نواز شریف کو انتقام بند کرنے کا مشورہ دیا یوسف رضا گیلانی
سندھ اسمبلی میں سابق وزیراعظم کی آمد پر اراکین اسمبلی کی جانب سے زبردست خیرمقدم
سابق وزیر اعظم کا دور نمایاں کاموں کے حوالے سے یاد رہیگا،وزیر اعلیٰ اور اراکین اسمبلی ۔ فوٹو : راشد اجمیری/ ایکسپریس
سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی منگل کو سندھ اسمبلی پہنچے تو ارکان نے ان کا زبردست خیرمقدم کیا۔
یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ سابق چیئرمین سینیٹ فاروق ایچ نائیک، فواد چوہدری اور دیگر رہنما بھی تھے، وہ جیسے گورنر گیلری میں آئے، پیپلز پارٹی کے ارکان نے اپنی ڈیسکوں پر کھڑے ہوکر ان کا والہانہ استقبال کیا جبکہ تمام سرکاری اور اپوزیشن ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کا خیر مقدم کیا،اسپیکر آغا سراج درانی، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور دیگر سرکاری اور اپوزیشن ارکان نے اپنی خیرمقدمی تقریروں میں سید یوسف رضا گیلانی کو شاندار خراج تحسین پیش کیا۔
تقریباً ایک گھنٹے تک سندھ اسمبلی میں خیر مقدمی تقاریر ہوتی رہیں، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ جب یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم بنے تو پاکستان میں بہت مشکل وقت تھا، بے نظیر بھٹو کی شہادت کے سانحہ کی وجہ سے لوگ پاکستان سے بدظن تھے اور پیپلز پارٹی کے کارکن بہت نالاں تھے،اس کے علاوہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اقتصادی بحران تھا لیکن سید یوسف رضا گیلانی کا دور انتہائی نمایاں کاموں کے حوالے سے ہمیشہ یادگار رہے گا،انھوں نے جمہوریت کو مستحکم کیا اور پورے ملک میں ترقیاتی کام کیے، سندھ اسمبلی کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ ابھی تک کچھ قوتوں نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا۔
جمہوری سسٹم کومضبوط کرنے کے لیے پیپلزپارٹی نے میثاق جمہوریت پر85 فیصد عمل کیا لیکن مسلم لیگ (ن )کے غیرسنجیدہ رویے کی وجہ سے مکمل عمل نہ ہوسکا،انھوں نے عوامی تحریک کے مظاہرے پرپولیس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم میاں نواشریف کو سیاسی مخالفین کیلیے انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بند کرنے کا مشورہ دیا،ایک سوال کے جواب میںیوسف رضا گیلانی نے اس توقع کا اظہارکیا کہ عدلیہ ان کی نظرثانی کی اپیل پرجلد فیصلہ کرے گی کیونکہ عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ دیگرنظرثانی کی اپیلوں کی طرح ان کی اپیل کا بھی جلد فیصلہ کیا جائے، علاوہ ازیں کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی وجہ سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں۔
اگر جمہوریت کو کوئی خطرہ ہوا توذمے دار مسلم لیگ(ن)کی حکومت ہوگی کیونکہ وہ اپنے لیے خود خطرہ بن رہی ہے،موجودہ وفاقی حکومت کو اتحادی حکومت چلانے کا کوئی تجربہ نہیں،آپریشن ضرب عضب شروع کرنے کے فیصلے پر حکومت نے تاخیر کی ہے،موجودہ سیاسی منظر نامے سے مطمئن نہیں ہوں، سانحہ لاہور کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے،میرے خلاف کرپشن کے مقدمہ میں ایف آئی اے پر بد نیتی کا مظاہرہ کیا،محمود خان اچکزئی کے بیان کو سنجیدگی سے لینا چاہیے،لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہیں اس واقعے سے پورے ملک میں بے چینی پھیل گئی، انھوں نے کہا کہ ناحق لوگوں کے قتل کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے۔
یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ سابق چیئرمین سینیٹ فاروق ایچ نائیک، فواد چوہدری اور دیگر رہنما بھی تھے، وہ جیسے گورنر گیلری میں آئے، پیپلز پارٹی کے ارکان نے اپنی ڈیسکوں پر کھڑے ہوکر ان کا والہانہ استقبال کیا جبکہ تمام سرکاری اور اپوزیشن ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کا خیر مقدم کیا،اسپیکر آغا سراج درانی، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور دیگر سرکاری اور اپوزیشن ارکان نے اپنی خیرمقدمی تقریروں میں سید یوسف رضا گیلانی کو شاندار خراج تحسین پیش کیا۔
تقریباً ایک گھنٹے تک سندھ اسمبلی میں خیر مقدمی تقاریر ہوتی رہیں، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ جب یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم بنے تو پاکستان میں بہت مشکل وقت تھا، بے نظیر بھٹو کی شہادت کے سانحہ کی وجہ سے لوگ پاکستان سے بدظن تھے اور پیپلز پارٹی کے کارکن بہت نالاں تھے،اس کے علاوہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اقتصادی بحران تھا لیکن سید یوسف رضا گیلانی کا دور انتہائی نمایاں کاموں کے حوالے سے ہمیشہ یادگار رہے گا،انھوں نے جمہوریت کو مستحکم کیا اور پورے ملک میں ترقیاتی کام کیے، سندھ اسمبلی کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ ابھی تک کچھ قوتوں نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا۔
جمہوری سسٹم کومضبوط کرنے کے لیے پیپلزپارٹی نے میثاق جمہوریت پر85 فیصد عمل کیا لیکن مسلم لیگ (ن )کے غیرسنجیدہ رویے کی وجہ سے مکمل عمل نہ ہوسکا،انھوں نے عوامی تحریک کے مظاہرے پرپولیس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم میاں نواشریف کو سیاسی مخالفین کیلیے انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بند کرنے کا مشورہ دیا،ایک سوال کے جواب میںیوسف رضا گیلانی نے اس توقع کا اظہارکیا کہ عدلیہ ان کی نظرثانی کی اپیل پرجلد فیصلہ کرے گی کیونکہ عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ دیگرنظرثانی کی اپیلوں کی طرح ان کی اپیل کا بھی جلد فیصلہ کیا جائے، علاوہ ازیں کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی وجہ سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں۔
اگر جمہوریت کو کوئی خطرہ ہوا توذمے دار مسلم لیگ(ن)کی حکومت ہوگی کیونکہ وہ اپنے لیے خود خطرہ بن رہی ہے،موجودہ وفاقی حکومت کو اتحادی حکومت چلانے کا کوئی تجربہ نہیں،آپریشن ضرب عضب شروع کرنے کے فیصلے پر حکومت نے تاخیر کی ہے،موجودہ سیاسی منظر نامے سے مطمئن نہیں ہوں، سانحہ لاہور کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے،میرے خلاف کرپشن کے مقدمہ میں ایف آئی اے پر بد نیتی کا مظاہرہ کیا،محمود خان اچکزئی کے بیان کو سنجیدگی سے لینا چاہیے،لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہیں اس واقعے سے پورے ملک میں بے چینی پھیل گئی، انھوں نے کہا کہ ناحق لوگوں کے قتل کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے۔