حکمرانی چھننے پر اسپین سوگ میں ڈوب گیا

میڈیا نے شہ سرخیوں میں ٹیم کی کارکردگی کو سنہری دور کا ہولناک انجام قرار دیدیا

ماراکانا اسٹیڈیم میں چلی کیخلاف شکست کے بعد اسپینش گول کیپر و کپتان ایکر کیسالاس اور مڈ فیلڈر آندریس اینستا مایوس واپس جارہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

RAWALPINDI:
عالمی فٹبال کی حکمرانی چھننے پر اسپین سوگ میں ڈوب گیا جب کہ میڈیا نے اپنی شہ سرخیوں میں ٹیم کی کارکردگی کو سنہری دور کا ہولناک انجام قرار دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق نیدر لینڈز کے بعد چلی کے ہاتھوں بھی شکست نے دفاعی چیمپئن اسپین کا میگا ایونٹ میں سفر تمام کردیا، یورو ٹرافی2008 ، عالمی کپ 2010 کے بعد ایک بار پھر یورپی چیمپئن بننے والی ٹیم سے کوئی بھی برازیل میں اس قدر ناقص کارکردگی کی توقع نہیں کررہا تھا، ہسپانوی بادشاہ فلپ پنجم کی تقریب حلف برداری کے ساتھ بیشتر اخبارات کے صفحہ اول پر قومی ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے مایوس کن سرخیاں جمائی گئیں، مڈ فیلڈر آندریس انیسٹا کی سر ہاتھوں پر رکھ کر بے بسی کا اظہار کرتی تصویر کے ساتھ ''سنہری دور ہولناک انداز میں ختم ہوا'' جیسے الفاظ درج کیے گئے۔


اسپورٹس ڈیلی مرکا نے لکھا ''اچھے دنوں کو خیر باد کہنے کا وقت آگیا''، اسی اخبار کے ایک مبصر نے کہا کہ شکستہ پلاننگ اور تھکاوٹ کی ماری ٹیم نے بڑی غلطیوں سے قوم کو مایوس کردیا، کئی اخبارات نے اسکواڈ کو یکسر تبدیل کرکے تعمیر نو کا عمل جلد شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا، ایک تجزیہ کار اینجل لارا نے کہا کہ زاوی ہرنانڈز، ڈیوڈ ولا، فرنانڈو ٹوریس، زیبی الانسو اور گول کیپر ایکر کیسیلاس کبھی شاندار تھے لیکن سب اپنا بہترین وقت گزار چکے، اب ان کو جانا ہی ہوگا۔ ایک اور معروف اخبار ال پائیس نے لکھا کہ ''اسپین برازیل میں منہ کے بل گر پڑا''۔

کالم نگار سانتی نولا نے کہا کہ افسوس کے سوا کچھ نہیںکرسکتے، 2سال سے روایتی فٹبال تکنیک کے ساتھ چپکے رہنے کا یہی نتیجہ ہوسکتا تھا، ہم بہت پیچھے رہ گئے۔ زیادہ تر شائقین نے کوچ وسینٹے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اسکواڈ اور حکمت عملی میں بروقت تبدیلیاں نہیں کرسکے، دوسری طرف کوچ نے کہاکہ اس موقع پر اکھاڑ پچھاڑ کی باتیں درست نہیں، سوچ سمجھ کر فیصلے کرنا ہونگے۔
Load Next Story