ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلیے اسپتالوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت
دوائوں کی دستیابی کے ساتھ ڈاکٹرز کی موجودگی کو بھی یقینی بنایا جائے، ڈاکٹر صغیر احمد
بلڈ بینکوں کو 24گھنٹے فعال رکھا جائے،کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی،وزیر صحت۔ فوٹو: فائل
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلیے اسپتالوں اور تمام بلڈ بینکس کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیدیا ہے۔
کہا ہے کہ بلڈ بینکوںکو 24گھنٹے فعال رکھا جائے، انھوں نے کہاکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ بلڈ بینکوں میں تمام اقسام کے خون کی وافر مقدار بھی موجود ہو، صوبائی وزیر صحت نے تمام سرکاری اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو بھی ہدایات دی ہیں۔
کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں اسپتالوں میں ضروری نوعیت کی دوائوں کی دستیابی کے ساتھ ساتھ تمام ڈاکٹرز و اسٹاف کی موجودگی کو بھی یقینی بنایا جائے، اس ضمن میں کوئی کوتاہی برداشت نہیںکی جائے گی، انھوں نے مزیدکہا کہ حیدری مارکیٹ میں ہونیوالے بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد کو تمام ضروری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔
اس طرح کے واقعات دراصل ملک کی سالمیت کیخلاف سازش کے مترادف ہیں، انھوں نے محکمہ صحت کے افسران کو بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ اندرون سندھ بارشوںکا پانی جمع ہونے کے باعث مختلف وبائی امراض پھیلنے کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔
اس لیے تمام ٹائونز، ڈسٹرکٹس ہیلتھ افسران اور اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے اسپتالوں میں ادویہ کی وافر مقدار میں موجودگی کو یقینی بنائیں اور عوام میں بھی ان امراض سے بچائو کیلیے آگاہی پیدا کریں۔
کہا ہے کہ بلڈ بینکوںکو 24گھنٹے فعال رکھا جائے، انھوں نے کہاکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ بلڈ بینکوں میں تمام اقسام کے خون کی وافر مقدار بھی موجود ہو، صوبائی وزیر صحت نے تمام سرکاری اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو بھی ہدایات دی ہیں۔
کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں اسپتالوں میں ضروری نوعیت کی دوائوں کی دستیابی کے ساتھ ساتھ تمام ڈاکٹرز و اسٹاف کی موجودگی کو بھی یقینی بنایا جائے، اس ضمن میں کوئی کوتاہی برداشت نہیںکی جائے گی، انھوں نے مزیدکہا کہ حیدری مارکیٹ میں ہونیوالے بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد کو تمام ضروری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔
اس طرح کے واقعات دراصل ملک کی سالمیت کیخلاف سازش کے مترادف ہیں، انھوں نے محکمہ صحت کے افسران کو بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ اندرون سندھ بارشوںکا پانی جمع ہونے کے باعث مختلف وبائی امراض پھیلنے کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔
اس لیے تمام ٹائونز، ڈسٹرکٹس ہیلتھ افسران اور اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے اسپتالوں میں ادویہ کی وافر مقدار میں موجودگی کو یقینی بنائیں اور عوام میں بھی ان امراض سے بچائو کیلیے آگاہی پیدا کریں۔