پاکستانی آم کو امریکی مارکیٹ میں داخلے کا گرین کارڈ مل گیا
گزشتہ ہفتے 3 ہزار کلو آم امریکا بھیجا گیا، اگلی شپمنٹ سے 6 ہزار کلو بھیجا جائے گا
پاکستانی آم ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوا اور اسٹورز پر پہنچنے کے تین گھنٹوں کے اندر تمام اسٹاک فروخت ہوگیا۔ فوٹو: فائل
پاکستانی آم کو امریکا کی مارکیٹ میں داخلے کا گرین کارڈ مل گیا ہے۔ پاکستان سے پہلی مرتبہ امریکا کو کمرشل بنیادوں پر آم کی ایکسپورٹ شروع ہوگئی ہے اور رواں سال 100ٹن سے 140ٹن آم فضائی راستے سے ایکسپورٹ کیے جانے کا امکان ہے۔
ہارٹی کلچر ایکسپورٹ کے شعبے میں نووارد کمپنی نے اس شعبے میں اپنے بال سفید کرنے والوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اور امریکی قوانین، مارکیٹ مکینزم کو سمجھتے ہوئے کمرشل ایکسپورٹ کے آغاز کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔ پاکستان سے 3000کلو گرام پر مشتمل سندھڑی آم کی پہلی کنسائمنٹ گزشتہ ہفتے امریکا کے چوتھے بڑے شہر ہیوسٹن بھجوائی گئی جہاں پاکستانی آم ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوا اور اسٹورز پر پہنچنے کے تین گھنٹوں کے اندر تمام اسٹاک فروخت ہوگیا۔ پاکستانی آم کی 6000کلو گرام کی دوسری کھیپ 23جون کو روانہ کی جائیگی سندھڑی کے بعد آئندہ شپمنٹس میں چونسا اور انور رٹول بھی ایکسپورٹ کیا جائے گا۔
پاکستان سے پہلی مرتبہ کمرشل بنیادوں پر امریکا آم برآمد کرنے والی کمپنی فارم ہائوس ایکسپورٹ کے ڈائریکٹر نوید نادر نے ایکسپریس سے ملاقات میں بتایا کہ پاکستان کے لیے امریکا جیسی بڑی، ہائی ویلیو منڈی تک رسائی ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت کو امریکی منڈی میں تین سال کی سر توڑ کوششوں کے بعد قدم جمانے کا موقع ملا تاہم ان کی کمپنی نے رواں سال فروری میں امریکا کو آم کی ایکسپورٹ کا فیصلہ کیا اور امریکی قواعدوضوابط پورے کرتے ہوئے امپورٹ پرمٹ حاصل کرکے ریکارڈ مدت میں امریکا کے لیے پاکستان سے آم کی ایکسپورٹ کا آغاز کردیا گیا۔
امریکا سالانہ 2لاکھ ٹن آم درآمد کرتا ہے جس میں سے زیادہ تر میکسکو، گوئٹے مالا، ایکواڈور، برازیل اور پیرو سے درآمد کیا جاتا ہے۔ بھارت نے تین سال قبل ممبئی میں اری ڈیشن پلانٹ نصب کیا اور تین سال میں بھارت کی امریکا کو ایکسپورٹ 400ٹن تک پہنچی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کمپنی آئندہ سیزن بھارت کے مارکیٹ شیئر کے برابر پہنچ جائیگی اور آئندہ سیزن چارٹر فلائٹ کے ذریعے براہ راست ہیوسٹن آم ایکسپورٹ کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا ایکسپورٹ کیے جانے والے آم سندھ میں ٹنڈوالہ یار کے عاصم ایگرو فارم سے لیے گئے ہیں جو سرٹیفائڈ فارم ہے پاکستانی آم بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے امریکا ایکسپورٹ کیا جاتا ہے جو ہیوسٹن سے بذریعہ ٹرک میسی سپی میں واقع اری ڈیشن پلانٹ پر اری ڈیشن کرائی جاتی ہے جو امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) سے منظورہ شدہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی قوانین کے بارے میں اپنی آگہی اور مارکیٹ کے بارے میں تحقیق اور جستجو نے پاکستان کے لیے امریکی منڈی کھلوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان سے امریکا کو آم 4.40ڈالر فی کلو گرام قیمت پر ایکسپورٹ کیا جارہا ہے جو فریٹ، لاجسٹک، اری ڈیشن ٹریٹمنٹ، ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز کا مارجن ملا کر 10ڈالر فی کلو گرام قیمت پر فروخت ہورہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے امپورٹ پرمٹ کے مطابق آم کی کنسائمنٹ میں 5فیصد تک فروٹ فلائز کی گنجائش ہے تاہم پاکستان میں قرنطینہ جانچ کے دوران 3000کلو گرام کی کھیپ میں سے لیے گئے آم کے 89 نمونوں میں سے ایک میں بھی فروٹ فلائی نہیں نکلی پاکستان آم دیسی اسٹورز پر فروخت ہورہا ہے، اگلے مرحلے میں بڑے ریٹیل اسٹورز پر بھی فروخت کیا جائے گا۔
ہارٹی کلچر ایکسپورٹ کے شعبے میں نووارد کمپنی نے اس شعبے میں اپنے بال سفید کرنے والوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اور امریکی قوانین، مارکیٹ مکینزم کو سمجھتے ہوئے کمرشل ایکسپورٹ کے آغاز کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔ پاکستان سے 3000کلو گرام پر مشتمل سندھڑی آم کی پہلی کنسائمنٹ گزشتہ ہفتے امریکا کے چوتھے بڑے شہر ہیوسٹن بھجوائی گئی جہاں پاکستانی آم ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوا اور اسٹورز پر پہنچنے کے تین گھنٹوں کے اندر تمام اسٹاک فروخت ہوگیا۔ پاکستانی آم کی 6000کلو گرام کی دوسری کھیپ 23جون کو روانہ کی جائیگی سندھڑی کے بعد آئندہ شپمنٹس میں چونسا اور انور رٹول بھی ایکسپورٹ کیا جائے گا۔
پاکستان سے پہلی مرتبہ کمرشل بنیادوں پر امریکا آم برآمد کرنے والی کمپنی فارم ہائوس ایکسپورٹ کے ڈائریکٹر نوید نادر نے ایکسپریس سے ملاقات میں بتایا کہ پاکستان کے لیے امریکا جیسی بڑی، ہائی ویلیو منڈی تک رسائی ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت کو امریکی منڈی میں تین سال کی سر توڑ کوششوں کے بعد قدم جمانے کا موقع ملا تاہم ان کی کمپنی نے رواں سال فروری میں امریکا کو آم کی ایکسپورٹ کا فیصلہ کیا اور امریکی قواعدوضوابط پورے کرتے ہوئے امپورٹ پرمٹ حاصل کرکے ریکارڈ مدت میں امریکا کے لیے پاکستان سے آم کی ایکسپورٹ کا آغاز کردیا گیا۔
امریکا سالانہ 2لاکھ ٹن آم درآمد کرتا ہے جس میں سے زیادہ تر میکسکو، گوئٹے مالا، ایکواڈور، برازیل اور پیرو سے درآمد کیا جاتا ہے۔ بھارت نے تین سال قبل ممبئی میں اری ڈیشن پلانٹ نصب کیا اور تین سال میں بھارت کی امریکا کو ایکسپورٹ 400ٹن تک پہنچی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کمپنی آئندہ سیزن بھارت کے مارکیٹ شیئر کے برابر پہنچ جائیگی اور آئندہ سیزن چارٹر فلائٹ کے ذریعے براہ راست ہیوسٹن آم ایکسپورٹ کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا ایکسپورٹ کیے جانے والے آم سندھ میں ٹنڈوالہ یار کے عاصم ایگرو فارم سے لیے گئے ہیں جو سرٹیفائڈ فارم ہے پاکستانی آم بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے امریکا ایکسپورٹ کیا جاتا ہے جو ہیوسٹن سے بذریعہ ٹرک میسی سپی میں واقع اری ڈیشن پلانٹ پر اری ڈیشن کرائی جاتی ہے جو امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) سے منظورہ شدہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی قوانین کے بارے میں اپنی آگہی اور مارکیٹ کے بارے میں تحقیق اور جستجو نے پاکستان کے لیے امریکی منڈی کھلوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان سے امریکا کو آم 4.40ڈالر فی کلو گرام قیمت پر ایکسپورٹ کیا جارہا ہے جو فریٹ، لاجسٹک، اری ڈیشن ٹریٹمنٹ، ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز کا مارجن ملا کر 10ڈالر فی کلو گرام قیمت پر فروخت ہورہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے امپورٹ پرمٹ کے مطابق آم کی کنسائمنٹ میں 5فیصد تک فروٹ فلائز کی گنجائش ہے تاہم پاکستان میں قرنطینہ جانچ کے دوران 3000کلو گرام کی کھیپ میں سے لیے گئے آم کے 89 نمونوں میں سے ایک میں بھی فروٹ فلائی نہیں نکلی پاکستان آم دیسی اسٹورز پر فروخت ہورہا ہے، اگلے مرحلے میں بڑے ریٹیل اسٹورز پر بھی فروخت کیا جائے گا۔