امریکی امداد میں معمولی کٹوتی

کانگریس کمیٹی نے صدر اوباما کی جانب سے پاکستان کیلئے 1.03 ارب ڈالر کی امداد کی منظوری کی تجویز مسترد کردی

کانگریس کمیٹی نے صدر اوباما کی جانب سے پاکستان کیلئے 1.03 ارب ڈالر کی امداد کی منظوری کی تجویز مسترد کردی فوٹو؛ فائل

اخباری اطلاعات کے مطابق امریکا نے پاکستان کے لیے آیندہ سال کی مجوزہ 1.03 ارب ڈالر کی امداد میں 65.8 ملین (چھ کروڑ اٹھاون لاکھ) ڈالر کی کمی کر دی۔ رپورٹ کے مطابق کانگریس کمیٹی کے اجلاس میں امریکی محکمہ خارجہ کے لیے 2015ء کے 48.28 ارب ڈالر کے بجٹ کی منظوری دی گئی تاہم کانگریس کمیٹی نے صدر اوباما کی جانب سے پاکستان کے لیے 1.03 ارب ڈالر کی امداد کی منظوری کی تجویز مسترد کرتے ہوئے مجوزہ امداد میں 65.8 ملین (چھ کروڑ اٹھاون لاکھ) ڈالر کی کٹوتی کر دی جس کے بعد 959.7 ملین (پچانوے کروڑ ستانوے لاکھ) ڈالر کی مجموعی امداد منظور کی گئی۔

امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق کانگریس کمیٹی میں پیش کیے جانے والے بل میں پاکستان میں پولیو سے تحفظ کے پروگرام کے لیے 59 ملین (پانچ کروڑ نوے لاکھ) ڈالر کے فنڈز کا اضافہ کیا گیا ہے۔ امریکی کانگریس کی اپروپری ایٹ کمیٹی نے وزیر خارجہ سے درخواست کی کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی نمایندوں کے دفاتر بھی سمیٹیں۔ جب کہ پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ملالہ کے بہادرانہ کردار کا اعتراف کرتے ہوئے اسکالرشپ پروگرام کے تحت 3 ملین (تیس لاکھ) ڈالر کی اضافی امداد کی بھی منظوری دی گئی۔

کمیٹی نے محکمہ خارجہ سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس رقم میں سے ایک ڈالر بھی پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے لیے استعمال نہ ہو۔ بلکہ صرف ان مقاصد کے لیے استعمال ہو جن کا تعلق پاکستان اور امریکا کے دو طرفہ تعلقات کے ساتھ ہے۔ اس خبر میں نوٹ کیے جانے والے نکات میں ایک تو یہ ہے کہ ایک ایک سو تین کروڑ ڈالر کی امداد میں سے صرف تقریبا ساڑھے چھ کروڑ ڈالر کی کٹوتی کی گئی جو کہ زیادہ نہیں لیکن میڈیا نے اسے خاصا نمایاں کر کے شایع کیا جس سے ایسا تاثر ملتا ہے جیسے پاکستان کا بہت بھاری خسارہ ہو گیا ہے۔


اور دوسرا اس سے بھی زیادہ اہم نکتہ یہ ہے کہ اس امداد کو پاکستان کسی صورت پاک ایران گیس پائپ لائن پر خرچ نہیں کر سکے گا۔ گویا اس امداد کے ساتھ اس کو خرچ کرنے کی ہدایات بھی پاکستان کو واشنگٹن سے ہی موصول ہوں گی لہذا بیرونی امداد اور قرضوں کے بارے میں جو عمومی تاثر ہے کہ زر مبادلہ کی شکل میں آنے والی یہ رقوم بالواسطہ طور پر وہیں واپس پہنچ جاتی ہیں جہاں سے ان کا اجراء عمل میں آتا ہے۔ اس حوالے سے پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس قسم کے لین دین کا ہمارے وطن عزیز کا آخر کیا فائدہ ہے؟

ہماری حکومت اگر عوام کے معلومات تک رسائی کے حق کو تسلیم کر لے تو عوام کو پتہ چل سکتا ہے کہ زر مبادلہ کی شکل میں آنے والی قیمتی رقوم آخر کن ناگزیر مصارف میں استعمال ہوتی رہی ہیں اور آیندہ ان کا کیا مصرف ہونے والا ہے کیونکہ انھیں اپنے مفید استعمال میں لانے پر تو پہلے ہی پابندی عاید کر دی گئی ہے۔ یعنی ہم اپنے برادر ہمسایہ ملک سے تو گیس نہیں لے سکتے جو کہ توانائی کے موجودہ بحران پر قابو پانے میں ہمیں بہت مدد دے سکتی ہے۔

اس حوالے سے امریکا نے پاکستان کو ایک متبادل پائپ لائن تجویز کر رکھی ہے جو وسط ایشیا سے براستہ افغانستان پاکستان پہنچے گی مگر افغانستان کی صورتحال میں کیا ایسا ممکن ہے؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے جس کا جواب معلوم نہیں۔ بہر حال امریکی امداد میں کٹوتی کا معاملہ کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں ہے' اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات بہتری کی جانب گامزن رہیں گے۔
Load Next Story