آپریشن کے نتیجے میں نقل مکانی
حکومت ریاستی رٹ کو جھٹلانے والی قوتوں کے خلاف کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی.
حکومت ریاستی رٹ کو جھٹلانے والی قوتوں کے خلاف کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔ فوٹو؛ فائل
شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کے آپریشن کے نتیجہ میں علاقہ چھوڑنے والے رجسٹرڈ متاثرین کی تعداد394620 ہوگئی جب کہ تازہ ترین اطلاع کے مطابق 4 لاکھ افراد نقل مکانی کرچکے ہیں۔ اتوار کوجاری تفصیلات کے مطابق اب تک32 ہزار185 متاثرہ خاندانوں کی رجسٹریشن ہو چکی،ان خاندانوں کے مرد حضرات کی تعداد 103077 ، خواتین 124434 اور بچوں کی تعداد167109 ہے۔ سرکاری ترجمان کے مطابق رجسٹرڈ شدہ تمام متاثرین کو نقد رقم اور دیگر تمام سہولتیں دی جا رہی ہیں۔
واضح رہے میر علی کے علاقے میں ممکنہ زمینی آپریشن شروع ہونے کے بعد آئی پی ڈیز کی مزید بڑے پیمانہ پر نقل مکانی کا مسئلہ وفاق ، تمام صوبائی حکومتوں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے ایک امتحان سے کم نہیں ہوگا کیونکہ فوجی آپریشن سے بچنے کے لیے دہشت گرد ملک کے مختلف شہروں اور دیہات میں پناہ حاصل کرنے اور دہشت گردوں کے بنائے ہوئے سلیپرز سیلز میں چھپنے کی کوشش میں ادھر ادھر ہوسکتے ہیں جس سے شہروں میں سیکیورٹی کا مسئلہ مزید گمبھیر ہوسکتا ہے جیسا کہ کراچی میں ہوا جہاں اتوار کو سپر ہائی وے پر سہراب گوٹھ کے قریب افغان بستی میں ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران تین مبینہ طالبان دہشت گرد مارے گئے، دہشت گردوں کی فائرنگ سے خاتون سمیت دو افراد بھی جاں بحق ہوئے۔
ایسے عناصر کی فوری نشاندہی اور تدارک فوری اقدام کا متقاضی ہے ۔اس لیے ضروری ہے کہ صوبائی ، ضلعی اور مقامی انتظامیہ اور قومی سلامتی پر مامور قانون نافذ کرنے والے حکام سول سوسائٹی کے اشتراک سے پناہ گزینی کے اس نئے مسئلہ کو بین الصوبائی ایشو نہ بننے دیں ۔ گورنر سردار مہتاب خان نے شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز کے بلوچستان اور سندھ داخلے پر پابندی پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے، ان کا انداز نظر یہ ہے کہ یہ قبائل پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں، چنانچہ پوری قوم کا فرض ہے کہ ان کی اس مشکل گھڑی میں ہر ممکن مدد کی جائے۔
جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ آئین کی رو سے پاکستان کا ہر شہری ملک کے کسی بھی حصے میں کہیں بھی آجا سکتا ہے جب کہ آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم چوہدری عبد المجید نے شمالی وزیرستان میں آپریشن سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے مالی معاونت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کے تمام ضلعی و تحصیل صدر مقامات امدادی کیمپ قائم کیے جائیں گے ، انھوں نے اپیل کی کہ تمام سیاسی جماعتیں شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف ہونیوالے آپریشن کی کامیابی کے لیے اپنی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہو کر مسلح افواج کا ساتھ دیں۔
ادھر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وفاقی حکومت سے آئی ڈی پیز کے لیے کولیشن سپورٹ فنڈ سے خیبر پختونخوا کو فوری طور پر6 ارب روپے جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ اب بھی لاکھوں لوگ وزیرستان میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ نقل مکانی ایک درد انگیز انسانی مسئلہ ہے ، دہشت گردی کا اجتماعی وبال یہ ہے کہ پیچیدہ صورتحال سے وہ محب وطن لوگ بھی شدید متاثر ہوتے ہیں جن کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تاہم کوئی حکومت ریاستی رٹ کو جھٹلانے والی قوتوں کے خلاف کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔یہ جنگ ملکی سالمیت ، قومی یکجہتی اور داخلی استحکام کی جنگ ہے لہٰذا ارباب اختیار نقل مکانی کا مسئلہ حل کرنے کا جلد سے جلد میکنزم وضح کریں اور متاثرین کے لیے امداد کو یقینی بنایا جائے ۔
واضح رہے میر علی کے علاقے میں ممکنہ زمینی آپریشن شروع ہونے کے بعد آئی پی ڈیز کی مزید بڑے پیمانہ پر نقل مکانی کا مسئلہ وفاق ، تمام صوبائی حکومتوں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے ایک امتحان سے کم نہیں ہوگا کیونکہ فوجی آپریشن سے بچنے کے لیے دہشت گرد ملک کے مختلف شہروں اور دیہات میں پناہ حاصل کرنے اور دہشت گردوں کے بنائے ہوئے سلیپرز سیلز میں چھپنے کی کوشش میں ادھر ادھر ہوسکتے ہیں جس سے شہروں میں سیکیورٹی کا مسئلہ مزید گمبھیر ہوسکتا ہے جیسا کہ کراچی میں ہوا جہاں اتوار کو سپر ہائی وے پر سہراب گوٹھ کے قریب افغان بستی میں ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران تین مبینہ طالبان دہشت گرد مارے گئے، دہشت گردوں کی فائرنگ سے خاتون سمیت دو افراد بھی جاں بحق ہوئے۔
ایسے عناصر کی فوری نشاندہی اور تدارک فوری اقدام کا متقاضی ہے ۔اس لیے ضروری ہے کہ صوبائی ، ضلعی اور مقامی انتظامیہ اور قومی سلامتی پر مامور قانون نافذ کرنے والے حکام سول سوسائٹی کے اشتراک سے پناہ گزینی کے اس نئے مسئلہ کو بین الصوبائی ایشو نہ بننے دیں ۔ گورنر سردار مہتاب خان نے شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز کے بلوچستان اور سندھ داخلے پر پابندی پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے، ان کا انداز نظر یہ ہے کہ یہ قبائل پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں، چنانچہ پوری قوم کا فرض ہے کہ ان کی اس مشکل گھڑی میں ہر ممکن مدد کی جائے۔
جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ آئین کی رو سے پاکستان کا ہر شہری ملک کے کسی بھی حصے میں کہیں بھی آجا سکتا ہے جب کہ آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم چوہدری عبد المجید نے شمالی وزیرستان میں آپریشن سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے مالی معاونت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کے تمام ضلعی و تحصیل صدر مقامات امدادی کیمپ قائم کیے جائیں گے ، انھوں نے اپیل کی کہ تمام سیاسی جماعتیں شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف ہونیوالے آپریشن کی کامیابی کے لیے اپنی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہو کر مسلح افواج کا ساتھ دیں۔
ادھر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وفاقی حکومت سے آئی ڈی پیز کے لیے کولیشن سپورٹ فنڈ سے خیبر پختونخوا کو فوری طور پر6 ارب روپے جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ اب بھی لاکھوں لوگ وزیرستان میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ نقل مکانی ایک درد انگیز انسانی مسئلہ ہے ، دہشت گردی کا اجتماعی وبال یہ ہے کہ پیچیدہ صورتحال سے وہ محب وطن لوگ بھی شدید متاثر ہوتے ہیں جن کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تاہم کوئی حکومت ریاستی رٹ کو جھٹلانے والی قوتوں کے خلاف کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔یہ جنگ ملکی سالمیت ، قومی یکجہتی اور داخلی استحکام کی جنگ ہے لہٰذا ارباب اختیار نقل مکانی کا مسئلہ حل کرنے کا جلد سے جلد میکنزم وضح کریں اور متاثرین کے لیے امداد کو یقینی بنایا جائے ۔