاد کرنے والے کو سموچا نگل جائے گا اور ہماری دھرتی ریزہ ریزہ ہوکر کائناتی دھول میں بدل جائے گی'۔اپنے اس انٹرویو میں اس نے کہا تھا کہ میں نہیں چاہتا کہ جنگ کا خوف انسانوں کے ذہنوں سے کابوس کی طرح چمٹ جائے۔
میں نہیں چاہتا کہ شدید بارش کے دوران جب بادل کڑکیں تو میرا پانچ سالہ بچہ مجھ سے چمٹ جائے اور پوچھے...'ڈیڈی، کیا جنگ شروع ہوگئی ہے؟' میں یہ نہیں چاہتا'۔اور یہ ہم میں سے بھلا کون چاہتا ہے۔ شاید دنیا کے بیشتر انسانوں کو اس عالمی صورت حال سے نفرت ہے جس نے کم عمر بچوں کے ذہنوں کو بھی جنگ کی ہیبت اور دہشت سے یوں بھردیا ہے کہ وہ آسمانی بجلی کے کڑکنے کو جنگ کا آغاز تصور کرلیتے ہیں اور بارش سے لطف اندوز ہونے کے بجائے خوف سے لرزنے لگتے ہیں۔
یہ فلم ان خطوط پر مشتمل تھی جو لحظہ لحظہ کرکے نیوکلیائی موت مرتے ہوئے ایک باپ نے اپنے مردہ بیٹے کے نام لکھے۔اس فلم کا مرکزی کردار ایک بوڑھا سائنسدان ہے جو شہر کے ایک آرٹ میوزیم کے تہہ خانے میں چند دوسرے افراد کے ساتھ ہے۔ تہہ خانے کے باہر سب کچھ ختم ہوچکا ہے اور جو لوگ تہہ خانے کے اندر موجود ہیں 'موت ان کا بھی مقدرہے۔
یہ تمام تباہی ایک کمپیوٹر آپریٹر کی غلطی سے شروع ہوتی ہے۔ کمپیوٹر آپریٹر کافی پی رہا ہے۔ اُسے پھندا لگتا ہے اور اسی دوران کوئی بٹن دب جاتا ہے اور کمپیوٹر غلط طور پر دوسری عالمی طاقت کی جانب سے ایٹمی حملے کی نہ صرف خبر دیتا ہے بلکہ فوراً جوابی حملے کے احکامات بھی جاری کردیتا ہے۔ کمپیوٹر آپریٹر چیختا ہے' ہذیانی انداز میں کہتا ہے...' یہ اطلاع سراسر غلط ہے...ہم پِر نیوکلیائی حملہ نہیں ہوا ہے۔
جوابی کارروائی فوراً روک دو' میزائلوں کی روانگی منسوخ کردو'۔ لیکن اس سے سات سیکنڈ کی تاخیر ہوگئی ہے۔ یہ وہی سات سیکنڈ ہیں جن کے دوران اسے کافی کا پھندا لگا تھا اور پھر یہ پھندا' ساری دُنیا کے گلے میں پھانسی کا پھندا ثابت ہوتا ہے۔ آپریٹر جانتا ہے کہ اس تاخیر کے سبب انسانیت کے ہاتھ سے سب کچھ نکل چکا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ 14 منٹ کے اندر اندر ساری دُنیا تباہ ہوجائے گی اورجاننے کا یہ بوجھ اتنا مہیب اور بھیانک ہے کہ کمپیوٹر آپریٹر اسی وقت خودکشی کرلیتا ہے۔
فلم کا مرکزی کردار سائنسدان آرٹ میوزیم کے تہہ خانہ میں اپنی بیوی' چند ساتھیوں اور بچوں کے ساتھ ہے اور جانتا ہے کہ اسے سسک سسک کر ختم ہوجانا ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس کا بیٹا جو باہر تھا' ختم ہوچکا ہے لیکن وہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا اور اپنے بیٹے کے خیال سے گفتگو کرتا رہتا ہے۔ بیٹا جو مستقبل کی علامت ہے' وہ اسے خط میں لکھتا ہے:' ڈیئر ایرک' قبل اس کے کہ ہم سب ' تمہاری ماں' میں اور خود تم... کائنات کا حصہ بن جائیں ' ہمارے پاس زندہ رہنے کے لیے چند گھنٹے ہیں۔ میں اور تمہاری ماں آرٹ میوزیم کے تہہ خانے میں اپنے چند ساتھیوں سمیت پھنسے ہوئے ہیں۔ ہم یہاں تمہارا انتظار کریں گے۔ شاید تم بچ گئے ہو۔ تمہاری ماں کا کہنا ہے کہ تم ختم ہوچکے ہو لیکن میں اس بات پر یقین نہیں کرنا چاہتا'۔
یہ حتمی موت کی دہلیز پر کھڑے ہوکر بھی زندگی پر یقین رکھنے کی ایک عظیم کہانی ہے۔ یہ ان بچوں کی کہانی ہے جو اس آرٹ میوزیم کے تہہ خانے میں موجود ہیں جنھیں فلم کا ہیرو یعنی بستر مرگ پر پڑا ہوا سائنسدان ' یقین دلاتا ہے کہ زندگی' موت سے عظیم ہے اور انسان کائنات میں سانس لینے والا سب سے بہادر اور جی دار' ذی حیات ہے۔ ایک مردہ کرّے پر زندگی کے لیے جدو جہد کرنے والے ان بچوں کی کہانی ہے جن سے مرتے ہوئے ایک بہادر انسان نے کہا تھا...' ہمت نہ ہارنا' چلتے جانا جب تک کہ تمہارے وجود میں توانائی کا ایک شمہ بھی موجود ہے'۔
'لیٹر فرام اے ڈیڈ مین' ہو یا اس موضوع پر بننے والی دوسری فلمیں' امن اور زندگی کے حق میں لکھے جانے والے ناول' کہانیاں' شاعری... ان سب کا مقصد عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنا اور انسانوں کو ان خطرات سے آگاہ کرنا ہے جوان کے سر پر پہنچ چکے ہیں۔اس موضوع پر مرتب کی جانے والی کتاب 'طاقت کا سراب' ہے جسے ہمارے ایک معروف سائنس داں اور حقوق انسانی کے سرگرم کارکن عبدالحمید نیر نے مرتب کیا اور 'مشعل' نے شایع کرکے اپنا قومی اور انسانی فریضہ ادا کیا۔ ہم لوگوں کو ایسی بہت سی چشم کشا کتابوں کی ضرورت ہے ۔
میرے مضامین کا مجموعہ' اُمیدِ سحر کی بات سنو' شایع ہوا تو اس کا پہلا مضمون ' ضمیر کا نوحہ' تھاجو 82 صفحات پر مشتمل ہے اور جس میں ایٹمی جنگ کو سنہرے رنگوں سے مصور کرنے والوں کی شدت سے مخالفت کی گئی تھی۔ چند دنوں پہلے ادارہ 'مشعل' کی شایع کردہ اور عبدالحمید نیر کی تدوین کی ہوئی کتاب 'طاقت کا سراب' نظر سے گزری تو خوشی ہوئی کہ نیر صاحب نے اس حساس موضوع پر دنیا کے شہرت یافتہ ماہرین طبعیات کے انگریزی میں لکھے ہوئے مضامین کو منتخب کیا اور انھیں 'مشعل' کی مدد سے کتابی شکل میں پیش کیا۔
ان مضامین میں ہندوستان کے ایم وی رامنا' سورت راجو' آر راجا رمن' ایم وی رامنا' سریندرا گاڈیکر کے علاوہ پاکستان کے ضیا میاں' پرویز ہود بھائی' عبدالحمید نیر کے علاوہ امریکا میں عالمی ترک اسلحہ کی تحریک سے وابستہ میتھیو میکنزی کے مضامین شامل ہیں۔ان مضامین میں دنیا کے اہم ماہرین طبعیات نے اس موضوع پر انسانی نقطۂ نظر سے روشنی ڈالی ہے۔
'طاقت کا سراب' ایک علمی کتاب ہے جو کسی ممکنہ ایٹمی جنگ اور اس سے ہونے والی تباہی کے حوالے سے ہمیں کیسے مہیب امکانات سے روشناس کراتی ہے ۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے مجھے ایک فلم یاد آئی جو دہائیوں پہلے سوویت یونین میں بنائی گئی تھی۔ میں نے جب اس فلم کے بارے میں بعض بین الاقوامی رسائل میں پڑھا' تو اُمید نہ تھی کہ اسے دیکھ سکوں گی کیونکہ یہ فلم سوویت یونین میں بنی تھی اور کراچی میں وہاں کی بنی ہوئی فلمیں عنقا و نایاب تھیں۔ لیکن سوویت کلچرل سینٹر کے ڈائریکٹر طاش مرزائیو کی عنایت کے سبب میں اس فلم کو دیکھ سکی۔
یہ ان بچوں کے بارے میں تھی جو ایٹمی پناہ گاہ سے نکلے تھے تو ان کے ارد گرد کی ہوا ناقابل یقین حد تک سرد تھی۔ ان کے پیروں کے نیچے نیوکلیائی آگ کی راکھ تھی۔ دنیا کا تمام حسن خاکستر ہوچکا تھا اور اب ان کے بھاری بوٹوں سے سرمئی راکھ بن کر لپٹ رہا تھا۔ وہ زمین جس پر دریا لہریں لیتے تھے' پیڑ جھومتے تھے' بچے قلقاریاں مارتے تھے ' نوجوان محبت کرتے تھے' محبوبائیں انتظار کرتی تھیں' بوڑھے کہانیاں سناتے تھے' جس کی فضا میں تتلیاں اڑتی تھیں ' جس کی ہوائوں میں خوشبو تھی' رعنائی و برنائی تھی۔ وہ اب محض خاک کا ڈھیر تھی۔ وہ نیلا آسمان جسے کہکشاں اپنا دوشالہ اڑھاتی تھی' چاند کی کشتی جس کی وسعتوں میں تیرتی تھی اور شام کا پہلا تارا جس کی پیشانی پر ہیرے کی طرح جگمگاتا تھا' اس نیلگوں آسمان کو نیوکلیائی آگ کے دھوئیں نے نگل لیا تھا۔ اب محض خنکی تھی' ایک بیکراں اندھیرا تھا اور پاگل کردینے والا سکوت۔
اس فلم کو دیکھتے ہوئے یہ احساس جاں فزا تھا کہ جو کچھ بھی میں دیکھ رہی ہوں' وہ ایک فلم ہے ' ایک کہانی ہے ' حقیقی زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور اس کے ساتھ ہی ہر مرتبہ یہ احساس بھی ہوا کہ اس وقت ہماری دنیا ہوس جنگ میں مبتلا جن جنونیوں کے چنگل میں ہے' ان سے بعید نہیں کہ کب وہ کسی تخیّلا تی فلم کے دہشت زدہ کر دینے والے مناظر کو حقیقت میں بدل دیں۔
یہ ایسا تھرّ ا دینے والا خیال ہے جو ہم سب کو بہت کچھ سوچنے اور اپنے اپنے حلقۂ اثر میں بہت کچھ کرنے اور مسلسل کرتے رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس فلم کے ڈائریکٹر کانسٹنٹائن پشانکی کا شمار سابق سوویت یونین کے ان ذہین اور با صلاحیت نوجوان فلم ڈائریکٹروں میں ہوتا تھا جو فلم کو انسانی احساسات اور جمالیات کا موثر ترین ذریعۂ اظہار سمجھتے ہیں۔
اس نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا...'مجھے اپنی ذمے داریوں کا احساس ہے اور اسی احساس نے مجھ سے یہ فلم بنوائی ہے جسے دیکھنے کے بعد انسان کے ذہن میں صرف ایک ہی سوال گردش کرتا ہے کہ ایٹم بم کی شکل میں انسان نے کہیں اس 'جن' کوبوتل سے آزاد تو نہیں کردیا جو آخر کار اپنے آزاد کرنے والے کو سموچا نگل جائے گا اور ہماری دھرتی ریزہ ریزہ ہوکر کائناتی دھول میں بدل جائے گی'۔اپنے اس انٹرویو میں اس نے کہا تھا کہ میں نہیں چاہتا کہ جنگ کا خوف انسانوں کے ذہنوں سے کابوس کی طرح چمٹ جائے۔
میں نہیں چاہتا کہ شدید بارش کے دوران جب بادل کڑکیں تو میرا پانچ سالہ بچہ مجھ سے چمٹ جائے اور پوچھے...'ڈیڈی، کیا جنگ شروع ہوگئی ہے؟' میں یہ نہیں چاہتا'۔اور یہ ہم میں سے بھلا کون چاہتا ہے۔ شاید دنیا کے بیشتر انسانوں کو اس عالمی صورت حال سے نفرت ہے جس نے کم عمر بچوں کے ذہنوں کو بھی جنگ کی ہیبت اور دہشت سے یوں بھردیا ہے کہ وہ آسمانی بجلی کے کڑکنے کو جنگ کا آغاز تصور کرلیتے ہیں اور بارش سے لطف اندوز ہونے کے بجائے خوف سے لرزنے لگتے ہیں۔
یہ فلم ان خطوط پر مشتمل تھی جو لحظہ لحظہ کرکے نیوکلیائی موت مرتے ہوئے ایک باپ نے اپنے مردہ بیٹے کے نام لکھے۔اس فلم کا مرکزی کردار ایک بوڑھا سائنسدان ہے جو شہر کے ایک آرٹ میوزیم کے تہہ خانے میں چند دوسرے افراد کے ساتھ ہے۔ تہہ خانے کے باہر سب کچھ ختم ہوچکا ہے اور جو لوگ تہہ خانے کے اندر موجود ہیں 'موت ان کا بھی مقدرہے۔
یہ تمام تباہی ایک کمپیوٹر آپریٹر کی غلطی سے شروع ہوتی ہے۔ کمپیوٹر آپریٹر کافی پی رہا ہے۔ اُسے پھندا لگتا ہے اور اسی دوران کوئی بٹن دب جاتا ہے اور کمپیوٹر غلط طور پر دوسری عالمی طاقت کی جانب سے ایٹمی حملے کی نہ صرف خبر دیتا ہے بلکہ فوراً جوابی حملے کے احکامات بھی جاری کردیتا ہے۔ کمپیوٹر آپریٹر چیختا ہے' ہذیانی انداز میں کہتا ہے...' یہ اطلاع سراسر غلط ہے...ہم پِر نیوکلیائی حملہ نہیں ہوا ہے۔
جوابی کارروائی فوراً روک دو' میزائلوں کی روانگی منسوخ کردو'۔ لیکن اس سے سات سیکنڈ کی تاخیر ہوگئی ہے۔ یہ وہی سات سیکنڈ ہیں جن کے دوران اسے کافی کا پھندا لگا تھا اور پھر یہ پھندا' ساری دُنیا کے گلے میں پھانسی کا پھندا ثابت ہوتا ہے۔ آپریٹر جانتا ہے کہ اس تاخیر کے سبب انسانیت کے ہاتھ سے سب کچھ نکل چکا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ 14 منٹ کے اندر اندر ساری دُنیا تباہ ہوجائے گی اورجاننے کا یہ بوجھ اتنا مہیب اور بھیانک ہے کہ کمپیوٹر آپریٹر اسی وقت خودکشی کرلیتا ہے۔
فلم کا مرکزی کردار سائنسدان آرٹ میوزیم کے تہہ خانہ میں اپنی بیوی' چند ساتھیوں اور بچوں کے ساتھ ہے اور جانتا ہے کہ اسے سسک سسک کر ختم ہوجانا ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس کا بیٹا جو باہر تھا' ختم ہوچکا ہے لیکن وہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا اور اپنے بیٹے کے خیال سے گفتگو کرتا رہتا ہے۔ بیٹا جو مستقبل کی علامت ہے' وہ اسے خط میں لکھتا ہے:' ڈیئر ایرک' قبل اس کے کہ ہم سب ' تمہاری ماں' میں اور خود تم... کائنات کا حصہ بن جائیں ' ہمارے پاس زندہ رہنے کے لیے چند گھنٹے ہیں۔ میں اور تمہاری ماں آرٹ میوزیم کے تہہ خانے میں اپنے چند ساتھیوں سمیت پھنسے ہوئے ہیں۔ ہم یہاں تمہارا انتظار کریں گے۔ شاید تم بچ گئے ہو۔ تمہاری ماں کا کہنا ہے کہ تم ختم ہوچکے ہو لیکن میں اس بات پر یقین نہیں کرنا چاہتا'۔
یہ حتمی موت کی دہلیز پر کھڑے ہوکر بھی زندگی پر یقین رکھنے کی ایک عظیم کہانی ہے۔ یہ ان بچوں کی کہانی ہے جو اس آرٹ میوزیم کے تہہ خانے میں موجود ہیں جنھیں فلم کا ہیرو یعنی بستر مرگ پر پڑا ہوا سائنسدان ' یقین دلاتا ہے کہ زندگی' موت سے عظیم ہے اور انسان کائنات میں سانس لینے والا سب سے بہادر اور جی دار' ذی حیات ہے۔ ایک مردہ کرّے پر زندگی کے لیے جدو جہد کرنے والے ان بچوں کی کہانی ہے جن سے مرتے ہوئے ایک بہادر انسان نے کہا تھا...' ہمت نہ ہارنا' چلتے جانا جب تک کہ تمہارے وجود میں توانائی کا ایک شمہ بھی موجود ہے'۔
'لیٹر فرام اے ڈیڈ مین' ہو یا اس موضوع پر بننے والی دوسری فلمیں' امن اور زندگی کے حق میں لکھے جانے والے ناول' کہانیاں' شاعری... ان سب کا مقصد عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنا اور انسانوں کو ان خطرات سے آگاہ کرنا ہے جوان کے سر پر پہنچ چکے ہیں۔اس موضوع پر مرتب کی جانے والی کتاب 'طاقت کا سراب' ہے جسے ہمارے ایک معروف سائنس داں اور حقوق انسانی کے سرگرم کارکن عبدالحمید نیر نے مرتب کیا اور 'مشعل' نے شایع کرکے اپنا قومی اور انسانی فریضہ ادا کیا۔ ہم لوگوں کو ایسی بہت سی چشم کشا کتابوں کی ضرورت ہے ۔