خطرناک ڈچ سونامی آسٹریلیا کو بہا لے گیا

3-2 سے فاتح ٹیم کی ناک آئوٹ مرحلے میں رسائی، ناکام سائیڈ نے واپسی کیلیے سامان باندھنے کیلئے کمر کس لی

3-2 سے فاتح ٹیم کی ناک آئوٹ مرحلے میں رسائی، ناکام سائیڈ نے واپسی کیلیے سامان باندھنے کیلئے کمر کس لی۔ فوٹو: اے ایف پی

ISLAMABAD:
فٹبال ورلڈکپ میں خطرناک ڈچ سونامی آسٹریلیا کو بہا لے گیا،3-2سے فاتح ٹیم نے ناک آئوٹ مرحلے میں رسائی حاصل کرلی، ناکام سائیڈ واپسی کے لیے سامان باندھنے کے قریب پہنچ گئی۔

نیدرلینڈزکی جانب سے ارجین روبین، روبن وین پرسی اور ممفس ڈیپے نے گیند جال میں پہنچائی، حریف کی جانب ٹم چاہل اور مائل جیڈنیک نے گول کیے۔ پرسی اور چاہل دوسرے یلو کارڈ کا نظارہ کرنے کے بعد آخری گروپ میچز سے باہر ہوگئے۔ قبل ازیں منگل کی شب جنوبی کوریا اور روس کا مقابلہ1-1 گول سے برابر رہا، گول کیپر آئیگور آئیکنفوف کی سنگین غلطی نے کورین ٹیم کو غالب آنے کا موقع فراہم کیا،آخری لمحات میں الیگزینڈر کرزاکوف نے روس کو شکست کے منہ سے باہر نکالا۔

تفصیلات کے مطابق نیدرلینڈز اور آسٹریلیا نے آغاز ہی سے ایک دوسرے کو دبائو میں لانے کی کوششیں شروع کردیں، دونوں جانب سے کئی حملے بھی کیے گئے مگر کوئی بھی خطرناک ثابت نہیں ہوا،20 ویں منٹ میں ارجین روبین نے گیند ہاف لائن کے قریب سے اپنے کنٹرول میںکی اور تیزی سے حریف گول پوسٹ کی جانب لپکے، انھوں نے راستے میںآنے والے ولکنسن کو خوبصورت انداز میں ڈاج دیا اور سیدھے باکس میں گھس گئے، پھر گول کیپر ریان کو بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے گیند جال میں ڈال دی۔


یہ ان کا رواں ورلڈ کپ میں تیسرا گول ہے جبکہ 77 انٹرنیشنل مقابلوں میں26 ویں بار گیند کو جال کی راہ دکھائی، اس طرح وہ نیدرلینڈز کی جانب سے سب سے زیادہ گول کرنے والے فٹبالرز کی فہرست میں دسویںنمبر پر آگئے، ٹاپ پر روبن وین پرسی 46 گولز کے ساتھ موجود ہیں۔ ابھی روبن کے گول کا نیدرلینڈز نے اچھی طرح جشن بھی نہیں منایا تھا کہ آسٹریلیا کے منجھے ہوئے فٹبالر ٹم چاہل نے ایک منٹ میں ہی حساب چکتاکردیا، وقفے سے قبل2 مختلف واقعات میں چاہل اور ڈچ پلیئر روبن وین پرسی کو یلو کارڈز دکھائے گئے، دوسری بار اس خفت کا شکار ہونے کے سبب دونوں اپنی اپنی ٹیم کا آخری گروپ میچ نہیں کھیل پائیں گے۔

54 ویں منٹ پر مائل جیڈنیک نے آسٹریلیا کو 2-1 کی برتری دلائی تاہم روبن وین پرسی نے صرف چار منٹ بعد مقابلہ پھر برابر کردیا،68 ویں منٹ میں ممفس ڈیپے نے ڈچ سائیڈ کو 3-2 سے برتری دلادی، اسی اسکور پر میچ کا اختتام ہوا۔ دریں اثنا روس اور جنوبی کوریا کا میچ1-1 گول سے برابر رہا، اس کا شمار بھی موجودہ ورلڈ کپ کے بے لطف مقابلوں میں سے ہی ہوگا، پہلے ہاف کے دوران کوریا کا پلڑہ بھاری رہا،مڈ فیلڈ نے چند اچھے موو بنائے، ہان کوک ینگ اور کی سنگ یونگ نے گول پوسٹ پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی مگر کامیابی نہیںملی، ہاف ٹائم کے بعد کھیل کی رفتار کو دیکھتے ہوئے محسوس ہونے لگا کہ یہ 24 گھنٹوں میں تیسرا ڈرا میچ ثابت ہونے والا ہے، تھوڑی تیزی لانے کے لیے کورین کوچ ہونگ منگ بو نے پارک کی جگہ لی کیون ہو کو میدان میں اتارا۔

کوریائی ٹیم نے حسب روایت شور زیادہ مچایا ہوا تھا جبکہ ان کے کھیل میں ویسادم خم دکھائی نہیں دے رہا،اس لیے جب اچانک روس کے خلاف گول ہوا تو پوری ٹیم اسی طرح حیران رہ گئی جس طرح روس کے کھلاڑی ہوئے، متبادل کھلاڑی لی کیون ہو کی 30 میٹر کے فاصلے سے لگائی گئی شوٹ روسی گول کیپر آئیگور آئیکنفوف کے سر کے اوپر سے جال میں چلی گئی، وہ گیندکو آسانی سے دبوچ سکتے تھے مگر سنگین غلطی ٹیم کے لیے کافی بھاری ثابت ہوئی۔ آخر میں روس کی مدد کے لیے الیگزینڈر کرزاکوف میدان میں آئے، وہ آخری مرتبہ 2002 میں ورلڈ کپ کھیلنے والی روسی ٹیم کا بھی حصہ تھے، انھوں نے گیند کو جال میں پہنچاکر مقابلہ برابر کردیا۔
Load Next Story