عراق میں پرتشدد کارروائیاں امن کے لیے خطرہ
شدت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان بعقوبہ کے مقام پر جنگ جاری ہے...
شدت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان بعقوبہ کے مقام پر جنگ جاری ہے فوٹو:فائل
عراق میں باغیوں کی شورش بڑھتی جا رہی ہے اور تازہ اطلاعات کے مطابق عراق میں باغیوں نے ملک میں تیل کے سب سے بڑے کارخانے پر قبضہ کر لیا ہے جب کہ مغربی شہر رمادی میں بھی جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق و شام ''داعش'' کے جنگجوئوں نے صبح 4 بجے دارالحکومت بغداد سے شمال کی جانب 210 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بیجی آئل ریفائنری کے تین میں سے دو مرکزی دروازوں پر حملہ کیا اور اندر داخل ہو گئے اور کارخانے کے 75 فیصد حصے پر قبضہ کرلیا۔
اطلاعات کے مطابق وہاں موجود تیل کے ذخائر کو نقصان پہنچا ہے۔ دوسری جانب شدت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان بعقوبہ کے مقام پر جنگ جاری ہے جہاں شیعہ جنگجوئوں نے سیکیورٹی فورسز کے ہمراہ مل کر انھیں پسپا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ادھر عسکریت پسندوں نے موصل میں تعمیراتی کمپنی سے جان بچا کر محفوظ مقام پر منتقلی کے لیے نکلنے والے چالیس بھارتی مزدوروں کو اغوا کر لیا ہے، بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اغوا ہونے والے مزدوروں سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہو رہا اور ان میں زیادہ تعداد بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔
دریں اثنا امریکی حکام نے اے پی کو بتایا کہ امریکا عراق میں سیکیورٹی فورسز کی تربیت کے لیے مختصر پیمانے پر اسپیشل فورسز کی چھوٹی چھوٹی کارروائیوں کے بارے میں غور کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے ''او آئی سی'' کے وزرائے خارجہ کی جدہ میں ہونے والی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عراق کی صورتحال سے خانہ جنگی کے اشارے مل رہے ہیں، سعودی عرب خطے کی صورتحال سے متعلق اپنے مسلمہ موقف پر قائم ہے۔
اس پیرائے میں لندن میں دارالعوام سے برطانوی وزیر اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ عراق یا شام میں لڑائی سے برطانیہ کا کوئی تعلق نہیں، مجھے اس سے اختلاف ہے اور اگر عراق میں ان کی حکومت قائم ہو گئی تو وہ برطانیہ پر اثرانداز ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایس آئی ایس شام اور عراق کے بعد برطانیہ کی سیکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ڈیوڈ کیمرون نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ یہ خطرہ افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ جہادیوں کی واپسی کے خطرے سے زیادہ بڑا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم شہریوں کو عراق یا شام جانے سے روک رہے ہیں اور ان سے پاسپورٹ واپس لیے جا رہے ہیں۔
ان ممالک میں فوجی مداخلت دہشت گردی کا واحد حل نہیں۔ ڈیوڈ کیمرون کی اس بات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ متاثرہ خطے کے ممالک کے حکمرانوں کو طویل المدتی اور صبر آزما پالیسی بنانا ہو گی اور اپنے علاقے میں شدت پسندی کے لیے موجود گنجائش کو ختم کرنا ہو گا۔ عراق اور شام جیسے ممالک میں باغیوں کی بڑھتی ہوئی شورش نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔ اس سلسلے میں راست اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
اطلاعات کے مطابق وہاں موجود تیل کے ذخائر کو نقصان پہنچا ہے۔ دوسری جانب شدت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان بعقوبہ کے مقام پر جنگ جاری ہے جہاں شیعہ جنگجوئوں نے سیکیورٹی فورسز کے ہمراہ مل کر انھیں پسپا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ادھر عسکریت پسندوں نے موصل میں تعمیراتی کمپنی سے جان بچا کر محفوظ مقام پر منتقلی کے لیے نکلنے والے چالیس بھارتی مزدوروں کو اغوا کر لیا ہے، بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اغوا ہونے والے مزدوروں سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہو رہا اور ان میں زیادہ تعداد بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔
دریں اثنا امریکی حکام نے اے پی کو بتایا کہ امریکا عراق میں سیکیورٹی فورسز کی تربیت کے لیے مختصر پیمانے پر اسپیشل فورسز کی چھوٹی چھوٹی کارروائیوں کے بارے میں غور کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے ''او آئی سی'' کے وزرائے خارجہ کی جدہ میں ہونے والی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عراق کی صورتحال سے خانہ جنگی کے اشارے مل رہے ہیں، سعودی عرب خطے کی صورتحال سے متعلق اپنے مسلمہ موقف پر قائم ہے۔
اس پیرائے میں لندن میں دارالعوام سے برطانوی وزیر اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ عراق یا شام میں لڑائی سے برطانیہ کا کوئی تعلق نہیں، مجھے اس سے اختلاف ہے اور اگر عراق میں ان کی حکومت قائم ہو گئی تو وہ برطانیہ پر اثرانداز ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایس آئی ایس شام اور عراق کے بعد برطانیہ کی سیکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ڈیوڈ کیمرون نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ یہ خطرہ افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ جہادیوں کی واپسی کے خطرے سے زیادہ بڑا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم شہریوں کو عراق یا شام جانے سے روک رہے ہیں اور ان سے پاسپورٹ واپس لیے جا رہے ہیں۔
ان ممالک میں فوجی مداخلت دہشت گردی کا واحد حل نہیں۔ ڈیوڈ کیمرون کی اس بات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ متاثرہ خطے کے ممالک کے حکمرانوں کو طویل المدتی اور صبر آزما پالیسی بنانا ہو گی اور اپنے علاقے میں شدت پسندی کے لیے موجود گنجائش کو ختم کرنا ہو گا۔ عراق اور شام جیسے ممالک میں باغیوں کی بڑھتی ہوئی شورش نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔ اس سلسلے میں راست اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔