گلو بٹ میرا اب بھی ہیرو ہے
اگر آپ کا لاہور سے کچھ تعارف ہے تو پرانے لاہور کی گلیوں اور فٹ پاتھوں پر آپ کو نسل نسل کے گلو بٹ دکھائی دیں گے
Abdulqhasan@hotmail.com
لاہور کے گلو بٹ نے جو تماشا دکھایا اور جس بے دردی اور لاپروائی سے نئی گاڑیوں کے شیشے توڑے اس کا حساب کوئی ان گاڑیوں کے مالکوں سے پوچھے یا میں اگر خوفزدہ نہ ہوں تو کوئی مجھ سے پوچھے یا پھر اس پولیس افسر سے جس نے گلو کو پندرہ ہزار روپے پیشگی انعام میں دیے اور اس سے گلے مل کر اس کو شاباش دی۔ پاکستان کی حکمران جماعت کا شیر گلو بٹ اپنے بے شمار اوصاف کی وجہ سے میرا بھی ہیرو ہے اور میں اس کے ساتھ ان تمام زیادتیوں پر احتجاج کرتا ہوں جو اس کے ساتھ اسی انداز میں کی گئیں جس انداز میں اس نے گاڑیوں کے شیشے توڑے تھے۔
واہ کیا منظر تھا کہ میرا گلو ہیرو اور شیر بڑھکیں لگاتا ہوا ہاتھ میں ایک ڈنڈا لہراتا ہوا پولیس کے جلو میں آگے بڑھ رہا تھا اس کی غصے سے کانپتی ہوئی مونچھیں بڑا ہی جاں فزا منظر پیش کر رہی تھیں۔ گلو بٹ اس وقت ایک عام انسان نہیں ایک جنگلی بھوکا شیر تھا جو سامنے کھڑی گاڑیوں پر پل پڑا،اگر دنیا کی کوئی ایجنسی گاڑیوں کی شیشہ شکنی کا ریکارڈ جمع کرے تو پہلا نمبر میرے ہیرو کا ہے جس کا نام ہے گلو بٹ سکنہ لاہور۔ لاہور شہر خصوصاً پرانے لاہور میں گلو بٹوں کی کثیر تعداد موجود ہے جو اپنی قوت بازو پر کبھی اسے استعمال کر کے اور کبھی اس کو صرف دکھا کر گلو بٹ بنے ہوئے ہیں اور یہ پہلا گلو بٹ ہے جو اپنی مونچھوں اور بڑھکوں کے سہارے ملکی اقتدار کے اونچے مقام تک پہنچ گیا ہے اور وہاں سے بڑھکیں لگا کر پورے لاہور کو ڈرا دھمکا رہا ہے۔
اگر آپ کا لاہور سے کچھ تعارف ہے تو پرانے لاہور کی گلیوں اور فٹ پاتھوں پر آپ کو نسل نسل کے گلو بٹ دکھائی دیں گے، مالش کرواتے ہوئے اور دیواروں تک کو بڑھکوں سے گراتے ہوئے اور پورے محلے کو لرزاتے ہوئے کیونکہ ان کی کسی محلے کے فٹ پاتھ پر ڈیرہ لگانے کی خبر سن کر پورا محلہ ان کی ملکیت میں آ جاتا ہے وہ جو کہتے ہیں کہ شیر جب بڑھک لگاتا ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ جہاں تک اس کی بڑھک کی گونج جارہی ہے یہ علاقے اب اس کے اپنے ہیں اور یہاں اس کی حکومت ہے وہ ڈیرہ جمانے کے بعد اس فٹ پاتھ سے کسی کو آواز دیتا ہے تو وہ خواہ کسی حالت میں بھی ہو حاضر ہوتا ہے، آتے ہی کسی گلو بٹ کی ٹانگ کو پکڑ کر دبانے کے انداز میں اپنی اطاعت کا اظہار کرتا ہے اور حکم حاکم کا انتظار کرتا ہے اگر اس میں دیر ہو جائے تو وہ اپنی جیب میں سے حسب توفیق کچھ نکال کر یہ نذرانہ قدموں میں رکھ کر ذرا دور ہٹ کر بیٹھ جاتا ہے۔
میں پرانے لاہور کے کئی محلوں میں بطور کرایہ دار طالب علم اور پھر صحافی کے ایک مدت تک رہا ہوں اور میں نے ان گلو بٹوں کے تماشے دیکھے ہیں۔ پہلے تو وہ ایک طالب علم کو معاف کر دیتے تھے پھر ایک پرچہ نویس کو بھی البتہ اخبار میں وہ اپنا نام دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے جو کسی نہ کسی بہانے مجھے کبھی کبھی شایع کرنا پڑ جاتا تھا ورنہ کسی دوسرے گلو بٹ کی عملداری میں مکان کی تلاش۔
گلو بٹ لاہور کے کلچر کا نمایندہ ہے اور ایک حصہ ہے اس کی زندگی لاہوری زندگی کا ایک جیتا جاگتا نمونہ ہے اس کا لباس کھانا پینا اور مجلس آرائی سب اس شہر کی زندگی کا عکس ہیں۔ چونکہ ایسے گلوبٹ صاحبان کا کوئی روز گار نہیں ہوتا اس لیے وہ بڑھکوں کو سب ذریعہ روز گار سمجھتے ہیں اور ضرورت مند شہریوں کو بھی جو کبھی ان کے دست و بازو کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ قدرت کے عجیب سلسلے ہیں ان دنوں بینکوں سے قسطوں پر گاڑیاں لے کر قسطیں ادا نہ کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے گلو بٹ ہی کام دیتے ہیں اور یہ بہت معقول سلسلہ آمدنی ہے۔ کہاں کسی مسئلے میں دھونس جما کر کچھ لے لیتا جو شام تک ختم ہو جاتا ہے اور کہاں بینکوں اور ان کے دولت مند گاہکوں سے لین دین۔
ادھر کچھ عرصہ سے جانداروں کی خرید و فروخت بھی بڑھ گئی ہے اور قبضوں کے تنازعے عام ہو گئے ہیں خصوصاً بیرون ملک پاکستانی اپنی پاکستانی جائیداد کی حفاظت کے لیے ان لوگوں کی مدد لیتے ہیں، یہ ایک معقول ذریعہ آمدنی ہے۔ ان نئے راستوں کے کھل جانے سے اب پرانے لاہور کی گلو بٹ داری زیادہ نفع بخش نہیں رہی ہے اور لاہور کی سیاست ایک نیا ذریعہ روز گار ہے۔ اس شہر میں کسی جماعت کی سیاست پیدا ہوئی اور پھر یہاں اپنے کارکنوں کے ذریعہ پلتی بڑھتی۔ بڑے بڑے لیڈر بھی اپنے آپ کو کارکن کہتے تھے۔ سیاسی دنیا اگرچہ کسی منفعت کا ذریعہ نہیں تھی لیکن اس سیاسی وابستگی سے ٹُہر خوب بن جاتی تھی۔ لاہور میں ٹہر کسی کی زندگی میں بڑا کردار ادا کرتی ہے اور کوئی گلو بٹ پیدا ہو سکتا ہے۔
میرا جو ہیرو تھا وہ سیاسی گلو بٹ تھا۔ وہ الیکشن میں بھی اپنی پارٹی کا کارکن بن جاتا تھا۔ ڈبوں کو ادھر ادھر کرنا بھی اس کا ہنر تھا جیسے آجکل عمران خان ایک عرصہ سے انھی ڈبوں کی دوبارہ گنتی وغیرہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔عین ممکن ہے کہ گلو بٹ کا دست ہنر اس میں ملوث ہو۔ الیکشن میں اگر کوئی قابو نہیں آتا تو گلو بٹ اس کی منت سماجت کر کے اسے منا لیتا ہے اور وہ مان جانے پر مجبور ہوتا ہے۔
اقتدار کی منزل تک پہنچنے والی کسی جماعت کے ساتھ اگر کسی گلو بٹ کی وابستگی ہو تو پھر تو وارے نیارے جیسے ان دنوں گلو بٹ کے ہیں، پولیس اس کو اس کی کھلی جارحیت اور قانون شکنی سے بچا تو نہ سکی لیکن کمزور مقدمہ درج ہوا اور کیا بعید کہ کل گلو بٹ ضمانت پر رہائی کا جشن منا رہا ہو اور ہم ٹی وی پر اس کا نظارہ کر رہے ہوں، حیران ہو رہے ہوں، ادھر گلو بٹ اقتدار کے مزے لے رہا ہو۔ گلو بٹ کی یہی وہ خصوصیات اور شاندار کارکردگی ہے جس سے بے حد متاثر ہو کر میں نے اسے اپنا ہیرو بنا لیا ہے۔ میرا ہیرو زندہ باد صرف چند دن کی جیل ہے پھر ضمانت ہے اور میرا ہیرو ہے جو اقتدار کے مزے لوٹے گا۔
واہ کیا منظر تھا کہ میرا گلو ہیرو اور شیر بڑھکیں لگاتا ہوا ہاتھ میں ایک ڈنڈا لہراتا ہوا پولیس کے جلو میں آگے بڑھ رہا تھا اس کی غصے سے کانپتی ہوئی مونچھیں بڑا ہی جاں فزا منظر پیش کر رہی تھیں۔ گلو بٹ اس وقت ایک عام انسان نہیں ایک جنگلی بھوکا شیر تھا جو سامنے کھڑی گاڑیوں پر پل پڑا،اگر دنیا کی کوئی ایجنسی گاڑیوں کی شیشہ شکنی کا ریکارڈ جمع کرے تو پہلا نمبر میرے ہیرو کا ہے جس کا نام ہے گلو بٹ سکنہ لاہور۔ لاہور شہر خصوصاً پرانے لاہور میں گلو بٹوں کی کثیر تعداد موجود ہے جو اپنی قوت بازو پر کبھی اسے استعمال کر کے اور کبھی اس کو صرف دکھا کر گلو بٹ بنے ہوئے ہیں اور یہ پہلا گلو بٹ ہے جو اپنی مونچھوں اور بڑھکوں کے سہارے ملکی اقتدار کے اونچے مقام تک پہنچ گیا ہے اور وہاں سے بڑھکیں لگا کر پورے لاہور کو ڈرا دھمکا رہا ہے۔
اگر آپ کا لاہور سے کچھ تعارف ہے تو پرانے لاہور کی گلیوں اور فٹ پاتھوں پر آپ کو نسل نسل کے گلو بٹ دکھائی دیں گے، مالش کرواتے ہوئے اور دیواروں تک کو بڑھکوں سے گراتے ہوئے اور پورے محلے کو لرزاتے ہوئے کیونکہ ان کی کسی محلے کے فٹ پاتھ پر ڈیرہ لگانے کی خبر سن کر پورا محلہ ان کی ملکیت میں آ جاتا ہے وہ جو کہتے ہیں کہ شیر جب بڑھک لگاتا ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ جہاں تک اس کی بڑھک کی گونج جارہی ہے یہ علاقے اب اس کے اپنے ہیں اور یہاں اس کی حکومت ہے وہ ڈیرہ جمانے کے بعد اس فٹ پاتھ سے کسی کو آواز دیتا ہے تو وہ خواہ کسی حالت میں بھی ہو حاضر ہوتا ہے، آتے ہی کسی گلو بٹ کی ٹانگ کو پکڑ کر دبانے کے انداز میں اپنی اطاعت کا اظہار کرتا ہے اور حکم حاکم کا انتظار کرتا ہے اگر اس میں دیر ہو جائے تو وہ اپنی جیب میں سے حسب توفیق کچھ نکال کر یہ نذرانہ قدموں میں رکھ کر ذرا دور ہٹ کر بیٹھ جاتا ہے۔
میں پرانے لاہور کے کئی محلوں میں بطور کرایہ دار طالب علم اور پھر صحافی کے ایک مدت تک رہا ہوں اور میں نے ان گلو بٹوں کے تماشے دیکھے ہیں۔ پہلے تو وہ ایک طالب علم کو معاف کر دیتے تھے پھر ایک پرچہ نویس کو بھی البتہ اخبار میں وہ اپنا نام دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے جو کسی نہ کسی بہانے مجھے کبھی کبھی شایع کرنا پڑ جاتا تھا ورنہ کسی دوسرے گلو بٹ کی عملداری میں مکان کی تلاش۔
گلو بٹ لاہور کے کلچر کا نمایندہ ہے اور ایک حصہ ہے اس کی زندگی لاہوری زندگی کا ایک جیتا جاگتا نمونہ ہے اس کا لباس کھانا پینا اور مجلس آرائی سب اس شہر کی زندگی کا عکس ہیں۔ چونکہ ایسے گلوبٹ صاحبان کا کوئی روز گار نہیں ہوتا اس لیے وہ بڑھکوں کو سب ذریعہ روز گار سمجھتے ہیں اور ضرورت مند شہریوں کو بھی جو کبھی ان کے دست و بازو کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ قدرت کے عجیب سلسلے ہیں ان دنوں بینکوں سے قسطوں پر گاڑیاں لے کر قسطیں ادا نہ کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے گلو بٹ ہی کام دیتے ہیں اور یہ بہت معقول سلسلہ آمدنی ہے۔ کہاں کسی مسئلے میں دھونس جما کر کچھ لے لیتا جو شام تک ختم ہو جاتا ہے اور کہاں بینکوں اور ان کے دولت مند گاہکوں سے لین دین۔
ادھر کچھ عرصہ سے جانداروں کی خرید و فروخت بھی بڑھ گئی ہے اور قبضوں کے تنازعے عام ہو گئے ہیں خصوصاً بیرون ملک پاکستانی اپنی پاکستانی جائیداد کی حفاظت کے لیے ان لوگوں کی مدد لیتے ہیں، یہ ایک معقول ذریعہ آمدنی ہے۔ ان نئے راستوں کے کھل جانے سے اب پرانے لاہور کی گلو بٹ داری زیادہ نفع بخش نہیں رہی ہے اور لاہور کی سیاست ایک نیا ذریعہ روز گار ہے۔ اس شہر میں کسی جماعت کی سیاست پیدا ہوئی اور پھر یہاں اپنے کارکنوں کے ذریعہ پلتی بڑھتی۔ بڑے بڑے لیڈر بھی اپنے آپ کو کارکن کہتے تھے۔ سیاسی دنیا اگرچہ کسی منفعت کا ذریعہ نہیں تھی لیکن اس سیاسی وابستگی سے ٹُہر خوب بن جاتی تھی۔ لاہور میں ٹہر کسی کی زندگی میں بڑا کردار ادا کرتی ہے اور کوئی گلو بٹ پیدا ہو سکتا ہے۔
میرا جو ہیرو تھا وہ سیاسی گلو بٹ تھا۔ وہ الیکشن میں بھی اپنی پارٹی کا کارکن بن جاتا تھا۔ ڈبوں کو ادھر ادھر کرنا بھی اس کا ہنر تھا جیسے آجکل عمران خان ایک عرصہ سے انھی ڈبوں کی دوبارہ گنتی وغیرہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔عین ممکن ہے کہ گلو بٹ کا دست ہنر اس میں ملوث ہو۔ الیکشن میں اگر کوئی قابو نہیں آتا تو گلو بٹ اس کی منت سماجت کر کے اسے منا لیتا ہے اور وہ مان جانے پر مجبور ہوتا ہے۔
اقتدار کی منزل تک پہنچنے والی کسی جماعت کے ساتھ اگر کسی گلو بٹ کی وابستگی ہو تو پھر تو وارے نیارے جیسے ان دنوں گلو بٹ کے ہیں، پولیس اس کو اس کی کھلی جارحیت اور قانون شکنی سے بچا تو نہ سکی لیکن کمزور مقدمہ درج ہوا اور کیا بعید کہ کل گلو بٹ ضمانت پر رہائی کا جشن منا رہا ہو اور ہم ٹی وی پر اس کا نظارہ کر رہے ہوں، حیران ہو رہے ہوں، ادھر گلو بٹ اقتدار کے مزے لے رہا ہو۔ گلو بٹ کی یہی وہ خصوصیات اور شاندار کارکردگی ہے جس سے بے حد متاثر ہو کر میں نے اسے اپنا ہیرو بنا لیا ہے۔ میرا ہیرو زندہ باد صرف چند دن کی جیل ہے پھر ضمانت ہے اور میرا ہیرو ہے جو اقتدار کے مزے لوٹے گا۔