سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور حکومت ان امور پر بھی سوچے

اس سانحے کے بعد ہماری پولیس کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔۔۔

اس سانحے کے بعد ہماری پولیس کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے فوٹو: ایکسپریس

سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور کے مابعد اثرات یہ برآمد ہوئے ہیں کہ پنجاب حکومت نے ڈی آئی جی آپریشنزرانا عبدالجبار' سی سی پی او لاہور چوہدری شفیق احمد اور ایس پی ماڈل ٹائون طارق عزیز کو او ایس ڈی بنا دیا ہے۔ ملک کے سیاسی و سماجی حلقے اس سانحے کی تاحال پر زور مذمت کر رہے ہیں۔ بہر حال پنجاب حکومت نے اعلیٰ پولیس افسروں کو او ایس ڈی بنا کر درست سمت میں قدم اٹھایا ہے۔ حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی جوڈیشل کمیشن بھی تشکیل دیا ہے جو اس سارے معاملے کی تحقیقات کرے گا۔ ادھر سانحہ ماڈل ٹائون کے مقتولین کی نماز جنازہ گزشتہ روز ادا کر دی گئی۔

یہ سب کچھ پرامن انداز میں ہوا' اس پر عوامی تحریک اور دیگر سیاسی قائدین کی تعریف کی جانی چاہیے کہ انھوں نے اس سانحے پر سیاست نہیں کی' ورنہ خدشہ تھا کہ مقتولین کی نماز جنازہ کے موقع پر بھی کوئی ہنگامہ نہ ہو جائے۔ اگر حکومت اس سانحے سے پہلے معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لیتی اور عدالت سے احکامات لے کر منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے باہر سے رکاوٹیں ہٹاتی تو یہ افسوسناک سانحہ رونما نہ ہوتااور پنجاب حکومت بدنامی سے بچ جاتی۔اب بھی بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر حکومت کو توجہ دینی چاہیے' ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ فیصل ٹائون پولیس نے 7 افراد کے خلاف مختلف دفعات جن میں دہشت گردی کی دفعہ بھی شامل ہے کا مقدمہ درج کیا ہے۔


اخباری اطلاعات کے مطابق ان افراد کا تعلق عوامی تحریک سے ہے' حیران کن امر یہ ہے کہ ان سطور کے لکھے جانے تک کسی پولیس افسر یا اہلکار کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا ۔حکومت کو اس حوالے سے اپنے طرز عمل پر ضرور غور کرنا چاہیے اور معاملے کی حساسیت کو سامنے رکھ کر اس سانحہ کی تحقیقات کرنی چاہیے۔ گلو بٹ نامی پولیس ٹائوٹ اور مسلم لیگ ن کے سرگرم رکن کے خلاف معمولی دفعات کے تحت پرچہ درج ہوا ہے ۔اطلاعات کے مطابق یہ تمام دفعات قابل ضمانت ہیں۔ اس سارے معاملے کی تحقیق و تفتیش چونکہ پولیس ہی کر رہی ہے لہٰذا وہ کوئی ایسا کام نہیں کرے گی جس کے تحت ان پر حرف آئے۔ ایک ایسا شخص جس کے جرائم تقریباً ہر ٹی وی چینل پر دکھائے گئے ' اس پر معمولی دفعات کے تحت مقدمہ کرنے سے عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات جنم لیں گے جس سے حکومت کی ساکھ متاثر ہوگی۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ اس کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہو تا۔ اس کا مقدمہ بھی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں چلایا جانا چاہیے، اس کے ہنڈلرز کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے' اس سانحے کے بعد ہماری پولیس کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ معاشرے کے بدنام افراد کو ٹائوٹ بنانا اور ان سے غیر قانونی کام لینا' پولیس کی ساکھ کے لیے زہر قاتل ہے' یہی وجہ ہے کہ پنجاب پولیس جرائم ختم کرنے کے بجائے اسے پروان چڑھانے کا باعث بن رہی ہے اور وہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بھی نہیں ہے۔ اگر پولیس کے اعلیٰ افسر ایسے افراد کی سرپرستی کریں گے تو پولیس تھانے کیسے عوام کو انصاف فراہم کریں گے اور وہ دہشت گردی کا کیسے مقابلہ کریںگے' ان پہلو پر بھی حکومت کے اعلیٰ دماغوں کو ضرور سوچنا چاہیے۔
Load Next Story