کراچی اسٹاک مارکیٹ کی 5 حدیں بیک وقت گرگئیں 1 کھرب 11 کا نقصان
انڈیکس483 پوائنٹس کی کمی سے28674 ہوگیا،19 کروڑ33 لاکھ48 ہزار890 حصص کے سودے،82 فیصدکے بھائو گرگئے
سرمایہ کاروں کے ایک کھرب11 ارب روپے ڈوب گئے۔ فوٹو: آن لائن/فائل
کراچی اسٹاک ایکسچینج میں غیریقینی تاثرقائم رہنے سے مندی کی بڑی لہر رونما ہوئی جس سے انڈیکس کی29100، 29000، 28900، 28800 اور28700 پوائنٹس کی پانچ حدیں بیک وقت گرگئیں اور انڈیکس ڈیڑھ ماہ کی کم ترین سطح پرآگئی۔
کے ایس ای میں مندی کے سبب82 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید ایک کھرب10 ارب94 کروڑ12 لاکھ16 ہزار110 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ مسلح افواج کے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن اور سانحہ لاہور کی وجہ سے سیاسی افق پرمختلف منفی افواہوں کی گردش نے کیپیٹل مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کو بھی محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے جبکہ بعض دیگر حکومتی فیصلوں کی وجہ سے مواصلات اور آئل سیکٹر کے حصص میں فروخت کا دبائو بھی بڑھ گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے بیشتر شعبوں میں غیریقینی کا تاثر نمایاں ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں نئی سرمایہ کاری کے بجائے حصص کی آف لوڈنگ کو ترجیح دی جارہی ہے اور اس کے منفی اثرات کاروباری سرگرمیوں پر مرتب ہورہے ہیں۔ ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، میوچل فنڈز اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر59 لاکھ30 ہزار620 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے ایک موقع پر55.06 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے3 لاکھ15 ہزار347 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے7 لاکھ3 ہزار922 ڈالراور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے49 لاکھ11 ہزار351 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا نے تیزی کو مندی میں تبدیل کردیا۔
نتیجتا کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس483.61 پوائنٹس کی کمی سے 28674.37 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 342.55 پوائنٹس کی کمی سے19717.18 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 844.65 پوائنٹس کی کمی سے 46071.05 ہوگیا۔
کاروباری حجم بدھ کی نسبت 12.68فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر19 کروڑ33 لاکھ48 ہزار890 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار367 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں54 کے بھائو میں اضافہ 300 کے داموں میں کمی اور13 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں رفحان میظ کے بھائو 199 روپے بڑھ کر10799 روپے اور باٹا پاکستان کے بھائو34.58 روپے بڑھ کر 3202.08 روپے ہوگئے جبکہ پاکستان ٹوبیکو کے بھائو64.66 روپے کم ہوکر1322.67 روپے اور سیمینس پاکستان کے بھائو 63.66 روپے کم ہوکر 1253 روپے ہوگئے۔
کے ایس ای میں مندی کے سبب82 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید ایک کھرب10 ارب94 کروڑ12 لاکھ16 ہزار110 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ مسلح افواج کے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن اور سانحہ لاہور کی وجہ سے سیاسی افق پرمختلف منفی افواہوں کی گردش نے کیپیٹل مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کو بھی محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے جبکہ بعض دیگر حکومتی فیصلوں کی وجہ سے مواصلات اور آئل سیکٹر کے حصص میں فروخت کا دبائو بھی بڑھ گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے بیشتر شعبوں میں غیریقینی کا تاثر نمایاں ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں نئی سرمایہ کاری کے بجائے حصص کی آف لوڈنگ کو ترجیح دی جارہی ہے اور اس کے منفی اثرات کاروباری سرگرمیوں پر مرتب ہورہے ہیں۔ ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، میوچل فنڈز اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر59 لاکھ30 ہزار620 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے ایک موقع پر55.06 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے3 لاکھ15 ہزار347 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے7 لاکھ3 ہزار922 ڈالراور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے49 لاکھ11 ہزار351 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا نے تیزی کو مندی میں تبدیل کردیا۔
نتیجتا کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس483.61 پوائنٹس کی کمی سے 28674.37 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 342.55 پوائنٹس کی کمی سے19717.18 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 844.65 پوائنٹس کی کمی سے 46071.05 ہوگیا۔
کاروباری حجم بدھ کی نسبت 12.68فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر19 کروڑ33 لاکھ48 ہزار890 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار367 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں54 کے بھائو میں اضافہ 300 کے داموں میں کمی اور13 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں رفحان میظ کے بھائو 199 روپے بڑھ کر10799 روپے اور باٹا پاکستان کے بھائو34.58 روپے بڑھ کر 3202.08 روپے ہوگئے جبکہ پاکستان ٹوبیکو کے بھائو64.66 روپے کم ہوکر1322.67 روپے اور سیمینس پاکستان کے بھائو 63.66 روپے کم ہوکر 1253 روپے ہوگئے۔