کئی بڑی ٹیموں کی عظمت کا سورج غروب ہونے لگا
برازیل میں سجے رنگا رنگ میلے میں کمزور حریف سمجھی جانے والی کئی ٹیمیں بڑے بڑے برج الٹارہی ہیں۔
کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ اٹلی جیسی ٹیم ایونٹ میں بقاکی جنگ لڑنے پر مجبور ہوگی فوٹو : فائل
فٹبال ورلڈ کپ اپنی تمام تر حشر سامانی کے ساتھ دنیا بھر کے شائقین کی توجہ کا مرکز بناہوا ہے۔
کروڑوں نظریں سٹار کھلاڑیوں کی ایک ایک ادا کا تعاقب کرتی نظر آتی ہیں، میدان کے اندر ان کی تکنیک، مہارت اور جوش و خروش ماحول گرماتا ہے تو باہر بیگمات اور دوستوں کے چرچے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف برازیل میں سجے اس رنگا رنگ میلے میں کمزور حریف سمجھی جانے والی کئی ٹیمیں بڑے بڑے برج الٹارہی ہیں جبکہ چند کی عظمت کا سورج غروب ہوتا نظر آرہا ہے۔
اسپین کی ٹیم برازیل میں اعزاز کے دفاع کی مہم شروع ہونے سے قبل دنیائے فٹبال پر راج کر رہی تھی، لگاتار تین بڑے عالمی مقابلوں کی ٹرافیوں پر اس کا قبضہ تھا، 2008 اور 2012 کے یورو ٹائٹل اور 2010 کا ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کی شاندار کارکردگی کے پیش نظر دنیا بھر کے مبصرین متفق تھے کہ اس بار بھی نامی گرامی ہسپانوی کھلاڑی حریفوں کی ہمت آزمائیں گے لیکن سلواڈور میں جو ہوا اس نے نہ صرف سٹیڈیم میں موجود تماشائیوں بلکہ دنیا بھر میں فٹبال شائقین کو بھی حیران کر دیا۔ پہلے ہی میچ میں نیدر لینڈ نے اسپین کا دفاع پاش پاش کرکے کمزور تیاریوں اور ناقص حکمت عملی کا پول کھول دیا،گروپ ''سی'' میں دیکھے بھالے حریف کے ہاتھوں بھی5-1 سے شکست کا دھچکا اتنا بڑا تھا کہ دفاعی چیمپئن سنبھل نہ پائے اور اگلے گروپ میچ میں چلی کے ہاتھوں ہار کر ٹورنامنٹ سے ہی باہر ہوگئے۔
اس رسوائی پر اسپین میں صف ماتم بچھ گئی، ملک میں ہسپانوی بادشاہ فلپ پنجم کی تقریب حلف برداری کے شادیانے بجانے کے بجائے بیشتر اخبارات کے صفحہ اول پر ''سنہری دور ہولناک انداز میں ختم ہوا'' اور ''اچھے دنوں کو خیر باد کہنے کا وقت آگیا'' جیسی سرخیاں جمائی گئیں،شکستہ پلاننگ اور تھکاوٹ کی ماری ٹیم کی دونوں میچز میں غلطیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا،شائقین نے اسکواڈ کو یکسر تبدیل کرکے تعمیر نو کا عمل جلد شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا، زاوی ہرنانڈز، ڈیوڈ ولا، فرنانڈو ٹورس، زیبی الانسو اور گول کیپر ایکر کیسیلاس ہیرو سے زیرو بن گئے، مبصرین نے روایتی فٹبال تکنیک میں جدت نہ لانے پر کوچ وسینٹے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اسکواڈ اور حکمت عملی میں بروقت تبدیلیاں نہیں کرسکے،ان کی چھٹی کرادینا چاہیے۔ اس گروپ میں نیدر لینڈ اور چلی کی بالادستی قائم ہے۔
گروپ ''ڈی'' میں کوسٹاریکا نے حیران کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابتدائی دونوں میچز میں بڑا اپ سیٹ کیا، وسطی امریکی ملک کی ٹیم فیفا رینکنگ کے حساب سے مشکل ترین گروپ ڈی میں انگلینڈ، یوروگوائے اور اٹلی کیساتھ موجود ہے، تاہم اس نے سب اندازوں کے برعکس شاندار آغاز کیا اور یوروگوائے کے خلاف ایک گول کے خسارے میں جانے کے باوجود 3-1سے میچ جیت لیا، فتح میں اہم کردار آرسنل کے فارورڈ جوئل کیمبل کا رہا جنھیں کلب نے 2011 میں سائن کرنے کے بعد آج تک کسی میچ میں نہیں کھلایا،کوسٹار ریکا نے دوسرے میچ میں برائن روئز کے ہیڈر پر شاندار گول کی بدولت اٹلی کو بھی زیر کرلیا، اطالوی ٹیم 1998کے بعد پہلی بار کسی ورلڈ کپ میچ میں گول کو ترستی میدان سے باہر گئی ہے، اس کامیابی نے ٹیم کو نہ صرف تاریخ میں دوسری بار دوسرے مرحلے میں جگہ دلائی بلکہ یوروگوئے سے مات کھانے والی انگلش سائیڈ کی پیش قدمی بھی روک دی،انگلینڈ کو 1958کے بعد پہلی بار پہلے ہی راؤنڈ سے اخراج کا صدمہ اٹھانا پڑا ہے۔
کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ کوسٹاریکا ٹورنامنٹ میں پہلے میچوں کے بعد گروپ میں سرفہرست اور اٹلی جیسی ٹیم ایونٹ میں بقاکی جنگ لڑنے پر مجبور ہوگی۔اس گروپ میں رحیم سٹرلنگ خاص توجہ کا مرکز بنے، انہیں بہترین نوجوان کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے، انگلش پریمیئر لیگ کے شائقین لیورپول کے اس 19 سالہ ونگر سے واقف تو ہیں لیکن انگلش ٹیم کے اس نئے سٹار کی ورلڈ کپ سکواڈ میں شمولیت سے کافی لوگ حیران ہوئے، جمیکا میں پیدا ہونے والے نوجوان سٹرلنگ نے اٹلی کے خلاف اپنی کارکردگی سے سب کو متاثر کیا، اس میچ کے دوران انگلینڈ میں گوگل پرسب سے زیادہ تلاش کیے جانے والے الفاظ میں رحیم سٹرلنگ کا نام بھی شامل تھا۔
برازیل نے اپنے گروپ ''اے'' میں کروشیا کو تو 3-1سے زیر کرلیا، تاہم دوسرا میچ میکسیکو کے خلاف بغیر کسی گول کے برابر کھیل کر مقامی شائقین کو مایوس کیا، میزبان ٹیم کی راہ میں حائل سب سے بڑی دیوار میکسیکن گول کیپر گولیرمو اوشوا تھے جو اس وقت کسی بھی نامور کلب سے وابستہ نہیں تاہم حریف فارورڈز کی ہر کوشش کو ناکام بنایا، نیمار کے شاندار ہیڈر کو روک کر انہوں نے شائقین کے دل جیت لئے۔
ان کی اس کوشش کو ٹوئٹر پر 1970 میں انگلش کیپر گورڈن بینکس کی اس کاوش جیسا قرار دیا گیا جب انھوں نے برازیلی سٹرائیکر پیلے کے ہیڈر کو اسی انداز میں روکا تھا، موجودہ پوزیشن کے مطابق میکسیکو نے کیمرون کیخلاف 1-0سے فتح کی بدولت برازیل کے برابر 4 پوئنٹس حاصل کرلئے جبکہ کروشیا بھی اسی حریف کو 4-1سے ہراکر تیسرے نمبر پر ہے۔گروپ ''سی'' میں کولمبیاسر فہرست جبکہ آئیوری کوسٹ نے بھی جاپان اور یونان پر برتری ثابت کی،گروپ ''ای'' میں فرانس کی ٹیم بھرپور فارم میں ہے اور دونوں میچز بڑے مارجن سے جیت کر مضبوط امیدواروں میں شامل ہوچکی، ایکواڈور اور سوئٹزر لینڈ نے ایک ایک میچ جیتاجبکہ ہونڈریس کو پہلی فتح کا انتظار ہے۔
آخری اطلاعات تک گروپ ''ایف'' میں ارجنٹائن نے پہلے میچ میں بوسنیا کو زیر کیا جبکہ نائیجریا کیخلاف ایران کے دفاعی کھیل نے میچ کو غیردلچسپ بنایا، ورلڈ کپ میں جہاں تقریباً زیادہ تر میچز میں گول ہو رہے تھے اور شائقین مقابلوں کا لطف اٹھا رہے تھے وہیں ایک میچ ایسا ہوا جسے شاید کوئی یاد نہیں رکھنا چاہے گا، ایران اور نائجیریا کا میچ اب تک کا سب سے بور مقابلہ قرار دیا جا رہا ہے، نائجیرین ٹیم نے اس میچ میں گیند پر زیادہ کنٹرول رکھا لیکن گول کرنے کی کوشش نہیں کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بغیر گول کے بے نتیجہ میچ پر بھی ایران میں جشن منایا گیا۔گروپ ''جی'' میں جرمنی نے کرسٹیانو رونالڈو سمیت سٹارز سے مزیئن پرتگالی ٹیم کو 4-0 سے روند کر خطرناک عزائم ظاہر کئے، امریکا نے گھانا کیخلاف 2-1 سے کامیابی سمیٹ کر ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی کے امکانات زندہ رکھے، گروپ ''ایچ'' میں بیلجیئم نے الجیریا کو 2-1سے شکست دی جبکہ روس اور کوریا کا مقابلہ 1-1سے برابر رہا، مزید چند اپ سیٹ میگا ایونٹ کو مزید دلچسپ بنادینگے، پاکستانی شائقین کی بڑی تعداد بھی فٹبال کے افق پر نئی طاقتیں ابھرتا دیکھنے کی منتظر ہے۔
میگا ایونٹ میں چند نئے تجربات بھی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، فری کک کے وقت بال کی صحیح جگہ کے تعین اور دفاعی کھلاڑیوں کی دیوار کی حد مقرر کرنے کے لیے ریفری کو ایک سپرے دیا گیا ہے جو جنوبی امریکہ میں خاصے عرصے سے استعمال کیا جا رہا تھا لیکن ورلڈ کپ میں پہلی بار آزمایا جارہا ہے، تماشائیوں اور شائقین نے اس کے استعمال کا خیرمقدم کیا ہے اور اب تک واحد شخص جسے اس سپرے سے مسئلہ ہوا ہے وہ ہالینڈ کے دفاعی کھلاڑی برونو مارٹنز انڈی ہیں جنھیں شکوہ ہے کہ ان کے جوتے خراب ہورہے ہیں۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ریفری گول لائن ٹیکنالوجی کا نتیجہ خصوصی گھڑی پر دیکھ سکتے ہیں،تاہم جب پہلی بار اسے استعمال کیا گیا تو کنفیوژن پیدا ہوگیا، ہونڈریس کیخلاف میچ میں فرانس کے کریم بینزیما کی ہٹ پر پہلے گول لائن ٹیکنالوجی نے اسے گول قرار نہیں دیا لیکن پھر اس کے برعکس فیصلہ سامنے آیا، اگرچہ بعد میں صورتحال واضح ہوئی کہ یہ واقعی گول تھا لیکن اس کی وجہ سے دونوں ٹیموں کے کوچ اور تماشائی پریشان ہوئے۔ ٹیکنالوجی کے استعمال کے باجود ٹورنامنٹ میں اب تک کئی فیصلے متنازعہ رہے جس سے کچھ میچ آفیشلز کی کارکردگی پر سوال اٹھے۔ایونٹ کے افتتاحی میچ میں کروشیا کو برازیل کے خلاف ملنے والی پنالٹی متنازعہ ثابت ہوئی۔
جاپانی ریفری کے اس فیصلے پر خاصی تنقید سامنے آئی کیونکہ ری پلے میں واضح تھا کہ کرویشین کھلاڑی ڈیجان لوورن برازیلی فارورڈ سے نہیں ٹکرائے تھے، نیمار نے اس پنالٹی پر گول کردیا، میچ کے بعد کروشین کوچ نے کہا کہ اگر یہی حالات ہیں تو ٹرافی برازیل کو دے کر ہمیں گھر چلے جانا چاہیے۔ ایک اور متنازع فیصلے میں ریفری نے سپین کے ڈیاگو کوسٹا کو ہالینڈ کیخلاف پنلٹی دی جبکہ ری پلے میں واضح تھا کہ کوسٹا خود ڈچ کھلاڑی کے پاؤں پر چڑھے تھے،کیمرون کے خلاف میکسیکو کے 2گول لائن مین نے متنازعہ انداز میں مسترد کئے، کولمبیا سے تعلق رکھنے والے اسسٹنٹ ریفری کو بعد زاں ورلڈ کپ میں مزید فرائض کی انجام دہی سے روک دیا گیا۔
کروڑوں نظریں سٹار کھلاڑیوں کی ایک ایک ادا کا تعاقب کرتی نظر آتی ہیں، میدان کے اندر ان کی تکنیک، مہارت اور جوش و خروش ماحول گرماتا ہے تو باہر بیگمات اور دوستوں کے چرچے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف برازیل میں سجے اس رنگا رنگ میلے میں کمزور حریف سمجھی جانے والی کئی ٹیمیں بڑے بڑے برج الٹارہی ہیں جبکہ چند کی عظمت کا سورج غروب ہوتا نظر آرہا ہے۔
اسپین کی ٹیم برازیل میں اعزاز کے دفاع کی مہم شروع ہونے سے قبل دنیائے فٹبال پر راج کر رہی تھی، لگاتار تین بڑے عالمی مقابلوں کی ٹرافیوں پر اس کا قبضہ تھا، 2008 اور 2012 کے یورو ٹائٹل اور 2010 کا ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کی شاندار کارکردگی کے پیش نظر دنیا بھر کے مبصرین متفق تھے کہ اس بار بھی نامی گرامی ہسپانوی کھلاڑی حریفوں کی ہمت آزمائیں گے لیکن سلواڈور میں جو ہوا اس نے نہ صرف سٹیڈیم میں موجود تماشائیوں بلکہ دنیا بھر میں فٹبال شائقین کو بھی حیران کر دیا۔ پہلے ہی میچ میں نیدر لینڈ نے اسپین کا دفاع پاش پاش کرکے کمزور تیاریوں اور ناقص حکمت عملی کا پول کھول دیا،گروپ ''سی'' میں دیکھے بھالے حریف کے ہاتھوں بھی5-1 سے شکست کا دھچکا اتنا بڑا تھا کہ دفاعی چیمپئن سنبھل نہ پائے اور اگلے گروپ میچ میں چلی کے ہاتھوں ہار کر ٹورنامنٹ سے ہی باہر ہوگئے۔
اس رسوائی پر اسپین میں صف ماتم بچھ گئی، ملک میں ہسپانوی بادشاہ فلپ پنجم کی تقریب حلف برداری کے شادیانے بجانے کے بجائے بیشتر اخبارات کے صفحہ اول پر ''سنہری دور ہولناک انداز میں ختم ہوا'' اور ''اچھے دنوں کو خیر باد کہنے کا وقت آگیا'' جیسی سرخیاں جمائی گئیں،شکستہ پلاننگ اور تھکاوٹ کی ماری ٹیم کی دونوں میچز میں غلطیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا،شائقین نے اسکواڈ کو یکسر تبدیل کرکے تعمیر نو کا عمل جلد شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا، زاوی ہرنانڈز، ڈیوڈ ولا، فرنانڈو ٹورس، زیبی الانسو اور گول کیپر ایکر کیسیلاس ہیرو سے زیرو بن گئے، مبصرین نے روایتی فٹبال تکنیک میں جدت نہ لانے پر کوچ وسینٹے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اسکواڈ اور حکمت عملی میں بروقت تبدیلیاں نہیں کرسکے،ان کی چھٹی کرادینا چاہیے۔ اس گروپ میں نیدر لینڈ اور چلی کی بالادستی قائم ہے۔
گروپ ''ڈی'' میں کوسٹاریکا نے حیران کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابتدائی دونوں میچز میں بڑا اپ سیٹ کیا، وسطی امریکی ملک کی ٹیم فیفا رینکنگ کے حساب سے مشکل ترین گروپ ڈی میں انگلینڈ، یوروگوائے اور اٹلی کیساتھ موجود ہے، تاہم اس نے سب اندازوں کے برعکس شاندار آغاز کیا اور یوروگوائے کے خلاف ایک گول کے خسارے میں جانے کے باوجود 3-1سے میچ جیت لیا، فتح میں اہم کردار آرسنل کے فارورڈ جوئل کیمبل کا رہا جنھیں کلب نے 2011 میں سائن کرنے کے بعد آج تک کسی میچ میں نہیں کھلایا،کوسٹار ریکا نے دوسرے میچ میں برائن روئز کے ہیڈر پر شاندار گول کی بدولت اٹلی کو بھی زیر کرلیا، اطالوی ٹیم 1998کے بعد پہلی بار کسی ورلڈ کپ میچ میں گول کو ترستی میدان سے باہر گئی ہے، اس کامیابی نے ٹیم کو نہ صرف تاریخ میں دوسری بار دوسرے مرحلے میں جگہ دلائی بلکہ یوروگوئے سے مات کھانے والی انگلش سائیڈ کی پیش قدمی بھی روک دی،انگلینڈ کو 1958کے بعد پہلی بار پہلے ہی راؤنڈ سے اخراج کا صدمہ اٹھانا پڑا ہے۔
کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ کوسٹاریکا ٹورنامنٹ میں پہلے میچوں کے بعد گروپ میں سرفہرست اور اٹلی جیسی ٹیم ایونٹ میں بقاکی جنگ لڑنے پر مجبور ہوگی۔اس گروپ میں رحیم سٹرلنگ خاص توجہ کا مرکز بنے، انہیں بہترین نوجوان کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے، انگلش پریمیئر لیگ کے شائقین لیورپول کے اس 19 سالہ ونگر سے واقف تو ہیں لیکن انگلش ٹیم کے اس نئے سٹار کی ورلڈ کپ سکواڈ میں شمولیت سے کافی لوگ حیران ہوئے، جمیکا میں پیدا ہونے والے نوجوان سٹرلنگ نے اٹلی کے خلاف اپنی کارکردگی سے سب کو متاثر کیا، اس میچ کے دوران انگلینڈ میں گوگل پرسب سے زیادہ تلاش کیے جانے والے الفاظ میں رحیم سٹرلنگ کا نام بھی شامل تھا۔
برازیل نے اپنے گروپ ''اے'' میں کروشیا کو تو 3-1سے زیر کرلیا، تاہم دوسرا میچ میکسیکو کے خلاف بغیر کسی گول کے برابر کھیل کر مقامی شائقین کو مایوس کیا، میزبان ٹیم کی راہ میں حائل سب سے بڑی دیوار میکسیکن گول کیپر گولیرمو اوشوا تھے جو اس وقت کسی بھی نامور کلب سے وابستہ نہیں تاہم حریف فارورڈز کی ہر کوشش کو ناکام بنایا، نیمار کے شاندار ہیڈر کو روک کر انہوں نے شائقین کے دل جیت لئے۔
ان کی اس کوشش کو ٹوئٹر پر 1970 میں انگلش کیپر گورڈن بینکس کی اس کاوش جیسا قرار دیا گیا جب انھوں نے برازیلی سٹرائیکر پیلے کے ہیڈر کو اسی انداز میں روکا تھا، موجودہ پوزیشن کے مطابق میکسیکو نے کیمرون کیخلاف 1-0سے فتح کی بدولت برازیل کے برابر 4 پوئنٹس حاصل کرلئے جبکہ کروشیا بھی اسی حریف کو 4-1سے ہراکر تیسرے نمبر پر ہے۔گروپ ''سی'' میں کولمبیاسر فہرست جبکہ آئیوری کوسٹ نے بھی جاپان اور یونان پر برتری ثابت کی،گروپ ''ای'' میں فرانس کی ٹیم بھرپور فارم میں ہے اور دونوں میچز بڑے مارجن سے جیت کر مضبوط امیدواروں میں شامل ہوچکی، ایکواڈور اور سوئٹزر لینڈ نے ایک ایک میچ جیتاجبکہ ہونڈریس کو پہلی فتح کا انتظار ہے۔
آخری اطلاعات تک گروپ ''ایف'' میں ارجنٹائن نے پہلے میچ میں بوسنیا کو زیر کیا جبکہ نائیجریا کیخلاف ایران کے دفاعی کھیل نے میچ کو غیردلچسپ بنایا، ورلڈ کپ میں جہاں تقریباً زیادہ تر میچز میں گول ہو رہے تھے اور شائقین مقابلوں کا لطف اٹھا رہے تھے وہیں ایک میچ ایسا ہوا جسے شاید کوئی یاد نہیں رکھنا چاہے گا، ایران اور نائجیریا کا میچ اب تک کا سب سے بور مقابلہ قرار دیا جا رہا ہے، نائجیرین ٹیم نے اس میچ میں گیند پر زیادہ کنٹرول رکھا لیکن گول کرنے کی کوشش نہیں کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بغیر گول کے بے نتیجہ میچ پر بھی ایران میں جشن منایا گیا۔گروپ ''جی'' میں جرمنی نے کرسٹیانو رونالڈو سمیت سٹارز سے مزیئن پرتگالی ٹیم کو 4-0 سے روند کر خطرناک عزائم ظاہر کئے، امریکا نے گھانا کیخلاف 2-1 سے کامیابی سمیٹ کر ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی کے امکانات زندہ رکھے، گروپ ''ایچ'' میں بیلجیئم نے الجیریا کو 2-1سے شکست دی جبکہ روس اور کوریا کا مقابلہ 1-1سے برابر رہا، مزید چند اپ سیٹ میگا ایونٹ کو مزید دلچسپ بنادینگے، پاکستانی شائقین کی بڑی تعداد بھی فٹبال کے افق پر نئی طاقتیں ابھرتا دیکھنے کی منتظر ہے۔
میگا ایونٹ میں چند نئے تجربات بھی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، فری کک کے وقت بال کی صحیح جگہ کے تعین اور دفاعی کھلاڑیوں کی دیوار کی حد مقرر کرنے کے لیے ریفری کو ایک سپرے دیا گیا ہے جو جنوبی امریکہ میں خاصے عرصے سے استعمال کیا جا رہا تھا لیکن ورلڈ کپ میں پہلی بار آزمایا جارہا ہے، تماشائیوں اور شائقین نے اس کے استعمال کا خیرمقدم کیا ہے اور اب تک واحد شخص جسے اس سپرے سے مسئلہ ہوا ہے وہ ہالینڈ کے دفاعی کھلاڑی برونو مارٹنز انڈی ہیں جنھیں شکوہ ہے کہ ان کے جوتے خراب ہورہے ہیں۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ریفری گول لائن ٹیکنالوجی کا نتیجہ خصوصی گھڑی پر دیکھ سکتے ہیں،تاہم جب پہلی بار اسے استعمال کیا گیا تو کنفیوژن پیدا ہوگیا، ہونڈریس کیخلاف میچ میں فرانس کے کریم بینزیما کی ہٹ پر پہلے گول لائن ٹیکنالوجی نے اسے گول قرار نہیں دیا لیکن پھر اس کے برعکس فیصلہ سامنے آیا، اگرچہ بعد میں صورتحال واضح ہوئی کہ یہ واقعی گول تھا لیکن اس کی وجہ سے دونوں ٹیموں کے کوچ اور تماشائی پریشان ہوئے۔ ٹیکنالوجی کے استعمال کے باجود ٹورنامنٹ میں اب تک کئی فیصلے متنازعہ رہے جس سے کچھ میچ آفیشلز کی کارکردگی پر سوال اٹھے۔ایونٹ کے افتتاحی میچ میں کروشیا کو برازیل کے خلاف ملنے والی پنالٹی متنازعہ ثابت ہوئی۔
جاپانی ریفری کے اس فیصلے پر خاصی تنقید سامنے آئی کیونکہ ری پلے میں واضح تھا کہ کرویشین کھلاڑی ڈیجان لوورن برازیلی فارورڈ سے نہیں ٹکرائے تھے، نیمار نے اس پنالٹی پر گول کردیا، میچ کے بعد کروشین کوچ نے کہا کہ اگر یہی حالات ہیں تو ٹرافی برازیل کو دے کر ہمیں گھر چلے جانا چاہیے۔ ایک اور متنازع فیصلے میں ریفری نے سپین کے ڈیاگو کوسٹا کو ہالینڈ کیخلاف پنلٹی دی جبکہ ری پلے میں واضح تھا کہ کوسٹا خود ڈچ کھلاڑی کے پاؤں پر چڑھے تھے،کیمرون کے خلاف میکسیکو کے 2گول لائن مین نے متنازعہ انداز میں مسترد کئے، کولمبیا سے تعلق رکھنے والے اسسٹنٹ ریفری کو بعد زاں ورلڈ کپ میں مزید فرائض کی انجام دہی سے روک دیا گیا۔