سانحہ نانگا پربت کو ایک سال مکمل ہوگیا لیکن ملزم گرفتار نہ ہوسکے

ایک سال گزرنے کے باوجود مقدمے کا مکمل چالان بھی عدالتوں میں پیش نہیں ہوسکا۔

واقعے کے بعد چیف سیکریٹری منیر بارینی اورآئی جی پولیس عثمان ذکریا کومعطل کردیا گیا تھا۔ فوٹو: فائل

RAHIM YAR KHAN:
سانحہ نانگا پربت کو ایک سال مکمل ہو گیا لیکن اس واقعے میں ملوث 7 ملزمان اب تک گرفتار نہیں کئ جاسکے۔


22 جون 2013 کو گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر میں 4200 فیٹ کی اونچائی پر ناننگا پربت کے پہلے بیس کیمپ میں رات کی تاریکی میں 15 حملہ آوروں نے حملہ کرکے 5 یوکرائنی، 3 چینی اور ایک روسی سمیت 10 غیر ملکیوں اور ایک پاکستانی کو قتل کردیا تھا۔ سانحہ نانگا پربت میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لئے پاک فوج کی نگرانی میں ایک آپریشن کیا گیا اس دوران ملزمان نے چلاس شہر میں ضلعی پولیس سربراہ ایس پی بلال اور پاک فوج کے کرنل کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات کا عمل جاری رکھا اور اصل ملزمان کی گرفتاری میں اہم کامیابی حاصل کی اور5 مرکزی ملزمان کو حراست میں لے لیا اور دوران تفتیش ملزمان نے اعتراف جرم کیا۔

پولیس کو اس کیس میں 7 مزید ملزمان کی گرفتاری مطلوب ہے۔ سانحہ نانگا پربت کے واقعے کے بعد گلگت بلتستان کے اس وقت چیف سیکریٹری منیر بارینی اور آئی جی پولیس عثمان زکریا کو وفاقی حکومت نے معطل کیا تھا ۔ نانگا پربت میں رونما ہونے والا یہ اپنی نوعیت کا پہلا دہشت گردی کا حملہ تھا۔
Load Next Story