فٹبال ورلڈ کپ بیلجیئم نے الجیرین طوفان کا رُخ موڑ دیا 12 سے فتحیاب
متبادل کھلاڑی ٹیم کی ڈھال بن گئے،ابتدا میں برتری حاصل کرنے والی سائیڈ کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا
گروپ ایچ میچ میں مڈ فیلڈر کیون ڈی برین گیند پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، عقب میں الجیرین فارورڈ ریاد محریز موجود۔ فوٹو: اے ایف پی
فٹبال ورلڈ کپ میں بیلجیئم نے الجیرین طوفان کا رخ موڑ دیا، متبادل کھلاڑی ٹیم کی ڈھال بن گئے، الجیریا کو ابتدا میں برتری حاصل کرنے کے باوجود1-2 سے شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔
سفیان فغولی نے28 برس بعد الجیرین سائیڈ کا پہلا ورلڈ کپ گول کیا، دوران میچ میدان میں اتارے جانے والے ماروان فلینی اور ڈرائیز میرٹینز نے ٹیم کو فتح دلائی۔ قبل ازیں پیر کی شب آخری میچ میں امریکا نے گھانا کو 1-2 سے پچھاڑدیا، افریقی ٹیم کے سنبھلنے سے پہلے ہی صرف 29 سیکنڈز میں کلنٹ ڈیمپسی نے میگا ایونٹ کی تاریخ کا پانچواں تیز ترین گول داغا، آخری لمحات میں بنچ سے اٹھ کر آنے والے جان بروکس نے اپنی ٹیم کو فتح دلائی۔
الجیریا نے میچ کے آغاز سے بیلجیئم کو دبائو میں لانے کی پالیسی اپنائی،اس کے ابتدائی حملے پسپا ہوئے تاہم ورٹونگھن کی جانب سے سفیان فغولی کو گیند تک پہنچنے سے روکنے پر الجیریا کو پنالٹی ملی جس پر سفیان نے گول کردیا، یہ ٹیم کا 1986 کے بعد ورلڈ کپ میں پہلا گول ثابت ہوا، آخری مرتبہ دجامیل زیڈین نے نادرن آئرلینڈ کے خلاف میچ میں یہ اعزاز پایا تھا۔ اس طرح ٹیم نے میگا ایونٹ میں 506 منٹ کا وقت بغیر کسی گول کے گزارا، مگر بولیویا کا 517 منٹ کا ریکارڈ صرف 12 منٹ کے فرق سے نہیں ٹوٹ سکا۔
پہلا ہاف الجیریا کے نام رہا مگر وقفے کے بعد بیلجیئم کے کھیل میں واضح فرق نظر آیا، دفاعی کے بجائے جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنے کا فائدہ 70 ویں منٹ میں ملا جب ماروان فیلینی نے ڈی برین کی جانب سے اچھالی گئی گیند کو ہیڈرر پر جال کی راہ دکھاکر مقابلہ برابر کردیا، 80 ویں منٹ میں بیلجیئم کو تب برتری ملی جب ڈرائیز میرٹینز نے الجیرین گول کیپر ایم بولہی کو چکمہ دے کر گیند گولی کی طرح گول پوسٹ میں پہنچا دی، یہ میچ کا بہترین گول ثابت ہوا، الجیریا نے دوبارہ میچ میں واپسی کی بھرپور کوشش کی مگر اختتامی 10 منٹ میں وہ اپنی اس خواہش کو عملی جامہ نہیں پہنا سکا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بیلجیئم کی جانب سے گول کرنے والے فیلینی اور میرٹینز کو بالترتیب46 ویں اور 65 ویں منٹ میں بطورمتبادل میدان میں اتارا گیا تھا۔ یہ گذشتہ چار برس میچ پہلا موقع ہے جب بیلجیئم کی ٹیم آغاز میں خسارے میں جانے کے باوجود فاتح رہی۔ دریں اثنا پیرکی شب گھاناکی ٹیم بلند حوصلے کے ساتھ میدان میں اتری مگر ابھی وہ سنبھلنے بھی نہ پائی تھی کہ خوش فہمی ہوا ہوگئی، کلنٹ ڈیمپسی نے میچ شروع ہونے کی وسل بجنے کے صرف 29 سیکنڈز بعد گیند کو جال میں پہنچا دیا، گھانا کے کھلاڑی حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے، یہ ورلڈ کپ کی تاریخ کا پانچواں تیز ترین گول ہے، سب سے تیز گول ترکی کے حقان شکور نے 2002 میں جنوبی کوریا کے خلاف صرف 11 سیکنڈز میں کیا تھا۔
گھانا کی ٹیم اس صدمے سے فوراً سنبھل گئی اور بڑھ چڑھ کر امریکی گول پوسٹ پر حملے شروع کردیے، پہلے ہاف میں اس کے ہاتھ کوئی کامیابی نہیں لگی مگر دبائو بڑھائے رکھنے کا فائدہ میچ کے اختتام سے 7 منٹ قبل ہوا جب آندرے ایویو نے گول کردیا، مقابلہ ڈرا کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا تھا کہ امریکا کی جانب سے بطور متبادل میدان میں اتارے جانے والے بروکس نے گراہم زوسی کے کارنر پر گیند کو ہیڈ کے ذریعے جال میں ڈال دیا۔ امریکا کی 2-1 سے برتری پر آخری وسل بجی، اس طرح اس نے گھانا سے گذشتہ 2 ورلڈ کپ سے باہر کیے جانے کا بدلہ لے لیا۔
سفیان فغولی نے28 برس بعد الجیرین سائیڈ کا پہلا ورلڈ کپ گول کیا، دوران میچ میدان میں اتارے جانے والے ماروان فلینی اور ڈرائیز میرٹینز نے ٹیم کو فتح دلائی۔ قبل ازیں پیر کی شب آخری میچ میں امریکا نے گھانا کو 1-2 سے پچھاڑدیا، افریقی ٹیم کے سنبھلنے سے پہلے ہی صرف 29 سیکنڈز میں کلنٹ ڈیمپسی نے میگا ایونٹ کی تاریخ کا پانچواں تیز ترین گول داغا، آخری لمحات میں بنچ سے اٹھ کر آنے والے جان بروکس نے اپنی ٹیم کو فتح دلائی۔
الجیریا نے میچ کے آغاز سے بیلجیئم کو دبائو میں لانے کی پالیسی اپنائی،اس کے ابتدائی حملے پسپا ہوئے تاہم ورٹونگھن کی جانب سے سفیان فغولی کو گیند تک پہنچنے سے روکنے پر الجیریا کو پنالٹی ملی جس پر سفیان نے گول کردیا، یہ ٹیم کا 1986 کے بعد ورلڈ کپ میں پہلا گول ثابت ہوا، آخری مرتبہ دجامیل زیڈین نے نادرن آئرلینڈ کے خلاف میچ میں یہ اعزاز پایا تھا۔ اس طرح ٹیم نے میگا ایونٹ میں 506 منٹ کا وقت بغیر کسی گول کے گزارا، مگر بولیویا کا 517 منٹ کا ریکارڈ صرف 12 منٹ کے فرق سے نہیں ٹوٹ سکا۔
پہلا ہاف الجیریا کے نام رہا مگر وقفے کے بعد بیلجیئم کے کھیل میں واضح فرق نظر آیا، دفاعی کے بجائے جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنے کا فائدہ 70 ویں منٹ میں ملا جب ماروان فیلینی نے ڈی برین کی جانب سے اچھالی گئی گیند کو ہیڈرر پر جال کی راہ دکھاکر مقابلہ برابر کردیا، 80 ویں منٹ میں بیلجیئم کو تب برتری ملی جب ڈرائیز میرٹینز نے الجیرین گول کیپر ایم بولہی کو چکمہ دے کر گیند گولی کی طرح گول پوسٹ میں پہنچا دی، یہ میچ کا بہترین گول ثابت ہوا، الجیریا نے دوبارہ میچ میں واپسی کی بھرپور کوشش کی مگر اختتامی 10 منٹ میں وہ اپنی اس خواہش کو عملی جامہ نہیں پہنا سکا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بیلجیئم کی جانب سے گول کرنے والے فیلینی اور میرٹینز کو بالترتیب46 ویں اور 65 ویں منٹ میں بطورمتبادل میدان میں اتارا گیا تھا۔ یہ گذشتہ چار برس میچ پہلا موقع ہے جب بیلجیئم کی ٹیم آغاز میں خسارے میں جانے کے باوجود فاتح رہی۔ دریں اثنا پیرکی شب گھاناکی ٹیم بلند حوصلے کے ساتھ میدان میں اتری مگر ابھی وہ سنبھلنے بھی نہ پائی تھی کہ خوش فہمی ہوا ہوگئی، کلنٹ ڈیمپسی نے میچ شروع ہونے کی وسل بجنے کے صرف 29 سیکنڈز بعد گیند کو جال میں پہنچا دیا، گھانا کے کھلاڑی حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے، یہ ورلڈ کپ کی تاریخ کا پانچواں تیز ترین گول ہے، سب سے تیز گول ترکی کے حقان شکور نے 2002 میں جنوبی کوریا کے خلاف صرف 11 سیکنڈز میں کیا تھا۔
گھانا کی ٹیم اس صدمے سے فوراً سنبھل گئی اور بڑھ چڑھ کر امریکی گول پوسٹ پر حملے شروع کردیے، پہلے ہاف میں اس کے ہاتھ کوئی کامیابی نہیں لگی مگر دبائو بڑھائے رکھنے کا فائدہ میچ کے اختتام سے 7 منٹ قبل ہوا جب آندرے ایویو نے گول کردیا، مقابلہ ڈرا کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا تھا کہ امریکا کی جانب سے بطور متبادل میدان میں اتارے جانے والے بروکس نے گراہم زوسی کے کارنر پر گیند کو ہیڈ کے ذریعے جال میں ڈال دیا۔ امریکا کی 2-1 سے برتری پر آخری وسل بجی، اس طرح اس نے گھانا سے گذشتہ 2 ورلڈ کپ سے باہر کیے جانے کا بدلہ لے لیا۔