بھارتی وعدوں کا لالی پاپ چھوڑ کر مسائل پر توجہ دی جائے
بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالے بغیر پی سی بی کے معاملات درست نہیں ہوں گے
نجم سیٹھی نے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے افراد کو بلا کر پریس ریلیز تیار کرائی اور یونس بی سے اے کیٹیگری میں آ گئے، فوٹو: فائل
''آ بیل مجھے مار'' یہ کہاوت پاکستانی کرکٹ پر بڑی فٹ بیٹھتی ہے۔جب کوئی تنازع نہ ہو تو خود ہی نئی مصیبت کو دعوت دے دی جاتی ہے۔
کیمپ ختم ہونے کے بعد پلیئرز ان دنوں آرام کر رہے ہیں، ایسے میں معاملات اچھے چل رہے تھے کہ سینئر بیٹسمین یونس خان کو سینٹرل کنٹریکٹ کی بی کیٹیگری میں رکھ کر ایک نیا محاذ کھول لیا گیا، بعد میں چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے یہ غیر ضروری تنازع ختم کرایا، ایسے میں ایمرجنگ کیمپ کے ٹرائلز سے ڈومیسٹک کرکٹ کے ٹاپ کھلاڑیوں کے اخراج کا معاملہ سامنے آ گیا، اب اس معاملے پر بھی وضاحتیں دینے کا سلسلہ جاری ہے، دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے، پہلے یونس کے حوالے سے کچھ بات کر لیں۔ ان کے ساتھ کنٹریکٹ میں جب ناانصافی ہوئی تو بورڈ کے ایک اعلیٰ افسر نے مجھ سے شکوہ کیا کہ ''ہم نے پلیئرز کی تنخواہیں بڑھا دیں، میچ فیس میں اضافہ کر دیا، اسے سراہنے کے باوجود آپ یونس خان کے معاملے کو خوامخواہ اچھال رہے ہیں، شائد اس کی وجہ ان کا کراچی سے تعلق ہونا ہے، یہ بات سن کر مجھے بہت بُرا لگا، ہمارے ملک میں یہ روایت ہے کہ کسی کھلاڑی کا مشکل میں ساتھ دو تو ایسی باتیں شروع ہو جاتی ہیں، میں نے انھیں یاد دلایا کہ گذشتہ عرصے میں جب محمد حفیظ کو قومی ٹی 20ٹیم کی قیادت چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تب بھی ہم نے آواز اٹھائی تھی۔
لہٰذا ایسی باتیں کرنا درست نہیں، یہ حقیقت ہے کہ ایک زمانے میں یونس کے ساتھ میرا اچھا تعلق رہا، میں ان کی شادی میں شرکت کے لیے مردان بھی گیا تھا مگر سابق کپتان منفرد شخصیت کے مالک ہیں، ویسے بھی پاکستان میں جب کوئی کچھ بن جائے تو اسے میڈیا ایک آنکھ نہیں بھاتا،کپتانی کے دور میں یونس کے رویے میں فرق محسوس کیا تو کچھ دوریاں ہوئیں، اب تو 2 برس سے ہمارا فون پر بھی کوئی رابطہ نہیں ہے، اس کے باوجود ان کے ساتھ غلط ہوا تو حق دلانے کے لیے آواز اٹھانا ہمارا فرض تھا۔آ یہ معاملہ پی سی بی کے گلے میں ہڈی بن کر اٹک چکا تھا، یونس کو جب بی کیٹیگری میں رکھا گیا تو وہ آگ بگولا ہو گئے، ایسے میں انھوں نے صاف کہہ دیا کہ وہ کنٹریکٹ پر دستخط نہیں کریں گے،40،50 لاکھ روپے کا نقصان ہوتا ہے تو ہو وہ صرف میچ فیس پر اکتفا کر لیں گے مگر اپنے وقار پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے، ساتھ ہی انھوں نے یہ یقین دہانی بھی کرا دی کہ وہ قومی ٹیم کے لیے بدستور دستیاب رہیں گے، ایسے میں پی سی بی حکام سے کہا گیا کہ کوئی بات نہیں یونس کنٹریکٹ سائن نہیں کرتا تو نہ کرے، دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ایسا ہوتا ہے کہ پلیئر بغیر معاہدوں کے کھیلتے ہیں۔یہ معاملہ مزید بگڑتا جا رہا تھا، مصباح الحق اور محمد حفیظ مستقبل میں اپنے ساتھ بھی ایسا ہوتا دیکھ کر دبے الفاظ میں پلیئرز کو معاہدوں پر دستخط نہ کرنے کا کہہ رہے تھے، ایسے میں ایک دن چٹکیاں بجاتے ہی مسئلہ حل ہو گیا۔
چیئرمین پی سی بی کسی کے ساتھ لنچ کر رہے تھے وہاں یونس کا ذکر چھڑا، ایسے بھی یہ بات زیر بحث آئی کہ اگر بغیر سینٹرل کنٹریکٹ کھیلنے کا رحجان چلا تو کل کو دیگر پلیئرز بھی ایسا کر کے غیرملکی لیگز میں جا کر پیسہ کمائیں گے، وہ ملکی نمائندگی سے انکار بھی کر سکتے ہیں، نجم سیٹھی کو جب سینٹرل کنٹریکٹ کے قوانین میں معمولی ترمیم سے مسئلے سے جان چھڑانے کا مشورہ ملا تو اسے انھوں نے فوراً قبول کر لیا، اسی وقت میڈیا ڈپارٹمنٹ کے افراد کو بلا کر پریس ریلیز تیار کرائی گئی اور یونس بی سے اے کیٹیگری میں آ گئے، یوں ایک بڑا تنازع حل ہو گیا، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یونس کے ساتھ ایسا کرنے کی آخر ضرورت کیا تھی۔
سینٹرل کنٹریکٹ کے حوالے سے جب پریزنٹیشن دی گئی تو کمیٹی ارکان نے بتایا کہ '' نئے فارمولے کے تحت شاہد آفریدی بی کیٹیگری میں آ رہے تھے، اس لیے ہم نے معمولی ترمیم کی تاکہ وہ اے میں برقرار رہیں''۔ پھر جب یونس خان کا ذکر آیا تو کہا گیا کہ انھیں بی میں ہی رہنے دیں وہ تو ایک ہی طرز کی کرکٹ کھیلتے ہیں، جب اعلیٰ حکام نے یہ کہا کہ اس فیصلے پر سامنے آنے والا میڈیا کا دباؤ کمیٹی برداشت کر لے گی تو فوراً ہاں میں جواب دیا گیا، یوں سینٹرل کنٹریکٹ میں یہ احمقانہ فیصلہ سامنے آ گیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے بعد چیف سلیکٹر معین خان واپس کراچی چلے گئے اور میڈیا کی توپوں کا رخ چیئرمین بورڈ کی جانب ہو گیا۔
ہمارے ملک میں تو رواج ہے کہ اگر قذافی اسٹیڈیم کے دروازے پر کسی کی گاڑی روک لی جائے تو بھی اس کا ذمہ دار بورڈ کے سربراہ کو ہی قرار دیا جاتا ہے حالانکہ اس کا کوئی قصور نہیں ہوتا، اس معاملے میں ساری تنقید نجم سیٹھی پر ہی ہوئی، فیصلہ کرنے والی کمیٹی کے ارکان صاف بچ گئے،اسی لیے جب چیئرمین نے قوانین میں ترمیم کی تو اس سے سلیکٹرز کو پیشگی آگاہ نہیں کیا، انھیں بھی میڈیا کے ذریعے ہی علم ہوا، یوں کنٹریکٹ تنازع سنگین رخ اختیار کرنے سے قبل ہی دم توڑ گیا، یہاں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا طریقہ کار اپنایا گیا جس سے یونس اے سے بی کیٹیگری میں آ جائیں،شائد کوئی کسی وجہ سے انھیں پسند نہیں کرتا اس لیے ایسا ہوا۔ ویسے اگر قانون میں تھوڑی تبدیلی کسی اچھائی کے لیے کی گئی تو کوئی بری بات نہیں ہے۔
کچھ عرصہ قبل سابق ڈائریکٹر جنرل جاوید میانداد کے استعفیٰ دینے کی چال جب الٹی پڑ گئی تو وہ بڑے پریشان ہوئے، چیئرمین پہلے ہی ان سے خوش نہ تھے، انھوں نے موقع کو غنیمت جان کر فوراً استعفیٰ قبول کر لیا، میانداد نے بہت کوشش کی لیکن معاملہ حل نہ ہوا، اب ان کے پاس موجود ایک قیمتی گاڑی کا مسئلہ سامنے آیا، وہ اسے مارکیٹ ویلیو سے خاصی کم رقم پراپنے پاس رکھنا چاہتے تھے، اس کے لیے انھوں نے زور لگانا شروع کیا، پی سی بی حکام نے بھی سوچا کہ ایک گاڑی کے بدلے اگر میانداد الگ ہو رہے ہیں تو کیا برا ہے، فوراً ایک میٹنگ میں معاملہ زیر بحث آیا اور قوانین میں ردوبدل کرتے ہوئے میانداد کی مرضی کے مطابق رقم پر گاڑی ان کے نام ہو گئی، اس کا فائدہ اب پی سی بی کے دیگر تمام ملازمین کو بھی ہو گا، جب میانداد کے لیے قانون بدلا جا سکتا ہے تو یونس خان کے لیے کیوں نہیں، وہ تو ایک بڑا نام ہیں، یہاں تو عمر اکمل اور احمد شہزاد بھی اے کیٹیگری میں نام نہ آنے پر منہ پھلائے بیٹھے تھے، حکام نے آنکھیں دکھائیں تو ساری ناراضگی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔
چیف سلیکٹر معین خان بڑی جانفشانی سے فرائض انجام دینے کے لیے کوشاں ہیں مگر کام کا بوجھ ان پر اثر انداز ہو رہا ہے، نجم سیٹھی سے کسی نے پوچھا کہ چیف سلیکٹر، منیجر، کوچ، کوچ ہنٹ کمیٹی کا سربراہ ہر ذمہ داری کے لیے معین ہی کیوں آپ کا اولین انتخاب ہوتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ ''چیئرمین بننے کے بعد غیر متنازع اور ماضی میں کوئی عہدہ نہ سنبھالنے والے سابق کرکٹرز کی فہرست بنانے کا کہا تو سب میں معین کا نام شامل تھا، اسی لیے ان پر زیادہ اعتماد کرتا ہوں'' مگر بعض لوگوں کے نزدیک اس کی وجہ بعض مشترکہ اعلیٰ شخصیات کی دوستی ہے، شاید انھیں مشورہ دینے والوں نے آئی سی ایل وغیرہ کا ذکر نہیں کیا تھا، بہرحال یونس تنازع کے بعد ایسا لگتا ہے کہ نجم سیٹھی خود بھی محسوس کرنے لگے ہیں کہ ہر کام معین خان کو دینا درست نہیں، دیگر افراد پر بھی اعتماد کرنا ہو گا۔
ایمرجنگ کیمپ کے ٹرائلز میں ڈومیسٹک کرکٹ کے ٹاپ پرفارمرز کو نہ بلانے پر میڈیا میں طوفان برپا ہو گیا، حیرت کی بات ہے کہ سلیکٹرز کی فوج کے پاس کمپیوٹر استعمال کرنے کا بھی وقت نہیں ہے، سلیم جعفر ماضی میں طویل عرصے سلیکشن کمیٹی میں شامل رہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ کھلاڑیوں کے ریکارڈز وغیرہ اپنے پاس رکھتے لہٰذا چیف سلیکٹر کو ان پر انحصار کرنا پڑتا، آج کل انٹرنیٹ کا دور ہے،آپ کہیں بھی بیٹھے اپنے موبائل فون پر بھی دیکھ سکتے ہیں کہ کون سے ٹورنامنٹ میں کس پلیئر کی کارکردگی سب سے اچھی رہی، سلیکٹرز نے ایسا نہ کیا جس کے سبب مشکل کا سامنا کرنا پڑا تو وضاحت دی گئی کہ ٹاپ پرفارمرز کو ٹرائلز دینے کی ضرورت نہیں تھی، اگر ایسا فیصلہ پہلے کیا گیا تو کیوں پریس ریلیز میں ذکر نہیں ہوا؟ ایسی سنگین غلطیاں ہوتی رہیں تو بورڈ حکام مستقبل میں مزید مشکل میں پڑ سکتے ہیں، لہٰذا معاملات پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
کراچی ایئرپورٹ پر پیش آنے والے واقعے کے بعد یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ آئر لینڈ اور سری لنکا کی ٹیمیں تو آنے کو تیار تھیں مگر اب ایسا نہ ہو گا، یہ بات درست نہیں ہے، پاکستان میں پہلے ہی ایسے حالات نہیں کہ یہاں غیر ملکی ٹیمیں آ کر کھیل سکیں، یہاں تو لاہور کے لوگ کراچی آنے سے گھبراتے ہیں تو آپ باہر سے لوگوں کو کیسے بلائیں گے؟ ہمیں پہلے اپنا گھر درست کرنا ہو گا پھر مہمانوں کو بلانے کا سوچنا چاہیے،اسی طرح ٹیموں کی آمد کے جھوٹے دعوؤں سے بھی گریز کرنا ہوگا، اپنی ہی قوم کو سبز باغ دکھانے کا کیا فائدہ، یہ بات سب جانتے ہیں کہ آئندہ کئی برس تک سونے میدان آباد ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے، ملکی حالات میں حالیہ تبدیلی سے نو تقرر شدہ غیرملکی کوچنگ اسٹاف بھی بے یقینی کا شکار ہو گیا ہو گا، گرانٹ فلاور و دیگر کے لیے اہل خانہ کو اپنے پاکستان جانے کے فیصلے پر قائل کرنا اتنا آسان نہیں،دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔
گذشتہ چند ماہ میں بھارت سے سیریز کے بھی دعوے کیے گئے مگر اب چیئرمین بورڈ نے خود ہی اعلان کر دیا کہ روایتی حریف آئندہ سال یو اے ای میں مقابل ہونگے، یوں بی سی سی آئی نے اگلے ڈیڑھ سال تک ہمیں خیالی پلاؤ بنانے پر لگا دیا کہ اب سوچتے رہو کہ اتنا فائدہ ہو گا، بگ تھری کی حمایت کا بنگلہ دیش کو تو تین ون ڈے میچز کی سیریز سے فوری انعام مل گیا مگر پاکستان سے صرف وعدوں پر اکتفا کیا گیا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت ہم سے کھیلنے میں کتنا سنجیدہ ہے، ایسا نہ ہو کہ 6سیریز کے وعدے بھی زبانی جمع خرچ ثابت ہوں اور حکومتی اجازت کی آڑ میں کھیلنے سے انکار کردیا جائے، ابھی تو یہ بھی دیکھنا ہے کہ عثمان واہلہ اور ذاکر خان آئی سی سی کی فیوچر ٹور پروگرام کی میٹنگ میں کیا کارنامہ انجام دے کر آئے ہیں، دیگر ممالک نے پاکستان کو کتنی سیریز دی ہیں؟
عثمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک اعلیٰ شخصیت کی رشتہ داری نے انھیں پی سی بی میں ملازمت دلائی مگر اب وہ بڑی تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتے جا رہے ہیں، کوئی بعید نہیں کہ چند برس بعد پی سی بی کے ڈائریکٹر بھی بن جائیں، انھیں انگریزی پر عبور رکھنے کی وجہ سے ایڈوانٹیج حاصل ہے، چمچہ گیری اور سفارش کی بنیاد پر بورڈ میں کئی برس سے اعلیٰ عہدوں پر براجمان چند سابق کرکٹرز بیچارے انگلش کا ایک جملہ بھی نہیں لکھ سکتے، ایسے میں آئی سی سی اور دیگر بورڈز سے خط و کتابت کے لیے انھیں عثمان واہلہ جیسے کسی شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو بعد میں ناگزیر بن جاتے ہیں، اسی لیے کہتا ہوں کہ پی سی بی میں اعلیٰ عہدوں پر میرٹ پر تقرریاں ہونی چاہئیں، چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد جیسے مزید تعلیم یافتہ افراد ہی بورڈ کو ایک حقیقی پروفیشنل ادارہ بنا سکتے ہیں، معمولی تنخواہوں پر کام کرنے والے ملازمین کو نکالنے سے کچھ حاصل نہ ہو گا، بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالے بغیر معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے۔
آئندہ چند روز میں آسٹریلیا میں آئی سی سی کی میٹنگز شروع ہونے والی ہیں، بگ تھری کے تناظر میں پاکستان کے لیے یہ انتہائی اہمیت کی حامل ہوں گی، چیئرمین اب عامر جیسے نان ایشوز کے بجائے حقیقی مسائل پر توجہ دیں، بنگلہ دیش جیسے ممالک فوری فائدے اٹھا رہے ہیں اور ہم مستقبل کی سیریز اور مالی فوائد کے بجائے فضول باتوں پر وقت ضائع کر رہے ہیں، ویسے ہی بہت دیر ہو چکی، اب اگر ہوش کے ناخن نہ لیے تو مزید مسائل بازو پھیلائے ہمارا استقبال کریں گے۔
کیمپ ختم ہونے کے بعد پلیئرز ان دنوں آرام کر رہے ہیں، ایسے میں معاملات اچھے چل رہے تھے کہ سینئر بیٹسمین یونس خان کو سینٹرل کنٹریکٹ کی بی کیٹیگری میں رکھ کر ایک نیا محاذ کھول لیا گیا، بعد میں چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے یہ غیر ضروری تنازع ختم کرایا، ایسے میں ایمرجنگ کیمپ کے ٹرائلز سے ڈومیسٹک کرکٹ کے ٹاپ کھلاڑیوں کے اخراج کا معاملہ سامنے آ گیا، اب اس معاملے پر بھی وضاحتیں دینے کا سلسلہ جاری ہے، دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے، پہلے یونس کے حوالے سے کچھ بات کر لیں۔ ان کے ساتھ کنٹریکٹ میں جب ناانصافی ہوئی تو بورڈ کے ایک اعلیٰ افسر نے مجھ سے شکوہ کیا کہ ''ہم نے پلیئرز کی تنخواہیں بڑھا دیں، میچ فیس میں اضافہ کر دیا، اسے سراہنے کے باوجود آپ یونس خان کے معاملے کو خوامخواہ اچھال رہے ہیں، شائد اس کی وجہ ان کا کراچی سے تعلق ہونا ہے، یہ بات سن کر مجھے بہت بُرا لگا، ہمارے ملک میں یہ روایت ہے کہ کسی کھلاڑی کا مشکل میں ساتھ دو تو ایسی باتیں شروع ہو جاتی ہیں، میں نے انھیں یاد دلایا کہ گذشتہ عرصے میں جب محمد حفیظ کو قومی ٹی 20ٹیم کی قیادت چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تب بھی ہم نے آواز اٹھائی تھی۔
لہٰذا ایسی باتیں کرنا درست نہیں، یہ حقیقت ہے کہ ایک زمانے میں یونس کے ساتھ میرا اچھا تعلق رہا، میں ان کی شادی میں شرکت کے لیے مردان بھی گیا تھا مگر سابق کپتان منفرد شخصیت کے مالک ہیں، ویسے بھی پاکستان میں جب کوئی کچھ بن جائے تو اسے میڈیا ایک آنکھ نہیں بھاتا،کپتانی کے دور میں یونس کے رویے میں فرق محسوس کیا تو کچھ دوریاں ہوئیں، اب تو 2 برس سے ہمارا فون پر بھی کوئی رابطہ نہیں ہے، اس کے باوجود ان کے ساتھ غلط ہوا تو حق دلانے کے لیے آواز اٹھانا ہمارا فرض تھا۔آ یہ معاملہ پی سی بی کے گلے میں ہڈی بن کر اٹک چکا تھا، یونس کو جب بی کیٹیگری میں رکھا گیا تو وہ آگ بگولا ہو گئے، ایسے میں انھوں نے صاف کہہ دیا کہ وہ کنٹریکٹ پر دستخط نہیں کریں گے،40،50 لاکھ روپے کا نقصان ہوتا ہے تو ہو وہ صرف میچ فیس پر اکتفا کر لیں گے مگر اپنے وقار پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے، ساتھ ہی انھوں نے یہ یقین دہانی بھی کرا دی کہ وہ قومی ٹیم کے لیے بدستور دستیاب رہیں گے، ایسے میں پی سی بی حکام سے کہا گیا کہ کوئی بات نہیں یونس کنٹریکٹ سائن نہیں کرتا تو نہ کرے، دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ایسا ہوتا ہے کہ پلیئر بغیر معاہدوں کے کھیلتے ہیں۔یہ معاملہ مزید بگڑتا جا رہا تھا، مصباح الحق اور محمد حفیظ مستقبل میں اپنے ساتھ بھی ایسا ہوتا دیکھ کر دبے الفاظ میں پلیئرز کو معاہدوں پر دستخط نہ کرنے کا کہہ رہے تھے، ایسے میں ایک دن چٹکیاں بجاتے ہی مسئلہ حل ہو گیا۔
چیئرمین پی سی بی کسی کے ساتھ لنچ کر رہے تھے وہاں یونس کا ذکر چھڑا، ایسے بھی یہ بات زیر بحث آئی کہ اگر بغیر سینٹرل کنٹریکٹ کھیلنے کا رحجان چلا تو کل کو دیگر پلیئرز بھی ایسا کر کے غیرملکی لیگز میں جا کر پیسہ کمائیں گے، وہ ملکی نمائندگی سے انکار بھی کر سکتے ہیں، نجم سیٹھی کو جب سینٹرل کنٹریکٹ کے قوانین میں معمولی ترمیم سے مسئلے سے جان چھڑانے کا مشورہ ملا تو اسے انھوں نے فوراً قبول کر لیا، اسی وقت میڈیا ڈپارٹمنٹ کے افراد کو بلا کر پریس ریلیز تیار کرائی گئی اور یونس بی سے اے کیٹیگری میں آ گئے، یوں ایک بڑا تنازع حل ہو گیا، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یونس کے ساتھ ایسا کرنے کی آخر ضرورت کیا تھی۔
سینٹرل کنٹریکٹ کے حوالے سے جب پریزنٹیشن دی گئی تو کمیٹی ارکان نے بتایا کہ '' نئے فارمولے کے تحت شاہد آفریدی بی کیٹیگری میں آ رہے تھے، اس لیے ہم نے معمولی ترمیم کی تاکہ وہ اے میں برقرار رہیں''۔ پھر جب یونس خان کا ذکر آیا تو کہا گیا کہ انھیں بی میں ہی رہنے دیں وہ تو ایک ہی طرز کی کرکٹ کھیلتے ہیں، جب اعلیٰ حکام نے یہ کہا کہ اس فیصلے پر سامنے آنے والا میڈیا کا دباؤ کمیٹی برداشت کر لے گی تو فوراً ہاں میں جواب دیا گیا، یوں سینٹرل کنٹریکٹ میں یہ احمقانہ فیصلہ سامنے آ گیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے بعد چیف سلیکٹر معین خان واپس کراچی چلے گئے اور میڈیا کی توپوں کا رخ چیئرمین بورڈ کی جانب ہو گیا۔
ہمارے ملک میں تو رواج ہے کہ اگر قذافی اسٹیڈیم کے دروازے پر کسی کی گاڑی روک لی جائے تو بھی اس کا ذمہ دار بورڈ کے سربراہ کو ہی قرار دیا جاتا ہے حالانکہ اس کا کوئی قصور نہیں ہوتا، اس معاملے میں ساری تنقید نجم سیٹھی پر ہی ہوئی، فیصلہ کرنے والی کمیٹی کے ارکان صاف بچ گئے،اسی لیے جب چیئرمین نے قوانین میں ترمیم کی تو اس سے سلیکٹرز کو پیشگی آگاہ نہیں کیا، انھیں بھی میڈیا کے ذریعے ہی علم ہوا، یوں کنٹریکٹ تنازع سنگین رخ اختیار کرنے سے قبل ہی دم توڑ گیا، یہاں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا طریقہ کار اپنایا گیا جس سے یونس اے سے بی کیٹیگری میں آ جائیں،شائد کوئی کسی وجہ سے انھیں پسند نہیں کرتا اس لیے ایسا ہوا۔ ویسے اگر قانون میں تھوڑی تبدیلی کسی اچھائی کے لیے کی گئی تو کوئی بری بات نہیں ہے۔
کچھ عرصہ قبل سابق ڈائریکٹر جنرل جاوید میانداد کے استعفیٰ دینے کی چال جب الٹی پڑ گئی تو وہ بڑے پریشان ہوئے، چیئرمین پہلے ہی ان سے خوش نہ تھے، انھوں نے موقع کو غنیمت جان کر فوراً استعفیٰ قبول کر لیا، میانداد نے بہت کوشش کی لیکن معاملہ حل نہ ہوا، اب ان کے پاس موجود ایک قیمتی گاڑی کا مسئلہ سامنے آیا، وہ اسے مارکیٹ ویلیو سے خاصی کم رقم پراپنے پاس رکھنا چاہتے تھے، اس کے لیے انھوں نے زور لگانا شروع کیا، پی سی بی حکام نے بھی سوچا کہ ایک گاڑی کے بدلے اگر میانداد الگ ہو رہے ہیں تو کیا برا ہے، فوراً ایک میٹنگ میں معاملہ زیر بحث آیا اور قوانین میں ردوبدل کرتے ہوئے میانداد کی مرضی کے مطابق رقم پر گاڑی ان کے نام ہو گئی، اس کا فائدہ اب پی سی بی کے دیگر تمام ملازمین کو بھی ہو گا، جب میانداد کے لیے قانون بدلا جا سکتا ہے تو یونس خان کے لیے کیوں نہیں، وہ تو ایک بڑا نام ہیں، یہاں تو عمر اکمل اور احمد شہزاد بھی اے کیٹیگری میں نام نہ آنے پر منہ پھلائے بیٹھے تھے، حکام نے آنکھیں دکھائیں تو ساری ناراضگی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔
چیف سلیکٹر معین خان بڑی جانفشانی سے فرائض انجام دینے کے لیے کوشاں ہیں مگر کام کا بوجھ ان پر اثر انداز ہو رہا ہے، نجم سیٹھی سے کسی نے پوچھا کہ چیف سلیکٹر، منیجر، کوچ، کوچ ہنٹ کمیٹی کا سربراہ ہر ذمہ داری کے لیے معین ہی کیوں آپ کا اولین انتخاب ہوتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ ''چیئرمین بننے کے بعد غیر متنازع اور ماضی میں کوئی عہدہ نہ سنبھالنے والے سابق کرکٹرز کی فہرست بنانے کا کہا تو سب میں معین کا نام شامل تھا، اسی لیے ان پر زیادہ اعتماد کرتا ہوں'' مگر بعض لوگوں کے نزدیک اس کی وجہ بعض مشترکہ اعلیٰ شخصیات کی دوستی ہے، شاید انھیں مشورہ دینے والوں نے آئی سی ایل وغیرہ کا ذکر نہیں کیا تھا، بہرحال یونس تنازع کے بعد ایسا لگتا ہے کہ نجم سیٹھی خود بھی محسوس کرنے لگے ہیں کہ ہر کام معین خان کو دینا درست نہیں، دیگر افراد پر بھی اعتماد کرنا ہو گا۔
ایمرجنگ کیمپ کے ٹرائلز میں ڈومیسٹک کرکٹ کے ٹاپ پرفارمرز کو نہ بلانے پر میڈیا میں طوفان برپا ہو گیا، حیرت کی بات ہے کہ سلیکٹرز کی فوج کے پاس کمپیوٹر استعمال کرنے کا بھی وقت نہیں ہے، سلیم جعفر ماضی میں طویل عرصے سلیکشن کمیٹی میں شامل رہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ کھلاڑیوں کے ریکارڈز وغیرہ اپنے پاس رکھتے لہٰذا چیف سلیکٹر کو ان پر انحصار کرنا پڑتا، آج کل انٹرنیٹ کا دور ہے،آپ کہیں بھی بیٹھے اپنے موبائل فون پر بھی دیکھ سکتے ہیں کہ کون سے ٹورنامنٹ میں کس پلیئر کی کارکردگی سب سے اچھی رہی، سلیکٹرز نے ایسا نہ کیا جس کے سبب مشکل کا سامنا کرنا پڑا تو وضاحت دی گئی کہ ٹاپ پرفارمرز کو ٹرائلز دینے کی ضرورت نہیں تھی، اگر ایسا فیصلہ پہلے کیا گیا تو کیوں پریس ریلیز میں ذکر نہیں ہوا؟ ایسی سنگین غلطیاں ہوتی رہیں تو بورڈ حکام مستقبل میں مزید مشکل میں پڑ سکتے ہیں، لہٰذا معاملات پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
کراچی ایئرپورٹ پر پیش آنے والے واقعے کے بعد یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ آئر لینڈ اور سری لنکا کی ٹیمیں تو آنے کو تیار تھیں مگر اب ایسا نہ ہو گا، یہ بات درست نہیں ہے، پاکستان میں پہلے ہی ایسے حالات نہیں کہ یہاں غیر ملکی ٹیمیں آ کر کھیل سکیں، یہاں تو لاہور کے لوگ کراچی آنے سے گھبراتے ہیں تو آپ باہر سے لوگوں کو کیسے بلائیں گے؟ ہمیں پہلے اپنا گھر درست کرنا ہو گا پھر مہمانوں کو بلانے کا سوچنا چاہیے،اسی طرح ٹیموں کی آمد کے جھوٹے دعوؤں سے بھی گریز کرنا ہوگا، اپنی ہی قوم کو سبز باغ دکھانے کا کیا فائدہ، یہ بات سب جانتے ہیں کہ آئندہ کئی برس تک سونے میدان آباد ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے، ملکی حالات میں حالیہ تبدیلی سے نو تقرر شدہ غیرملکی کوچنگ اسٹاف بھی بے یقینی کا شکار ہو گیا ہو گا، گرانٹ فلاور و دیگر کے لیے اہل خانہ کو اپنے پاکستان جانے کے فیصلے پر قائل کرنا اتنا آسان نہیں،دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔
گذشتہ چند ماہ میں بھارت سے سیریز کے بھی دعوے کیے گئے مگر اب چیئرمین بورڈ نے خود ہی اعلان کر دیا کہ روایتی حریف آئندہ سال یو اے ای میں مقابل ہونگے، یوں بی سی سی آئی نے اگلے ڈیڑھ سال تک ہمیں خیالی پلاؤ بنانے پر لگا دیا کہ اب سوچتے رہو کہ اتنا فائدہ ہو گا، بگ تھری کی حمایت کا بنگلہ دیش کو تو تین ون ڈے میچز کی سیریز سے فوری انعام مل گیا مگر پاکستان سے صرف وعدوں پر اکتفا کیا گیا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت ہم سے کھیلنے میں کتنا سنجیدہ ہے، ایسا نہ ہو کہ 6سیریز کے وعدے بھی زبانی جمع خرچ ثابت ہوں اور حکومتی اجازت کی آڑ میں کھیلنے سے انکار کردیا جائے، ابھی تو یہ بھی دیکھنا ہے کہ عثمان واہلہ اور ذاکر خان آئی سی سی کی فیوچر ٹور پروگرام کی میٹنگ میں کیا کارنامہ انجام دے کر آئے ہیں، دیگر ممالک نے پاکستان کو کتنی سیریز دی ہیں؟
عثمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک اعلیٰ شخصیت کی رشتہ داری نے انھیں پی سی بی میں ملازمت دلائی مگر اب وہ بڑی تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتے جا رہے ہیں، کوئی بعید نہیں کہ چند برس بعد پی سی بی کے ڈائریکٹر بھی بن جائیں، انھیں انگریزی پر عبور رکھنے کی وجہ سے ایڈوانٹیج حاصل ہے، چمچہ گیری اور سفارش کی بنیاد پر بورڈ میں کئی برس سے اعلیٰ عہدوں پر براجمان چند سابق کرکٹرز بیچارے انگلش کا ایک جملہ بھی نہیں لکھ سکتے، ایسے میں آئی سی سی اور دیگر بورڈز سے خط و کتابت کے لیے انھیں عثمان واہلہ جیسے کسی شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو بعد میں ناگزیر بن جاتے ہیں، اسی لیے کہتا ہوں کہ پی سی بی میں اعلیٰ عہدوں پر میرٹ پر تقرریاں ہونی چاہئیں، چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد جیسے مزید تعلیم یافتہ افراد ہی بورڈ کو ایک حقیقی پروفیشنل ادارہ بنا سکتے ہیں، معمولی تنخواہوں پر کام کرنے والے ملازمین کو نکالنے سے کچھ حاصل نہ ہو گا، بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالے بغیر معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے۔
آئندہ چند روز میں آسٹریلیا میں آئی سی سی کی میٹنگز شروع ہونے والی ہیں، بگ تھری کے تناظر میں پاکستان کے لیے یہ انتہائی اہمیت کی حامل ہوں گی، چیئرمین اب عامر جیسے نان ایشوز کے بجائے حقیقی مسائل پر توجہ دیں، بنگلہ دیش جیسے ممالک فوری فائدے اٹھا رہے ہیں اور ہم مستقبل کی سیریز اور مالی فوائد کے بجائے فضول باتوں پر وقت ضائع کر رہے ہیں، ویسے ہی بہت دیر ہو چکی، اب اگر ہوش کے ناخن نہ لیے تو مزید مسائل بازو پھیلائے ہمارا استقبال کریں گے۔