ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد اور حکومت کی بوکھلاہٹ
طاہرالقادری کے طیارے کا رخ موڑنا بھی درست پالیسی نہیں ہے، ایسے رویے آمرانہ دور میں اپنائے جاتے ہیں
ان کے طیارے کا رخ موڑنا بھی درست پالیسی نہیں ہے۔ ایسے رویے آمرانہ دور میں اپنائے جاتے ہیں۔ فوٹو؛ ایکسپریس نیوز
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان آمد کے موقع پر بڑے پیمانے پر ہنگامہ آرائی اور تصادم کا جو خطرہ محسوس کیا جا رہا تھا شکر ہے ایسا کچھ نہیں ہوا اور تمام معاملات امن و امان سے طے پا گئے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے شیڈول کے مطابق اسلام آباد ایئر پورٹ پر اترنا تھا مگر ان کا طیارہ وہاں اتارنے کے بجائے لاہور ایئر پورٹ پر اتار دیا گیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے طیارہ لاہور ایئر پورٹ اتارنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے طیارے سے اترنے سے انکار کر دیا۔ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد بھی اپنے قائد کے استقبال کے لیے ایئر پورٹ پہنچ گئی۔
ڈاکٹر طاہر القادری کا طیارہ لاہور اتارنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا کہ اسلام آباد ایئر پورٹ کے باہر کارکنوں کا ہجوم دندناتا پھر رہا تھا' کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا تھا، اس لیے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری اور مسافروں کی حفاظت کے لیے طیارہ لاہور میں اتارنے کا فیصلہ کیا۔ لاہور ایئر پورٹ تو پرسکون رہا مگر اسلام آباد میں عوامی تحریک کے کارکنوں کے ساتھ تصادم میں 24 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔حکومت نے ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد کے موقع پر جو افراتفری اور ہلچل پیدا کی اسے کسی طور پر مثبت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ان کے طیارے کا رخ موڑنا بھی درست پالیسی نہیں ہے۔ ایسے رویے آمرانہ دور میں اپنائے جاتے ہیں۔ جمہوریت میں احتجاج کرنا اور اپنا موقف عوام تک پہنچانا سیاسی جماعتوں کا آئینی حق ہوتا ہے اور اس حق کو کسی بھی طور سلب کرنا جمہوری اصولوں سے مطابقت نہیں رکھا۔ڈاکٹر طاہر القادری سابق دورحکومت میں بھی اسلام آباد میں دھرنا دے چکے ہیں مگر اس وقت کی حکومت نے تصادم اور لاٹھی چارج کا راستہ اپنانے کے بجائے ڈاکٹر طاہر القادری کو فری ہینڈ دیا جس کا بعدازاں نتیجہ حکومت کے لیے خوشگوار نکلا۔ حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری کے احتجاج کا ڈراپ سین ہو گیا، نہ کوئی ہنگامہ ہوا اور نہ کوئی لاٹھی چلی۔ سب نے حکومت کی سمجھ داری' دانشمندی اور سیاسی حکمت عملی کی تعریف کی۔
اب بھی ڈاکٹر طاہر القادری اگر وطن آرہے تھے تو حکومت کو پرامن رہتے ہوئے انھیں سیکیورٹی فراہم کرنی چاہیے تھی۔ زیادہ سے زیادہ انھوںنے احتجاج ہی کرنا تھا اور اسلام آباد سے جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور تک آنا تھا۔ سیاسی ماہرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ڈاکٹر طاہر القادری اتنے ہی طاقتور تھے کہ ان کے احتجاج کرنے سے حکومت کا وجود خطرے میں پڑ جاتا؟ کیا اس سے حکومت نے مفلوج ہو جانا تھا؟ جمہوریت میں احتجاج تو ہوتے رہتے ہیں اگر یہ احتجاج پرامن رہیں تو حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ ماضی میں بھی ڈاکٹر طاہر القادری کا احتجاج پر امن رہا اور اب بھی اس کے پرامن رہنے کی امید تھی۔
حکومت انھیں پرامن احتجاج کرنے دیتی۔ اب حکومت نے طاہر القادری کا احتجاج روکنے کے لیے جو ناپسندیدہ طرز عمل اپنایا اس سے حکومت کی مخالفت اور ڈاکٹر طاہر القادری کی شہرت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ حکومت نے ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد سے قبل ایسے اقدامات کیے جیسے ملک میں کوئی بہت بڑی دہشت گردی رونما ہونے والی ہو، اسلام آباد میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے۔ راولپنڈی اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستے کنٹینر لگا کر سیل کر دیے گئے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔ اسلام آباد ایئر پورٹ کی سیکیورٹی فوج کے حوالے کر دی گئی' راولپنڈی انتظامیہ نے دو روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی۔
اسلام آباد راولپنڈی میں موبائل فون سروس بھی معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ڈی سی او راولپنڈی کے مطابق اسلام آباد میں اتوار کی رات 12 بجے سے منگل کی دوپہر 12 بجے تک دفعہ144 نافذ کر دی گئی، اس دوران جلسے' جلوسوں' ریلیوں اور چار سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی لگا دی گئی۔ حکومت نے اتنے سخت انتظامات یوں کیے جیسے ڈاکٹر طاہر القادری آتے ہی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے اور عنان اقتدار سنبھال لیں گے۔ جب کہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ یہ جمہوری حکومت ہے اور جمہوری حکومت کو آئینی طور پر اپنے پانچ سال پورا کرنے کا حق حاصل ہے۔
کوئی بھی مخالف سیاسی جماعت انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے ہی اقتدار میں آ سکتی ہے۔ جب حکومتی بزرجمہروں کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے تو پھر حکومت اتنی خوفزدہ کیوں ہو گئی ؟ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے بھی حکومتی رویہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مشرف دور کی یاد تازہ ہو گئی۔ ق لیگ اور ایم کیو ایم نے بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گرفتاریوں سے سول ڈکٹیٹروں کی جمہوریت بے نقاب ہوگئی۔ ڈاکٹر طاہر القادری لاہور آمد کے بعد طیارہ اسلام آباد نہ اتارنے پر احتجاج تو کرتے رہے مگر وہ اور عوامی تحریک کے کارکن پرامن رہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے جہاز سے اترنے کے لیے مشروط پیش کش کی اور بالآخر وہ گورنر پنجاب کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گئے۔ اس وقت ملک میں دہشتگردی اور امن و امان کے حوالے سے جو حالات ہیں اس کے تناظر میں ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے، حکومت ان کی سیکیورٹی کا انتظام کرے۔
ان کٹھن حالات میں احتجاج کرنے والی سیاسی جماعتوں اور ڈاکٹر طاہر القادری کو بھی پرامن رہنا چاہیے اور کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے حکومت کے لیے امن و امان کے مسائل پیدا ہوں۔ فریقین کو ہوش مندی سے کام لینا چاہیے کیونکہ ملکی سلامتی اور اس کا تحفظ ہر چیز پر مقدم ہے۔ بہر حال اگر لاہور میں ڈاکٹر طاہر القادری سے مذاکرات ہو سکتے ہیں تو پھر اسلام آباد ایئر پورٹ پر ہو سکتے تھے' حکومت ڈاکٹر طاہر القادری کے طیارے کو اسلام آباد ایئر پورٹ پر اترنے دیتی اور وہاں ان سے مذاکرات کرتی تو طیارے کا رخ موڑنے والی بدنامی سے بچا جا سکتا تھا۔
ڈاکٹر طاہر القادری کا طیارہ لاہور اتارنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا کہ اسلام آباد ایئر پورٹ کے باہر کارکنوں کا ہجوم دندناتا پھر رہا تھا' کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا تھا، اس لیے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری اور مسافروں کی حفاظت کے لیے طیارہ لاہور میں اتارنے کا فیصلہ کیا۔ لاہور ایئر پورٹ تو پرسکون رہا مگر اسلام آباد میں عوامی تحریک کے کارکنوں کے ساتھ تصادم میں 24 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔حکومت نے ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد کے موقع پر جو افراتفری اور ہلچل پیدا کی اسے کسی طور پر مثبت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ان کے طیارے کا رخ موڑنا بھی درست پالیسی نہیں ہے۔ ایسے رویے آمرانہ دور میں اپنائے جاتے ہیں۔ جمہوریت میں احتجاج کرنا اور اپنا موقف عوام تک پہنچانا سیاسی جماعتوں کا آئینی حق ہوتا ہے اور اس حق کو کسی بھی طور سلب کرنا جمہوری اصولوں سے مطابقت نہیں رکھا۔ڈاکٹر طاہر القادری سابق دورحکومت میں بھی اسلام آباد میں دھرنا دے چکے ہیں مگر اس وقت کی حکومت نے تصادم اور لاٹھی چارج کا راستہ اپنانے کے بجائے ڈاکٹر طاہر القادری کو فری ہینڈ دیا جس کا بعدازاں نتیجہ حکومت کے لیے خوشگوار نکلا۔ حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری کے احتجاج کا ڈراپ سین ہو گیا، نہ کوئی ہنگامہ ہوا اور نہ کوئی لاٹھی چلی۔ سب نے حکومت کی سمجھ داری' دانشمندی اور سیاسی حکمت عملی کی تعریف کی۔
اب بھی ڈاکٹر طاہر القادری اگر وطن آرہے تھے تو حکومت کو پرامن رہتے ہوئے انھیں سیکیورٹی فراہم کرنی چاہیے تھی۔ زیادہ سے زیادہ انھوںنے احتجاج ہی کرنا تھا اور اسلام آباد سے جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور تک آنا تھا۔ سیاسی ماہرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ڈاکٹر طاہر القادری اتنے ہی طاقتور تھے کہ ان کے احتجاج کرنے سے حکومت کا وجود خطرے میں پڑ جاتا؟ کیا اس سے حکومت نے مفلوج ہو جانا تھا؟ جمہوریت میں احتجاج تو ہوتے رہتے ہیں اگر یہ احتجاج پرامن رہیں تو حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ ماضی میں بھی ڈاکٹر طاہر القادری کا احتجاج پر امن رہا اور اب بھی اس کے پرامن رہنے کی امید تھی۔
حکومت انھیں پرامن احتجاج کرنے دیتی۔ اب حکومت نے طاہر القادری کا احتجاج روکنے کے لیے جو ناپسندیدہ طرز عمل اپنایا اس سے حکومت کی مخالفت اور ڈاکٹر طاہر القادری کی شہرت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ حکومت نے ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد سے قبل ایسے اقدامات کیے جیسے ملک میں کوئی بہت بڑی دہشت گردی رونما ہونے والی ہو، اسلام آباد میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے۔ راولپنڈی اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستے کنٹینر لگا کر سیل کر دیے گئے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔ اسلام آباد ایئر پورٹ کی سیکیورٹی فوج کے حوالے کر دی گئی' راولپنڈی انتظامیہ نے دو روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی۔
اسلام آباد راولپنڈی میں موبائل فون سروس بھی معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ڈی سی او راولپنڈی کے مطابق اسلام آباد میں اتوار کی رات 12 بجے سے منگل کی دوپہر 12 بجے تک دفعہ144 نافذ کر دی گئی، اس دوران جلسے' جلوسوں' ریلیوں اور چار سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی لگا دی گئی۔ حکومت نے اتنے سخت انتظامات یوں کیے جیسے ڈاکٹر طاہر القادری آتے ہی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے اور عنان اقتدار سنبھال لیں گے۔ جب کہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ یہ جمہوری حکومت ہے اور جمہوری حکومت کو آئینی طور پر اپنے پانچ سال پورا کرنے کا حق حاصل ہے۔
کوئی بھی مخالف سیاسی جماعت انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے ہی اقتدار میں آ سکتی ہے۔ جب حکومتی بزرجمہروں کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے تو پھر حکومت اتنی خوفزدہ کیوں ہو گئی ؟ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے بھی حکومتی رویہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مشرف دور کی یاد تازہ ہو گئی۔ ق لیگ اور ایم کیو ایم نے بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گرفتاریوں سے سول ڈکٹیٹروں کی جمہوریت بے نقاب ہوگئی۔ ڈاکٹر طاہر القادری لاہور آمد کے بعد طیارہ اسلام آباد نہ اتارنے پر احتجاج تو کرتے رہے مگر وہ اور عوامی تحریک کے کارکن پرامن رہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے جہاز سے اترنے کے لیے مشروط پیش کش کی اور بالآخر وہ گورنر پنجاب کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گئے۔ اس وقت ملک میں دہشتگردی اور امن و امان کے حوالے سے جو حالات ہیں اس کے تناظر میں ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے، حکومت ان کی سیکیورٹی کا انتظام کرے۔
ان کٹھن حالات میں احتجاج کرنے والی سیاسی جماعتوں اور ڈاکٹر طاہر القادری کو بھی پرامن رہنا چاہیے اور کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے حکومت کے لیے امن و امان کے مسائل پیدا ہوں۔ فریقین کو ہوش مندی سے کام لینا چاہیے کیونکہ ملکی سلامتی اور اس کا تحفظ ہر چیز پر مقدم ہے۔ بہر حال اگر لاہور میں ڈاکٹر طاہر القادری سے مذاکرات ہو سکتے ہیں تو پھر اسلام آباد ایئر پورٹ پر ہو سکتے تھے' حکومت ڈاکٹر طاہر القادری کے طیارے کو اسلام آباد ایئر پورٹ پر اترنے دیتی اور وہاں ان سے مذاکرات کرتی تو طیارے کا رخ موڑنے والی بدنامی سے بچا جا سکتا تھا۔