سلطان جوہر کپ ہاکی تربیتی کیمپ کی سیکیورٹی مزید سخت اضافی گارڈز تعینات
کسی بھی غیر متعلقہ شخص کواسٹیڈیم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں
کھلاڑیوں اور آفیشلز کے تحفظ کیلیے اضافی گارڈز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ فوٹو: فائل
سلطان جوہر کپ انٹرنیشنل ٹورنامنٹ کی تیاری کیلیے جاری کیمپ کے دوران سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔
کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو ہاکی کلب آف پاکستان اسٹیڈیم کراچی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں، کھلاڑیوں اور آفیشلز کے تحفظ کیلیے اضافی گارڈز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے، ایک کوچ اولمپئن اخلاق احمد نے ہنوز اپنی ذمہ داریاں نہیں سنبھالیں۔ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن اولمپئن افتخار سید کے مطابق ایئر پورٹ پر حملے کے بعد کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلیے سیکیورٹی کے انتظامات پر خاص توجہ دی جا رہی ہے، کسی بھی غیر متعلقہ فرد کو اسٹیڈیم میں داخلے کی اجازت نہیں،کھلاڑیوں اور آفیشلز کے تحفظ کیلیے اضافی گارڈز تعینات کیے گئے ہیں، یاد رہے کہ قومی جونیئر ٹیم کے منیجر اور کمانڈنٹ اولمپئن منظور الحسن کی زیر نگرانی کیمپ میں ملک بھر سے55کھلاڑی شرکت کر رہے ہیں۔
پی ایچ ایف کی طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت جاری کیمپ کا بنیادی مقصد باصلاحیت اور ہونہارپلیئرز کو مستقبل کے چیلنجز کیلیے تیار کرنا ہے، ٹریننگ کا سلسلہ مکمل ہونے کے بعد جوہر کپ ٹورنامنٹ کیلیے قومی جونیئر ٹیم کا انتخاب عمل میں آئے گا، ایونٹ 12سے19 اکتوبر تک ملائیشیا کے شہر جوہر بارو میں شیڈول ہے۔ اپنے دور کے عظیم فل بیک اور کیمپ کمانڈنٹ منظور سینئر کا کہنا ہے کہ کیمپ میں شریک کھلاڑی بھر پور فارم میں ہیں، میرے ہمراہ موجود معاون کوچز اولمپئنز قمر ابراہیم،کامران اشرف، محمد عرفان اور سابق کپتان ریحان بٹ کھلاڑیوں کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں،کیمپ میں روزانہ صبح اور شام کے سیشن میں کھلاڑیوں کی تکنیک میں بہتری لانے کے ساتھ ان کی فزیکل فٹنس کو بھی بہتر بنانے کی کوشش ہو رہی ہے، انھوں نے کیمپ کی کراچی منتقلی کو سود مند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کا موسم ٹریننگ کیلیے موزوں ہے۔
منظور سینئر کے مطابق کیمپ کا پہلا مرحلہ 28جون تک جاری رہے گا، رمضان المبارک کے بعد ستمبر کے پہلے ہفتے میں دوسرے مرحلے کا آغاز ہوگا جس میں کھلاڑیوں کی تعداد کم کرکے 35کردی جائیگی،اس موقع پر خصوصی فزیکل ٹرینرکا بھی اہتمام کیا جائیگا۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، اصل مسئلہ ٹیلنٹ کو سامنے لاکر صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنا ہے۔ دریں اثنا معلوم ہوا ہے کہ قومی جونیئر تربیتی کیمپ کے ایک کوچ اولمپئن اخلاق احمد نے ہنوز اپنی ذمہ داریاں نہیں سنبھالیں،نہ ہی اس حوالے سے پی ایچ ایف کو کوئی علم ہے، دوسری جانب فیڈریشن نے قومی امپائر شاہد پرویز اور کامران رئیس کو کیمپ کیلیے ذمہ داریاں تفویض کر دی ہیں۔
کیمپ میں شریک کھلاڑیوں میں گول کیپر منیب الرحمان (ریلویز)، طلال (واپڈا)، نعمان( اسلام آباد)، عدیل راؤ(پنجاب)، حافظ علی عمیر(پاکستان بورڈ)، اویس(پنجاب کلرز)، واجد علی(کسٹمز)، علی رضا (این بی پی) اور کاشف(آرمی)، فل بیکس مبشر علی اور عابد بھٹی(این بی پی)، شاہ فیصل( پنجاب کلرز)،متین(کسٹمز)، حافظ عامرطیب (ریلویز)، ایم احد( واپڈا)، اعجاز الحق( لاہور)، حسن محمد انور(پنجاب)، علی شیر (اسلام آباد)، عاطف محمود(پی آئی اے)اور نعمان (ریلویز)، ہاف سکندر مصطفیٰ، محمد جنید کمال اور خضر اختر(این بی پی)، نایاب حیدر غضنفر اور وسیم عباس ( واپڈا)، ابوبکر( پی آئی اے)،قاسم (پنجاب کلرز) ، قاسم اور عاصم جنتی(پنجاب کلرز)، اظہر حسین(آرمی)، ارسلان ظفر ( گوجرہ)، علی حیدر رضا اور زاہد غفور(لاہور)، فارورڈز محمد اظفر یعقوب، عامر،الیاس، نویز زاہد ملک(پی آئی اے)، محمد عتیق، شان ارشد( این بی پی)، سمیع اللہ( کے پی کے)، مرزا عامر بیگ(واپڈا)، شاہ جہاں علی رضا، محسن صابر اور آصف (پنجاب)، بلال اور نوید (واپڈا)، ارسلان، سرحان ( کسٹمز)، اسفند( بلوچستان)، سہیل عباس اور نعمان وہاب (کراچی)، شرجیل اور حماد (سندھ)، عبدالصبور(قصور) شامل ہیں۔
کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو ہاکی کلب آف پاکستان اسٹیڈیم کراچی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں، کھلاڑیوں اور آفیشلز کے تحفظ کیلیے اضافی گارڈز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے، ایک کوچ اولمپئن اخلاق احمد نے ہنوز اپنی ذمہ داریاں نہیں سنبھالیں۔ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن اولمپئن افتخار سید کے مطابق ایئر پورٹ پر حملے کے بعد کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلیے سیکیورٹی کے انتظامات پر خاص توجہ دی جا رہی ہے، کسی بھی غیر متعلقہ فرد کو اسٹیڈیم میں داخلے کی اجازت نہیں،کھلاڑیوں اور آفیشلز کے تحفظ کیلیے اضافی گارڈز تعینات کیے گئے ہیں، یاد رہے کہ قومی جونیئر ٹیم کے منیجر اور کمانڈنٹ اولمپئن منظور الحسن کی زیر نگرانی کیمپ میں ملک بھر سے55کھلاڑی شرکت کر رہے ہیں۔
پی ایچ ایف کی طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت جاری کیمپ کا بنیادی مقصد باصلاحیت اور ہونہارپلیئرز کو مستقبل کے چیلنجز کیلیے تیار کرنا ہے، ٹریننگ کا سلسلہ مکمل ہونے کے بعد جوہر کپ ٹورنامنٹ کیلیے قومی جونیئر ٹیم کا انتخاب عمل میں آئے گا، ایونٹ 12سے19 اکتوبر تک ملائیشیا کے شہر جوہر بارو میں شیڈول ہے۔ اپنے دور کے عظیم فل بیک اور کیمپ کمانڈنٹ منظور سینئر کا کہنا ہے کہ کیمپ میں شریک کھلاڑی بھر پور فارم میں ہیں، میرے ہمراہ موجود معاون کوچز اولمپئنز قمر ابراہیم،کامران اشرف، محمد عرفان اور سابق کپتان ریحان بٹ کھلاڑیوں کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں،کیمپ میں روزانہ صبح اور شام کے سیشن میں کھلاڑیوں کی تکنیک میں بہتری لانے کے ساتھ ان کی فزیکل فٹنس کو بھی بہتر بنانے کی کوشش ہو رہی ہے، انھوں نے کیمپ کی کراچی منتقلی کو سود مند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کا موسم ٹریننگ کیلیے موزوں ہے۔
منظور سینئر کے مطابق کیمپ کا پہلا مرحلہ 28جون تک جاری رہے گا، رمضان المبارک کے بعد ستمبر کے پہلے ہفتے میں دوسرے مرحلے کا آغاز ہوگا جس میں کھلاڑیوں کی تعداد کم کرکے 35کردی جائیگی،اس موقع پر خصوصی فزیکل ٹرینرکا بھی اہتمام کیا جائیگا۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، اصل مسئلہ ٹیلنٹ کو سامنے لاکر صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنا ہے۔ دریں اثنا معلوم ہوا ہے کہ قومی جونیئر تربیتی کیمپ کے ایک کوچ اولمپئن اخلاق احمد نے ہنوز اپنی ذمہ داریاں نہیں سنبھالیں،نہ ہی اس حوالے سے پی ایچ ایف کو کوئی علم ہے، دوسری جانب فیڈریشن نے قومی امپائر شاہد پرویز اور کامران رئیس کو کیمپ کیلیے ذمہ داریاں تفویض کر دی ہیں۔
کیمپ میں شریک کھلاڑیوں میں گول کیپر منیب الرحمان (ریلویز)، طلال (واپڈا)، نعمان( اسلام آباد)، عدیل راؤ(پنجاب)، حافظ علی عمیر(پاکستان بورڈ)، اویس(پنجاب کلرز)، واجد علی(کسٹمز)، علی رضا (این بی پی) اور کاشف(آرمی)، فل بیکس مبشر علی اور عابد بھٹی(این بی پی)، شاہ فیصل( پنجاب کلرز)،متین(کسٹمز)، حافظ عامرطیب (ریلویز)، ایم احد( واپڈا)، اعجاز الحق( لاہور)، حسن محمد انور(پنجاب)، علی شیر (اسلام آباد)، عاطف محمود(پی آئی اے)اور نعمان (ریلویز)، ہاف سکندر مصطفیٰ، محمد جنید کمال اور خضر اختر(این بی پی)، نایاب حیدر غضنفر اور وسیم عباس ( واپڈا)، ابوبکر( پی آئی اے)،قاسم (پنجاب کلرز) ، قاسم اور عاصم جنتی(پنجاب کلرز)، اظہر حسین(آرمی)، ارسلان ظفر ( گوجرہ)، علی حیدر رضا اور زاہد غفور(لاہور)، فارورڈز محمد اظفر یعقوب، عامر،الیاس، نویز زاہد ملک(پی آئی اے)، محمد عتیق، شان ارشد( این بی پی)، سمیع اللہ( کے پی کے)، مرزا عامر بیگ(واپڈا)، شاہ جہاں علی رضا، محسن صابر اور آصف (پنجاب)، بلال اور نوید (واپڈا)، ارسلان، سرحان ( کسٹمز)، اسفند( بلوچستان)، سہیل عباس اور نعمان وہاب (کراچی)، شرجیل اور حماد (سندھ)، عبدالصبور(قصور) شامل ہیں۔