خاتون رکن قومی اسمبلی پر قاتلانہ حملہ
طاہرہ آصف پر حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاہور میں دہشت گرد‘ جرائم پیشہ عناصر اور ٹارگٹ کلر موجود ہیں...
طاہرہ آصف پر حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاہور میں دہشت گرد‘ جرائم پیشہ عناصر اور ٹارگٹ کلر موجود ہیں۔ فوٹو:فائل
ایم کیو ایم کی خاتون رکن قومی اسمبلی طاہرہ آصف پر لاہور کے معروف اور پررونق علاقے علامہ اقبال ٹائون میں دن دیہاڑے حملہ حکومت پنجاب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ واقعات کے مطابق محترمہ طاہرہ آصف گاڑی پر اپنی بیٹی اور ڈرائیور کے ساتھ اسلام آباد جانے کے لیے گھر سے نکلیں، علامہ اقبال ٹاؤن لاہور کے مین بلیوارڈ پر موٹر سائیکل سوار نا معلوم افراد نے فائرنگ کر دی۔
طاہرہ آصف کے شوہر مسٹر آصف نے کہا کہ یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملزموں کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے طاہرہ کو شناخت کر کے گولیاں ماری گئیں، انھیں کئی ماہ سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔
ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پنجاب میں ایم کیو ایم کو خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔ طاہرہ آصف پر حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاہور میں دہشت گرد' جرائم پیشہ عناصر اور ٹارگٹ کلر موجود ہیں اور وہ اب کارروائیاں بھی کر رہے ہیں۔ حکومت پنجاب کو طاہرہ آصف پر حملے کے ملزموں کو جلد از جلد گرفتار کرنا چاہیے تا کہ پتہ چل سکے کہ ان مجرموں کا تعلق کس دہشت گرد گروپ سے ہے یا جرائم پیشہ افراد کے کسی گینگ کا کام ہے۔ معاملہ خواہ کچھ بھی ہو' اصل ملزم ضرور سامنے آنے چاہئیں۔
طاہرہ آصف کے شوہر مسٹر آصف نے کہا کہ یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملزموں کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے طاہرہ کو شناخت کر کے گولیاں ماری گئیں، انھیں کئی ماہ سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔
ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پنجاب میں ایم کیو ایم کو خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔ طاہرہ آصف پر حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاہور میں دہشت گرد' جرائم پیشہ عناصر اور ٹارگٹ کلر موجود ہیں اور وہ اب کارروائیاں بھی کر رہے ہیں۔ حکومت پنجاب کو طاہرہ آصف پر حملے کے ملزموں کو جلد از جلد گرفتار کرنا چاہیے تا کہ پتہ چل سکے کہ ان مجرموں کا تعلق کس دہشت گرد گروپ سے ہے یا جرائم پیشہ افراد کے کسی گینگ کا کام ہے۔ معاملہ خواہ کچھ بھی ہو' اصل ملزم ضرور سامنے آنے چاہئیں۔