دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن جاری
فوجی جوان ملک و قوم کی سلامتی‘ امن و امان کو یقینی بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک مشکل جنگ لڑ رہے ہیں
عوام کی حمایت ہی شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کی کامیابی کی ضامن ہو گی۔ فوٹو: فائل
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعرات کو اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قومی تاریخ کی فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے' آپریشن میں دہشت گردوں کی شکست یقینی ہے' شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے لیے قومی اتحاد ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ بعض افراد اور ان کے ہم خیال گروہ پوری قوم کی توجہ ملکی تاریخ کے اس اہم ترین آپریشن سے ہٹانا چاہتے ہیں مگر ہم ہر گز کسی کو ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعے کو اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چند عناصر پاکستان کے خلاف کھیل رہے ہیں۔
ملک کی سالمیت اور بقا کے لیے شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کے نام سے شروع کیا جانے والا آپریشن کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ فوج نے اب تک عسکریت پسندوں کی ایک بڑی تعداد کو ہلاک اور ان کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 232 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ کسی بھی جنگ کی کامیابی کا انحصارقوم کے تعاون پر ہوتا ہے ۔ حکومت تمام تر وسائل رکھنے اور کوشش کے باوجود عوام کے اعتماد اور تعاون کے بغیر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے لیے قومی اتحاد ضروری ہے۔ فوجی جوان ملک و قوم کی سلامتی' امن و امان کو یقینی بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک مشکل جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس نازک موقع پر کسی بھی گروہ کی جانب سے گومگو کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش امن و امان کے حوالے سے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے لہٰذا اس جنگ کی کامیابی کے لیے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور عوام پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ تمام تر اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے حکومت اور فوج کی حمایت کے لیے آگے آئیں۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں یہ اتفاق پایا گیا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشنل کامیابی قومی یکجہتی' امن اور استحکام سے وابستہ ہے اور برسرپیکار علاقے میں موجود جوانوں کو بھرپور حمایت کی ضرورت ہے۔ آپریشن سے متاثرہ عوام کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے یقین دلایا کہ ان کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی اور خیبرپختونخوا حکومت کو مکمل مدد فراہم کی جا رہی ہے' وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو تمام فنڈز مہیا کرنے کے لیے تیار ہے' متاثرین کے لیے درکار فنڈز کی فوری فراہمی کے لیے وزارت خزانہ کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
یہ جنگ عوام کی بقا اور سلامتی کی جنگ ہے، اس موقع پر آپریشن سے متاثرہ عوام کی مدد کے لیے سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں کو بھی جوش و خروش سے آگے آنا اور اپنے عمل سے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ اس مشکل وقت میں وہ حکومت کے ساتھ ہیں۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع ہونے کے بعد ملک بھر میں دہشت گردی کے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ دہشت گردوں کے حمایتیوں اور معاونین کی ایک بڑی تعداد مختلف شہروں میں موجود ہے جن کے تعاون سے دہشت گرد کوئی بھی مذموم کارروائی کر سکتے ہیں۔
حکومت کو بھی اس امر کا بخوبی ادراک ہے لہٰذا اس نے اندرون ملک سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں بھی پولیس اور رینجرز کے تعاون سے ٹارگٹڈ آپریشن کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے، ضرورت پڑنے پر فوج سے بھی مدد لی جائے گی، اس آپریشن کے دوران گھر گھر تلاشی لی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق جمعے کو کراچی کے علاقے منگھو پیر میں رینجرز نے سرچ آپریشن کے دوران مقابلے میں دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جب کہ رینجرز کے دو جوان بھی زخمی ہو گئے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت متعدد شہروں میں افغان مہاجرین کی غیر قانونی بستیاں بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ ان بستیوں کو کبھی چیک نہیں کیا گیا اور نہ کبھی یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی کہ ان میں کتنے افراد آباد ہیں اور وہ کیا کام کرتے ہیں' ان کے روز مرہ کے مشاغل کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ افغان مہاجرین کی بستیوں کی آڑ میں منشیات اور اسلحہ فروشی کا دھندہ بلا روک ٹوک جاری ہے۔ آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ ان افغان بستیوں میں بھی سرچ آپریشن کیا جائے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں انتہا پسندوں' دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے متعدد طاقتور گروہ موجود ہیں جن کے آپس میں مسلسل رابطے ہیں اور دہشت گردی کی کسی کارروائی میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ شمالی وزیرستان کے علاقے میں ازبک اور دیگر غیر ملکی جنگجوئوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہے۔ اس طرح ملک کو دہشت گردی اور جرائم سے پاک کرنے کے لیے حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو ایک بھرپور اور طویل جنگ لڑنا ہو گی۔
اس جنگ میں حکومت کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے لیکن اس جنگ کے باعث ملک میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امن قائم ہو جاتا ہے تو یہ مہنگا سودا نہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت اور عسکری ادارے ایک صفحے پر ہیں۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھرپور یقین دلایا کہ شورش زدہ علاقوں میں جوانوں کو ہر ممکن سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ حکومت' سیاسی و مذہبی جماعتیں اور عوام آپریشن ضرب عضب کی حمایت میں بھرپور مہم چلائی جائے کیونکہ عوام کی حمایت ہی شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کی کامیابی کی ضامن ہو گی۔
ملک کی سالمیت اور بقا کے لیے شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کے نام سے شروع کیا جانے والا آپریشن کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ فوج نے اب تک عسکریت پسندوں کی ایک بڑی تعداد کو ہلاک اور ان کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 232 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ کسی بھی جنگ کی کامیابی کا انحصارقوم کے تعاون پر ہوتا ہے ۔ حکومت تمام تر وسائل رکھنے اور کوشش کے باوجود عوام کے اعتماد اور تعاون کے بغیر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے لیے قومی اتحاد ضروری ہے۔ فوجی جوان ملک و قوم کی سلامتی' امن و امان کو یقینی بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک مشکل جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس نازک موقع پر کسی بھی گروہ کی جانب سے گومگو کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش امن و امان کے حوالے سے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے لہٰذا اس جنگ کی کامیابی کے لیے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور عوام پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ تمام تر اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے حکومت اور فوج کی حمایت کے لیے آگے آئیں۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں یہ اتفاق پایا گیا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشنل کامیابی قومی یکجہتی' امن اور استحکام سے وابستہ ہے اور برسرپیکار علاقے میں موجود جوانوں کو بھرپور حمایت کی ضرورت ہے۔ آپریشن سے متاثرہ عوام کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے یقین دلایا کہ ان کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی اور خیبرپختونخوا حکومت کو مکمل مدد فراہم کی جا رہی ہے' وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو تمام فنڈز مہیا کرنے کے لیے تیار ہے' متاثرین کے لیے درکار فنڈز کی فوری فراہمی کے لیے وزارت خزانہ کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
یہ جنگ عوام کی بقا اور سلامتی کی جنگ ہے، اس موقع پر آپریشن سے متاثرہ عوام کی مدد کے لیے سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں کو بھی جوش و خروش سے آگے آنا اور اپنے عمل سے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ اس مشکل وقت میں وہ حکومت کے ساتھ ہیں۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع ہونے کے بعد ملک بھر میں دہشت گردی کے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ دہشت گردوں کے حمایتیوں اور معاونین کی ایک بڑی تعداد مختلف شہروں میں موجود ہے جن کے تعاون سے دہشت گرد کوئی بھی مذموم کارروائی کر سکتے ہیں۔
حکومت کو بھی اس امر کا بخوبی ادراک ہے لہٰذا اس نے اندرون ملک سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں بھی پولیس اور رینجرز کے تعاون سے ٹارگٹڈ آپریشن کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے، ضرورت پڑنے پر فوج سے بھی مدد لی جائے گی، اس آپریشن کے دوران گھر گھر تلاشی لی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق جمعے کو کراچی کے علاقے منگھو پیر میں رینجرز نے سرچ آپریشن کے دوران مقابلے میں دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جب کہ رینجرز کے دو جوان بھی زخمی ہو گئے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت متعدد شہروں میں افغان مہاجرین کی غیر قانونی بستیاں بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ ان بستیوں کو کبھی چیک نہیں کیا گیا اور نہ کبھی یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی کہ ان میں کتنے افراد آباد ہیں اور وہ کیا کام کرتے ہیں' ان کے روز مرہ کے مشاغل کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ افغان مہاجرین کی بستیوں کی آڑ میں منشیات اور اسلحہ فروشی کا دھندہ بلا روک ٹوک جاری ہے۔ آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ ان افغان بستیوں میں بھی سرچ آپریشن کیا جائے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں انتہا پسندوں' دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے متعدد طاقتور گروہ موجود ہیں جن کے آپس میں مسلسل رابطے ہیں اور دہشت گردی کی کسی کارروائی میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ شمالی وزیرستان کے علاقے میں ازبک اور دیگر غیر ملکی جنگجوئوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہے۔ اس طرح ملک کو دہشت گردی اور جرائم سے پاک کرنے کے لیے حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو ایک بھرپور اور طویل جنگ لڑنا ہو گی۔
اس جنگ میں حکومت کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے لیکن اس جنگ کے باعث ملک میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امن قائم ہو جاتا ہے تو یہ مہنگا سودا نہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت اور عسکری ادارے ایک صفحے پر ہیں۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھرپور یقین دلایا کہ شورش زدہ علاقوں میں جوانوں کو ہر ممکن سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ حکومت' سیاسی و مذہبی جماعتیں اور عوام آپریشن ضرب عضب کی حمایت میں بھرپور مہم چلائی جائے کیونکہ عوام کی حمایت ہی شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کی کامیابی کی ضامن ہو گی۔