سانحہ لاہور کے بعد کراچی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی مندی میں تبدیل
100 انڈیکس 326 پوائنٹس کم ہوگیا، ، سرمایہ کاروں کے 75 ارب ڈوب گئے
100 انڈیکس 326 پوائنٹس کم ہوگیا، ، سرمایہ کاروں کے 75 ارب ڈوب گئے۔ فوٹو: پی پی آئی/فائل
کراچی اسٹاک ایکس چینج میں سانحہ لاہور کے باعث تیزی مندی میں تبدیل ہوگئی۔ مندی کے باعث 73.71 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے75 ارب21 کروڑ70 لاکھ7 ہزار44 روپے ڈوب گئے۔
ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ ییلو کیب اسکیم کی وجہ سے پاک سوزوکی اور جنرل ٹائرکمپنی کے حصص میں خریداری دلچسپی زیادہ رہی جس سے ابتدائی اوقات میں ایک موقع پر37 پوائنٹس کی تیزی رونما ہوئی لیکن کاروبار کے وسط میں سانحہ لاہور رونما ہونے اور متحدہ قومی مومنٹ کی جانب سے بدھ کو یوم سوگ منانے کے اعلان کی وجہ سے آئل اینڈ گیس، بینکنگ سمیت انڈیکس کے بیشترشعبوں میں تیز رفتاری سے حصص کی فروخت پر رحجان غالب ہوگیا اور کاروبار کے اختتام تک مارکیٹ نہ سنبھل سکی جسکے نتیجے میں مارکیٹ مندی سے دوچار ہوئی۔
ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، مقامی کمپنیوں اور بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے مجموعی طور پر41 لاکھ63 ہزار507 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ اس دوان میوچل فنڈز کی جانب سے7 لاکھ79 ہزار836 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے3 لاکھ40 ہزار175 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے30 لاکھ8 ہزار435 ڈالر اور دیگرآرگنائزیشنز کی جانب سے35 ہزار73 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا، مندی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 326.44 پوائنٹس کی کمی سے 29324.60 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 206.92 پوائنٹس کی کمی سے20170.75 اور کے ایم آئی30 انڈیکس487.91 پوائنٹس کی کمی سے 47152.79 ہوگیا۔
کاروباری حجم پیر کی نسبت18.48 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر15 کروڑ35 لاکھ40 ہزار400 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار350 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں71 کے بھائو میں اضافہ 258 کے داموں میں کمی اور21 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں پاکستان ٹوبیکو کے بھائو31 روپے بڑھکر1391 روپے اور ایکسائیڈ پاکستان کے بھائو20.29 روپے بڑھکر444.02 روپے ہوگئے جبکہ باٹا پاکستان کے بھائو143.09 روپے کم ہوکر3200.91 روپے اور نیسلے پاکستان کے بھائو100 روپے کم ہوکر8000 روپے ہوگئے۔
ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ ییلو کیب اسکیم کی وجہ سے پاک سوزوکی اور جنرل ٹائرکمپنی کے حصص میں خریداری دلچسپی زیادہ رہی جس سے ابتدائی اوقات میں ایک موقع پر37 پوائنٹس کی تیزی رونما ہوئی لیکن کاروبار کے وسط میں سانحہ لاہور رونما ہونے اور متحدہ قومی مومنٹ کی جانب سے بدھ کو یوم سوگ منانے کے اعلان کی وجہ سے آئل اینڈ گیس، بینکنگ سمیت انڈیکس کے بیشترشعبوں میں تیز رفتاری سے حصص کی فروخت پر رحجان غالب ہوگیا اور کاروبار کے اختتام تک مارکیٹ نہ سنبھل سکی جسکے نتیجے میں مارکیٹ مندی سے دوچار ہوئی۔
ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، مقامی کمپنیوں اور بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے مجموعی طور پر41 لاکھ63 ہزار507 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ اس دوان میوچل فنڈز کی جانب سے7 لاکھ79 ہزار836 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے3 لاکھ40 ہزار175 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے30 لاکھ8 ہزار435 ڈالر اور دیگرآرگنائزیشنز کی جانب سے35 ہزار73 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا، مندی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 326.44 پوائنٹس کی کمی سے 29324.60 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 206.92 پوائنٹس کی کمی سے20170.75 اور کے ایم آئی30 انڈیکس487.91 پوائنٹس کی کمی سے 47152.79 ہوگیا۔
کاروباری حجم پیر کی نسبت18.48 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر15 کروڑ35 لاکھ40 ہزار400 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار350 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں71 کے بھائو میں اضافہ 258 کے داموں میں کمی اور21 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں پاکستان ٹوبیکو کے بھائو31 روپے بڑھکر1391 روپے اور ایکسائیڈ پاکستان کے بھائو20.29 روپے بڑھکر444.02 روپے ہوگئے جبکہ باٹا پاکستان کے بھائو143.09 روپے کم ہوکر3200.91 روپے اور نیسلے پاکستان کے بھائو100 روپے کم ہوکر8000 روپے ہوگئے۔