پاکستان آئندہ برس یو اے ای میں سپر لیگ کیلئے کوشاں
رواں سال کسی غیرملکی ٹیم کی آمد کا کوئی امکان باقی نہیں رہا، چیئرمین پی سی بی
جنوری 2015 میں شیڈول ایونٹ کیلیے ٹینڈرز جلد طلب کیے جائینگے، چیئرمین پی سی بی۔ فوٹو: فائل ۔ فوٹو: اے پی پی/فائل
ISLAMABAD/WASHINGTON:
پاکستان مسائل کے باوجود آئندہ سال یو اے ای میں سپر لیگ کے انعقاد کیلیے کوشاں ہے، چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کے مطابق جنوری 2015 میں شیڈول ایونٹ کیلیے ٹینڈرز جلد طلب کیے جائینگے۔
برطانوی ویب سائٹ کو انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ رواں سال کسی غیر ملکی ٹیم کی پاکستان آمد کا کوئی امکان باقی نہیں رہا،انگلش بورڈ کے سربراہ جائلز کلارک کی معاونت سے ستمبر میں آئرش ٹیم کو ون ڈے سیریز کیلیے بلانے کی راہ ہموار ہوچکی تھی، حکومت کی طرف سے این او سی ملنے کے بعد معاہدے پر دستخط بھی ہوجاتے لیکن کراچی ایئرپورٹ پر حملے نے معاملہ سرد خانے میں ڈال دیا، نجم سیٹھی نے کہا کہ سری لنکن بورڈ کے ساتھ بات چیت چل رہی تھی لیکن ان کی طرف سے بھی اب کسی اچھی خبر کا انتظار نہیں کیا جا سکتا، نیدر لینڈز سے اے ٹیموں کی مجوزہ سیریز کے بھی امکانات باقی نہیں رہے۔
چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ اگر آئندہ سال کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ نہ ہو اور کوئی انٹرنیشنل ٹیم پاکستان آنے کی حامی بھرلے تو بڑی خوش قسمتی کی بات ہوگی۔ ایک سوال پر نجم سیٹھی نے کہا کہ سینٹرل کنٹریکٹ میں ایک سال کی پرفارمنس کو سامنے رکھنا اہم تھا لیکن ماضی اور سنیارٹی کو بھی یکسر نظر انداز نہیں کرسکتے۔
کیریبیئن لیگ کیلیے این اوسی جاری کرنے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ کرکٹرز کی مختلف لیگز میں شرکت کیلیے حوصلہ افزائی کے حق میں ہوں،اس سے اچھا تجربہ حاصل ہوتا ہے لیکن معاہدے کے تحت کھلاڑیوں کی پہلی ترجیح قومی ذمہ داریاں ہونی چاہیں۔ انھوں نے کہا کہ رواں سال جنوری سے مجھے بطور چیئرمین پی سی بی مکمل اختیارات کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا،4ماہ کی توسیع ملنے کے بعد چند ہفتوں میں جمہوری آئین کے تحت الیکشن کرانا چاہتا ہوں، پاکستان کرکٹ کو جن خطوط پر استوار کیا جارہا ہے اگر ان پر چلتے رہے تو 2سال میں بہتر نتائج سامنے آنے لگیں گے۔
پاکستان مسائل کے باوجود آئندہ سال یو اے ای میں سپر لیگ کے انعقاد کیلیے کوشاں ہے، چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کے مطابق جنوری 2015 میں شیڈول ایونٹ کیلیے ٹینڈرز جلد طلب کیے جائینگے۔
برطانوی ویب سائٹ کو انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ رواں سال کسی غیر ملکی ٹیم کی پاکستان آمد کا کوئی امکان باقی نہیں رہا،انگلش بورڈ کے سربراہ جائلز کلارک کی معاونت سے ستمبر میں آئرش ٹیم کو ون ڈے سیریز کیلیے بلانے کی راہ ہموار ہوچکی تھی، حکومت کی طرف سے این او سی ملنے کے بعد معاہدے پر دستخط بھی ہوجاتے لیکن کراچی ایئرپورٹ پر حملے نے معاملہ سرد خانے میں ڈال دیا، نجم سیٹھی نے کہا کہ سری لنکن بورڈ کے ساتھ بات چیت چل رہی تھی لیکن ان کی طرف سے بھی اب کسی اچھی خبر کا انتظار نہیں کیا جا سکتا، نیدر لینڈز سے اے ٹیموں کی مجوزہ سیریز کے بھی امکانات باقی نہیں رہے۔
چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ اگر آئندہ سال کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ نہ ہو اور کوئی انٹرنیشنل ٹیم پاکستان آنے کی حامی بھرلے تو بڑی خوش قسمتی کی بات ہوگی۔ ایک سوال پر نجم سیٹھی نے کہا کہ سینٹرل کنٹریکٹ میں ایک سال کی پرفارمنس کو سامنے رکھنا اہم تھا لیکن ماضی اور سنیارٹی کو بھی یکسر نظر انداز نہیں کرسکتے۔
کیریبیئن لیگ کیلیے این اوسی جاری کرنے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ کرکٹرز کی مختلف لیگز میں شرکت کیلیے حوصلہ افزائی کے حق میں ہوں،اس سے اچھا تجربہ حاصل ہوتا ہے لیکن معاہدے کے تحت کھلاڑیوں کی پہلی ترجیح قومی ذمہ داریاں ہونی چاہیں۔ انھوں نے کہا کہ رواں سال جنوری سے مجھے بطور چیئرمین پی سی بی مکمل اختیارات کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا،4ماہ کی توسیع ملنے کے بعد چند ہفتوں میں جمہوری آئین کے تحت الیکشن کرانا چاہتا ہوں، پاکستان کرکٹ کو جن خطوط پر استوار کیا جارہا ہے اگر ان پر چلتے رہے تو 2سال میں بہتر نتائج سامنے آنے لگیں گے۔