آئی سی سی کے چیئرمین کیلئے بھارت نے سری نواسن کے نام کی تصدیق کردی
مشکوک شخص کو عہدہ سونپنے کی ذمہ داری تمام بورڈزپر عائد ہوگی، ٹم مے
مشکوک شخص کو عہدہ سونپنے کی ذمہ داری تمام بورڈزپر عائد ہوگی، ٹم مے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
بھارتی کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی چیئرمین کیلیے اپنے معطل صدر این سری نواسن کے نام کی دوبارہ تصدیق کردی ہے۔
یہ اقدام سپریم کورٹ کی جانب سے سری نواسن کو آئی سی سی میں بی سی سی آئی کی نمائندگی سے روکنے سے متعلق درخواست مسترد کیے جانے کے بعد اٹھایا گیا، بورڈ کے ایک آفیشل نے کہا کہ ہمیں آئی سی سی چیئرمین کیلیے دوبارہ اپنے امیدوار کا نام بھیجنے کی ضرورت تھی،ہم نے فروری میں سری نواسن کو نامزد کیا تھااور اب اس کی دوبارہ تصدیق بھی کردی۔
آئی سی سی کی سالانہ کانفرنس 23 جون سے شروع ہوگی جبکہ سری نواسن29 جون کو پاور فل بورڈ کے چیئرمین بنیں گے۔ دوسری جانب فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسویس ایشن (فیکا) کے سابق چیف ٹم مے نے کہا ہے کہ ایک مشکوک شخص کو آئی سی سی کا چیئرمین بنانے کی ذمہ داری تمام بورڈز ممبران پر عائد ہوگی، انھوں نے کہا کہ ہم صرف انگلینڈ اور آسٹریلیا کو ہی قصور وار قرار نہیں دے سکتے، دیکھنا یہ ہوگا کہ باقی بورڈز اپنی ذمہ داریاں کہاں تک نبھاتے ہیں۔
یہ اقدام سپریم کورٹ کی جانب سے سری نواسن کو آئی سی سی میں بی سی سی آئی کی نمائندگی سے روکنے سے متعلق درخواست مسترد کیے جانے کے بعد اٹھایا گیا، بورڈ کے ایک آفیشل نے کہا کہ ہمیں آئی سی سی چیئرمین کیلیے دوبارہ اپنے امیدوار کا نام بھیجنے کی ضرورت تھی،ہم نے فروری میں سری نواسن کو نامزد کیا تھااور اب اس کی دوبارہ تصدیق بھی کردی۔
آئی سی سی کی سالانہ کانفرنس 23 جون سے شروع ہوگی جبکہ سری نواسن29 جون کو پاور فل بورڈ کے چیئرمین بنیں گے۔ دوسری جانب فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسویس ایشن (فیکا) کے سابق چیف ٹم مے نے کہا ہے کہ ایک مشکوک شخص کو آئی سی سی کا چیئرمین بنانے کی ذمہ داری تمام بورڈز ممبران پر عائد ہوگی، انھوں نے کہا کہ ہم صرف انگلینڈ اور آسٹریلیا کو ہی قصور وار قرار نہیں دے سکتے، دیکھنا یہ ہوگا کہ باقی بورڈز اپنی ذمہ داریاں کہاں تک نبھاتے ہیں۔