سیاسی خدشات پر موبائل فون بندش کے فیصلے پر کمپنیوں کو تشویش
سیاسی خدشات کی بنیاد پر موبائل فون سروس معطل کیے جانے کے فیصلے پر انڈسٹری میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے
سیلولر سروس کے ذریعے حکومت یومیہ 34 سے 35کروڑ روپے ریونیو کماتی ہے فوٹو: فائل
حکومت کی جانب سے طاہر القادری کی آمد پر جڑواں شہروں میں موبائل فون سروس کی بندش کے فیصلے نے سیلولرکمپنیوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سیکیورٹی خدشات کے بجائے سیاسی خدشات کی بنیاد پر موبائل فون سروس معطل کیے جانے کے فیصلے پر انڈسٹری میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ انڈسٹری کو خدشہ ہے کہ سیاسی خدشات کی بنیاد پرسروس کی معطلی کی روایت چل نکلی تو صارفین کو آئے روز سیلولر سروس کی بندش کا سامنا ہوگا جس سے نہ صرف انڈسٹری بلکہ خود حکومت کو بھی ریونیو کی مد میں بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ طاہر القادری کی آمد کے موقع پر راولپنڈی اور اسلام آباد میں موبائل فون کی بندش رواں سال کی پہلی بندش ہے اس سے قبل 24دسمبر کو حضرت امام حسین ؓ کے چہلم کے موقع پر سیکیورٹی خدشات کے تحت ملک کے 31 شہروں میں سیلولر سروس معطل کی گئی تھی، موجودہ حکومت سیاسی خطرہ ٹالنے کے لیے انڈسٹری اور خود قومی خزانے کے ریونیو کو نقصان سے دوچار کررہی ہے۔
ایک ٹیلی کام کمپنی کے متعلقہ افسر نے بتایا کہ پی ٹی اے کی جانب سے موبائل کمپنیوں کوپیر 23جون کو راولپنڈی اور اسلام آباد میں سیلولر سروس معطل کرنے کی تیاریوں کا حکم دیا ہے، پی ٹی اے کے احکام میں بندش کے اوقات واضح نہیں کیے گئے۔ ٹیلی کام انڈسٹری کے ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے تھری جی آکشن میں سرمایہ کاری کے وقت کمپنیوں کویقین دلایا تھاکہ ملک میںسیلولر سروس کی بندش سے اجتناب کیا جائے گا۔ اس ضمن میں موبائل فون کمپنیوں سے سم کی فروخت کے لیے بائیو میٹرک سسٹم میں بھی سرمایہ کاری کرائی گئی۔
سیلولر سروس کے ذریعے حکومت یومیہ 34 سے 35کروڑ روپے ریونیو کماتی ہے جس میں راولپنڈی اور اسلام آباد کا حصہ15سے 20فیصد ہے، ٹیلی کام انڈسٹری کا یومیہ ریونیو 1.22ارب روپے ہے جس میں سے 15سے 20 فیصد راولپنڈی اور اسلام آباد سے حاصل ہوتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے سیاسی خدشات کو ایشو بناکر سیلولر فون سروس کی معطلی نے کمپنیوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے، سابقہ حکومت کے دور میں خالصتاً سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر سروس معطل کی جاتی رہی جسے انڈسٹری نے بھی ملکی مفاد میں دیکھتے ہوئے حکومت سے کسی قسم کا معاوضہ طلب نہیں کیا۔
انڈسٹری کو خدشہ ہے کہ حکومت سیاسی بنیادوں پر سیلولر سروس کی بندش کو حربہ نہ بنالے۔ ادھر کراچی کی بزنس کمیونٹی نے بھی سیاسی خدشات کی بناپر اسلام آباد میں سروس کی معطلی کو ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ کراچی سے لے کر خیبر تک تاجر برادری کے بیشتر مسائل بالخصوص وزارت تجارت، وزارت خزانہ، ایف بی آر سے متعلق مسائل کیلیے ہفتے کے آغاز پر پیر کے روز سے ہی سرگرمیاں شروع کی جاتی ہیں جوڈاکٹر طاہر القادری کی آمد کے موقع پر سیلولر سروس معطل ہونے سے التوا کا شکار ہوں گی۔
ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سیکیورٹی خدشات کے بجائے سیاسی خدشات کی بنیاد پر موبائل فون سروس معطل کیے جانے کے فیصلے پر انڈسٹری میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ انڈسٹری کو خدشہ ہے کہ سیاسی خدشات کی بنیاد پرسروس کی معطلی کی روایت چل نکلی تو صارفین کو آئے روز سیلولر سروس کی بندش کا سامنا ہوگا جس سے نہ صرف انڈسٹری بلکہ خود حکومت کو بھی ریونیو کی مد میں بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ طاہر القادری کی آمد کے موقع پر راولپنڈی اور اسلام آباد میں موبائل فون کی بندش رواں سال کی پہلی بندش ہے اس سے قبل 24دسمبر کو حضرت امام حسین ؓ کے چہلم کے موقع پر سیکیورٹی خدشات کے تحت ملک کے 31 شہروں میں سیلولر سروس معطل کی گئی تھی، موجودہ حکومت سیاسی خطرہ ٹالنے کے لیے انڈسٹری اور خود قومی خزانے کے ریونیو کو نقصان سے دوچار کررہی ہے۔
ایک ٹیلی کام کمپنی کے متعلقہ افسر نے بتایا کہ پی ٹی اے کی جانب سے موبائل کمپنیوں کوپیر 23جون کو راولپنڈی اور اسلام آباد میں سیلولر سروس معطل کرنے کی تیاریوں کا حکم دیا ہے، پی ٹی اے کے احکام میں بندش کے اوقات واضح نہیں کیے گئے۔ ٹیلی کام انڈسٹری کے ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے تھری جی آکشن میں سرمایہ کاری کے وقت کمپنیوں کویقین دلایا تھاکہ ملک میںسیلولر سروس کی بندش سے اجتناب کیا جائے گا۔ اس ضمن میں موبائل فون کمپنیوں سے سم کی فروخت کے لیے بائیو میٹرک سسٹم میں بھی سرمایہ کاری کرائی گئی۔
سیلولر سروس کے ذریعے حکومت یومیہ 34 سے 35کروڑ روپے ریونیو کماتی ہے جس میں راولپنڈی اور اسلام آباد کا حصہ15سے 20فیصد ہے، ٹیلی کام انڈسٹری کا یومیہ ریونیو 1.22ارب روپے ہے جس میں سے 15سے 20 فیصد راولپنڈی اور اسلام آباد سے حاصل ہوتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے سیاسی خدشات کو ایشو بناکر سیلولر فون سروس کی معطلی نے کمپنیوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے، سابقہ حکومت کے دور میں خالصتاً سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر سروس معطل کی جاتی رہی جسے انڈسٹری نے بھی ملکی مفاد میں دیکھتے ہوئے حکومت سے کسی قسم کا معاوضہ طلب نہیں کیا۔
انڈسٹری کو خدشہ ہے کہ حکومت سیاسی بنیادوں پر سیلولر سروس کی بندش کو حربہ نہ بنالے۔ ادھر کراچی کی بزنس کمیونٹی نے بھی سیاسی خدشات کی بناپر اسلام آباد میں سروس کی معطلی کو ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ کراچی سے لے کر خیبر تک تاجر برادری کے بیشتر مسائل بالخصوص وزارت تجارت، وزارت خزانہ، ایف بی آر سے متعلق مسائل کیلیے ہفتے کے آغاز پر پیر کے روز سے ہی سرگرمیاں شروع کی جاتی ہیں جوڈاکٹر طاہر القادری کی آمد کے موقع پر سیلولر سروس معطل ہونے سے التوا کا شکار ہوں گی۔