رمضان پیکیج کے ثمرات

حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والا رمضان پیکیج مستحسن اقدام ہے

حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والا رمضان پیکیج مستحسن اقدام ہے۔ فوٹو فائل

ملک بھر میں قائم 6 ہزار سے زائد یوٹیلٹی اسٹورز پر رمضان ریلیف پیکیج کا آغاز پیر سے کردیا گیا ہے جس کے تحت آٹا، گھی، بیسن، دالیں، کھجور، چاول، چائے، ٹھنڈے مشروبات، دودھ، مصالحہ جات سمیت 1500 سے زائد اشیائے ضرویہ مارکیٹ کی نسبت خصوصی رعایتی نرخوں پر فراہم کی جائیں گی۔

امسال رمضان پیکیج کے تحت 20 کلو آٹے کا تھیلا بازار کی نسبت 120 روپے سستا، گھی 25 روپے، کوکنگ آئل 28 روپے، دال چنا 13 روپے، سفید چنے 18 روپے، بیسن 20 روپے، کھجور 40 روپے، چاول 40 روپے، دال مونگ 18 روپے، دال مسور 12 روپے، دال ماش 15 روپے، ٹیٹرا پیک دودھ فی لیٹر 12 روپے سستا فراہم کیا جائے گا۔ اس موقع پر ایم ڈی یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن نے کہا ہے کہ رمضان پیکیج کے تحت ملک بھر کے تمام یوٹیلٹی اسٹورز پر سبسڈی کے ساتھ ساتھ اشیائے ضروریہ و خور و نوش کی کوالٹی کو بھی یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی ریجن میں ان اشیا کی قلت برداشت نہیں کی جائے گی۔


یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ ملک کی آبادی اور ضروریات کے لحاظ سے یوٹیلٹی اسٹورز کی تعداد ناکافی ہے اور گزشتہ ادوار میں عوام کو اسٹورز سے اشیا کے حصول میں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس پر مستزاد چینی اور آٹا جیسی ضروری اشیا خریدنے کے لیے دیگر چیزوں کی خریداری بھی مشروط بنادی جاتی ہے اور عوام کو لامحالہ دیگر غیر ضروری اشیا بھی خریدنی پڑتی ہیں۔ یوٹیلٹی اسٹورز پر اقربا پروی اور خورد برد بھی ماضی میں ایک مسئلہ رہی ہے۔

حکومت کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہیے نیز عوام کی ایک بڑی تعداد اب بھی عام بازار سے خریداری پر مجبور ہوگی، حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والا رمضان پیکیج مستحسن اقدام ہے مگر عام بازار میں بھی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں کمی کرنا راست اقدام ہوگا تاکہ رمضان ریلیف پیکیج کے ثمرات پاکستان بھر کے عوام تک پہنچ سکیں اور متوسط اور غریب طبقہ بھی اس رمضان حکومت کی جانب سے جاری کردہ ریلیف سے مستفید ہوسکے ۔
Load Next Story