آپریشن ضرب عضب بھرپور طریقے سے جاری
شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف فوج کا آپریشن نہایت کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے ۔۔۔
شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف فوج کا آپریشن نہایت کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ فوٹو؛ فائل
شمالی وزیرستان ایجنسی میں ہفتہ کو علی الصبح فضائی حملوں میں مزید53 دہشت گرد مارے گئے' بمباری کے لیے جیٹ طیارے' کوبرا ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے' جنھیں آرٹلری اور اسنائپرز کی مدد بھی حاصل تھی' دہشت گردوں کے پانچ ٹھکانے' بھاری مقدار میں گولہ بارود اور اسلحہ تباہ کر دیا گیا۔ اس طرح ایک ہفتے میںسیکڑوں دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں۔
شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف فوج کا آپریشن نہایت کامیابی سے آگے بڑھ رہا اور دہشت گردوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق دہشت گرد مہاجرین کے روپ میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، کچھ شوال کے علاقے میں گھنے جنگلوں میں چلے گئے ہیں۔ دہشت گرد ایک عرصے سے حکومت کے لیے درد سر بنے ہوئے تھے اور اپنی کارروائیوں کے ذریعے امن و امان کے مسائل پیدا کر رہے تھے۔
سیاسی ماہرین کا ایک طبقہ حکومت پر زور دے رہا تھا کہ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کے بجائے ان کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے، مذاکرات سے کچھ حاصل نہ ہوگا مگر کچھ مذہبی اور سیاسی حلقے انتہا پسندوں کے خلاف آپریشن کے بجائے مذاکرات کے حامی تھے اور حکومت پر مسلسل دبائو ڈال رہے تھے کہ امن کا واحد راستہ انتہا پسندوں کے ساتھ مذاکرات ہیں، آپریشن سے مسائل بڑھیں گے اور ایک ناختم ہونے والی جنگ شروع ہو جائے گی۔
بعض حلقوں کی جانب سے انتہا پسندوں کو ایک ایسے طاقتور گروہ کے روپ میں پیش کیا جا رہا تھا کہ جن سے جنگ کی صورت میں حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ دہشت گردوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے لیکن دوسرے حلقے کا موقف تھا کہ یہ سب ایک گیم کا حصہ ہے ، دہشت گردوں کا ہوا کھڑا کیا جا رہا ہے وہ فوج کے ساتھ مقابلے کی سکت نہیں رکھتے، جب بھی ان کے خلاف بھرپور آپریشن کیا گیا دہشت گردوں کی ہوا اکھڑ جائے گی، امن و امان کا واحد حل آپریشن ہی ہے۔
حکومت نے ابتدا میں مذاکرات کا راستہ ہی اپنایا مگر دہشت گردوں نے اسے حکومت کی کمزوری سمجھتے ہوئے مذاکرات کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھیں۔ انھوں نے سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنایا، ان کا خیال تھا کہ حکومت اور فوج ان کے خلاف کبھی کارروائی نہیں کریں گے اور وہ دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذریعے حکومت کو دبائو میں لا کر اپنی من مانی شرائط منوانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اپنی اسی حکمت عملی کے تحت انھوں نے کراچی ایئر پورٹ پر حملہ کر دیا۔ اس حملے سے ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور ہر طرف سے دہشت گردوں کے خلاف فوری آپریشن کا مطالبہ کیا جانے لگا۔
اب فوج نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر کے ثابت کر دیا ہے کہ کوئی بھی مسلح گروہ خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اسے شکست دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ فوج دہشت گردوں کے خلاف نہایت حکمت عملی اور مہارت سے کامیابی حاصل کر رہی ہے اور وہی دہشت گرد جو حکومت کے لیے مسئلہ بنے ہوئے تھے اب اپنی جانیں بچانے کے لیے فرار ہو رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق خیبر ایجنسی کے باڑا کے علاقے ملک دین خیل میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں تین مشتبہ شدت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
سرکاری ذرایع کا کہنا ہے کہ ان عسکریت پسندوں نے باڑا کے علاقے ملک دین خیل میں ایک سرکاری اسکول پر قبضہ کر رکھا تھا' جسے گن شپ ہیلی کاپٹرز سے نشانہ بنایا گیا' اس کے علاوہ فوج کی جانب سے محاصرے میں لیے گئے علاقے سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے تین افراد کوگرفتار کر لیا گیا، مختلف چوکیوں سے 24 مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا جو مہاجرین کے روپ میں نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ فوج اپنے آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے قبائلی عمائدین کی حمایت بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔
ٹوئٹر پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ نے ٹویٹ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ' میر علی اور دتہ خیل کے عمائدین نے فوجی آپریشن کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے' عمائدین نے یہ بھی اعادہ کیا کہ وہ دہشت گردوں کو دوبارہ وزیرستان میں آنے نہیں دیں گے۔ علاوہ ازیں دہشت گردی کی کارروائیوں پر قابو پانے اور دہشت گردوں کے باہمی رابطے کمزور بنانے کے لیے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے افغان رومنگ سمیں بند کرنے کا حکم دیا ہے، یہ حکم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی درخواست پر جاری کیا گیا ہے۔
اس حکم سے یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ اس سے نہ صرف شدت پسندوں کے مابین رابطوں کا نظام متاثر ہو گا بلکہ اغوا برائے تاوان جیسے جرائم میں بھی کمی آئے گی۔یہ ایک بروقت اقدام ہے اور اس کے مثبت نتائج برآمدہوں گے۔ دوسری جانب آپریشن سے متاثر ہونے والے آئی ڈی پیز کے مسئلے سے فوج نہایت مہارت سے نمٹ رہی ہے۔
آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق فوج کی طرف سے مہاجرین کے لیے ایک دن کی تنخواہ اور ایک ماہ کا راشن دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے قبائلیوں کے لیے پاک فوج راشن بھی فراہم کریگی جو ایک ماہ کے لیے کافی ہو گا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ بے گھر ہونے والے قبائلیوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں' آئی ڈی پیز کو چیک پوائنٹس پر نقد رقم دی جائے اور امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے دیگر اداروں سے بھی رابطہ رکھا جائے۔
فوج نے اس سے قبل سوات میں بھی کامیاب آپریشن کر کے علاقے کو پرامن بنا دیا تھا اور اب بھی وہ شمالی وزیرستان میں اسی مہارت سے کامیابی حاصل کر رہی ہے۔ امید ہے کہ فوج جلد شمالی وزیرستان میں امن قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے گی اور پورا ملک پھر سے دہشت گردی سے پاک ہو جائے گا۔ جہاں تک مہاجرین کا معاملہ ہے تو یہ ایسا نہیں کہ حل نہ ہوسکے۔ پہلے سوات اور پھر جنوبی وزیرستان سے بھی آئی ڈی پیز آئے تھے۔ حکومت، پاک فوج اور عوام نے ان کی بھر پور مدد کی اور پھر بعد میں حکومت نے ان کی آبادکاری کے لیے بھرپور اقدامات کیے اور وہ لوگ جلد اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔ اس لیے شمالی وزیرستان سے آئے افراد بھی جلد اپنے گھروں کو واپس جائیں اور وہاں امن بھی قائم ہوچکا ہوگا۔
شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف فوج کا آپریشن نہایت کامیابی سے آگے بڑھ رہا اور دہشت گردوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق دہشت گرد مہاجرین کے روپ میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، کچھ شوال کے علاقے میں گھنے جنگلوں میں چلے گئے ہیں۔ دہشت گرد ایک عرصے سے حکومت کے لیے درد سر بنے ہوئے تھے اور اپنی کارروائیوں کے ذریعے امن و امان کے مسائل پیدا کر رہے تھے۔
سیاسی ماہرین کا ایک طبقہ حکومت پر زور دے رہا تھا کہ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کے بجائے ان کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے، مذاکرات سے کچھ حاصل نہ ہوگا مگر کچھ مذہبی اور سیاسی حلقے انتہا پسندوں کے خلاف آپریشن کے بجائے مذاکرات کے حامی تھے اور حکومت پر مسلسل دبائو ڈال رہے تھے کہ امن کا واحد راستہ انتہا پسندوں کے ساتھ مذاکرات ہیں، آپریشن سے مسائل بڑھیں گے اور ایک ناختم ہونے والی جنگ شروع ہو جائے گی۔
بعض حلقوں کی جانب سے انتہا پسندوں کو ایک ایسے طاقتور گروہ کے روپ میں پیش کیا جا رہا تھا کہ جن سے جنگ کی صورت میں حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ دہشت گردوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے لیکن دوسرے حلقے کا موقف تھا کہ یہ سب ایک گیم کا حصہ ہے ، دہشت گردوں کا ہوا کھڑا کیا جا رہا ہے وہ فوج کے ساتھ مقابلے کی سکت نہیں رکھتے، جب بھی ان کے خلاف بھرپور آپریشن کیا گیا دہشت گردوں کی ہوا اکھڑ جائے گی، امن و امان کا واحد حل آپریشن ہی ہے۔
حکومت نے ابتدا میں مذاکرات کا راستہ ہی اپنایا مگر دہشت گردوں نے اسے حکومت کی کمزوری سمجھتے ہوئے مذاکرات کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھیں۔ انھوں نے سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنایا، ان کا خیال تھا کہ حکومت اور فوج ان کے خلاف کبھی کارروائی نہیں کریں گے اور وہ دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذریعے حکومت کو دبائو میں لا کر اپنی من مانی شرائط منوانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اپنی اسی حکمت عملی کے تحت انھوں نے کراچی ایئر پورٹ پر حملہ کر دیا۔ اس حملے سے ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور ہر طرف سے دہشت گردوں کے خلاف فوری آپریشن کا مطالبہ کیا جانے لگا۔
اب فوج نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر کے ثابت کر دیا ہے کہ کوئی بھی مسلح گروہ خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اسے شکست دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ فوج دہشت گردوں کے خلاف نہایت حکمت عملی اور مہارت سے کامیابی حاصل کر رہی ہے اور وہی دہشت گرد جو حکومت کے لیے مسئلہ بنے ہوئے تھے اب اپنی جانیں بچانے کے لیے فرار ہو رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق خیبر ایجنسی کے باڑا کے علاقے ملک دین خیل میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں تین مشتبہ شدت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
سرکاری ذرایع کا کہنا ہے کہ ان عسکریت پسندوں نے باڑا کے علاقے ملک دین خیل میں ایک سرکاری اسکول پر قبضہ کر رکھا تھا' جسے گن شپ ہیلی کاپٹرز سے نشانہ بنایا گیا' اس کے علاوہ فوج کی جانب سے محاصرے میں لیے گئے علاقے سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے تین افراد کوگرفتار کر لیا گیا، مختلف چوکیوں سے 24 مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا جو مہاجرین کے روپ میں نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ فوج اپنے آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے قبائلی عمائدین کی حمایت بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔
ٹوئٹر پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ نے ٹویٹ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ' میر علی اور دتہ خیل کے عمائدین نے فوجی آپریشن کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے' عمائدین نے یہ بھی اعادہ کیا کہ وہ دہشت گردوں کو دوبارہ وزیرستان میں آنے نہیں دیں گے۔ علاوہ ازیں دہشت گردی کی کارروائیوں پر قابو پانے اور دہشت گردوں کے باہمی رابطے کمزور بنانے کے لیے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے افغان رومنگ سمیں بند کرنے کا حکم دیا ہے، یہ حکم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی درخواست پر جاری کیا گیا ہے۔
اس حکم سے یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ اس سے نہ صرف شدت پسندوں کے مابین رابطوں کا نظام متاثر ہو گا بلکہ اغوا برائے تاوان جیسے جرائم میں بھی کمی آئے گی۔یہ ایک بروقت اقدام ہے اور اس کے مثبت نتائج برآمدہوں گے۔ دوسری جانب آپریشن سے متاثر ہونے والے آئی ڈی پیز کے مسئلے سے فوج نہایت مہارت سے نمٹ رہی ہے۔
آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق فوج کی طرف سے مہاجرین کے لیے ایک دن کی تنخواہ اور ایک ماہ کا راشن دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے قبائلیوں کے لیے پاک فوج راشن بھی فراہم کریگی جو ایک ماہ کے لیے کافی ہو گا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ بے گھر ہونے والے قبائلیوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں' آئی ڈی پیز کو چیک پوائنٹس پر نقد رقم دی جائے اور امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے دیگر اداروں سے بھی رابطہ رکھا جائے۔
فوج نے اس سے قبل سوات میں بھی کامیاب آپریشن کر کے علاقے کو پرامن بنا دیا تھا اور اب بھی وہ شمالی وزیرستان میں اسی مہارت سے کامیابی حاصل کر رہی ہے۔ امید ہے کہ فوج جلد شمالی وزیرستان میں امن قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے گی اور پورا ملک پھر سے دہشت گردی سے پاک ہو جائے گا۔ جہاں تک مہاجرین کا معاملہ ہے تو یہ ایسا نہیں کہ حل نہ ہوسکے۔ پہلے سوات اور پھر جنوبی وزیرستان سے بھی آئی ڈی پیز آئے تھے۔ حکومت، پاک فوج اور عوام نے ان کی بھر پور مدد کی اور پھر بعد میں حکومت نے ان کی آبادکاری کے لیے بھرپور اقدامات کیے اور وہ لوگ جلد اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔ اس لیے شمالی وزیرستان سے آئے افراد بھی جلد اپنے گھروں کو واپس جائیں اور وہاں امن بھی قائم ہوچکا ہوگا۔