آم کی برآمد پر یورپی پابندی سے بچنے کے لئے انتہائی اقدامات کا فیصلہ
ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ کے بغیر یورپ یا برطانیہ کو آم کی ایکسپورٹ کے لیے سرٹیفکیٹ جاری نہیں کئے جارہے
پاکستان سے پہلی کنسائمنٹ فروٹ فلائی کے سبب مسترد کئے جانے کے بعد پلانٹ پروٹیکشن نے سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرلی ہیں فوٹو: فائل
وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے یورپی یونین کی جانب سے پاکستانی آم پر ممکنہ پابندی سے بچنے کے لیے ازخود انتہائی اقدامات کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو دی گئی 5 لائف لائنز کے پورا ہونے کا انتظار کیے بغیر فروٹ فلائی کی موجودگی کے سبب 3کنسائنمنٹ مسترد کئے جانے پر پاکستان سے یورپی یونین اور برطانیہ کو آم کی ایکسپورٹ پر ازخود پابندی لگادی جائیگی۔ ڈپارٹمنٹ آف انوائرمنٹ، فوڈ اینڈ رورل افیئرز (ڈیفرا) کی جانب سے 17جون کو پاکستانی آم کی کھیپ کو فروٹ فلائی کی موجودگی کے سبب مسترد کردیا گیا، یہ کھیپ پاکستانی ایکسپورٹ کمپنی محسن اینڈ محسن حیدرآباد نے 16جون کو ایکسپورٹ کی تھی جس کے لیے آم تحصیل کوٹری ڈسٹرکٹ جامشورو سندھ کے ایک رجسٹرڈ فارم سے حاصل کیے گئے تھے۔
پاکستان سے پہلی کنسائمنٹ فروٹ فلائی کے سبب مسترد کئے جانے کے بعد پلانٹ پروٹیکشن نے سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرلی ہیں اور ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ کے بغیر یورپ یا برطانیہ کو آم کی ایکسپورٹ کے لیے سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیے جارہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پلانٹ پروٹیکشن کی سختی کے خلاف ایکسپورٹرز کا ایک گروپ سرگرم ہے اور سندھ کی ایک بااثر سیاسی شخصیت کے نام سے دبائو ڈالا جارہا ہے تاہم ملکی مفاد کے پیش نظر پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ نے دبائو میں آئے بغیر کسی قسم کی رعایت یا نرمی دینے سے انکار کردیا ہے، پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی سخت اور یکساں پالیسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت کے نوجوان چیئرپرسن کی جانب سے تحفتاً برطانیہ بھیجے جانے والے آم کو بھی ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ کے بغیر کلیئر کرنے سے انکار کردیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو دی گئی 5 لائف لائنز کے پورا ہونے کا انتظار کیے بغیر فروٹ فلائی کی موجودگی کے سبب 3کنسائنمنٹ مسترد کئے جانے پر پاکستان سے یورپی یونین اور برطانیہ کو آم کی ایکسپورٹ پر ازخود پابندی لگادی جائیگی۔ ڈپارٹمنٹ آف انوائرمنٹ، فوڈ اینڈ رورل افیئرز (ڈیفرا) کی جانب سے 17جون کو پاکستانی آم کی کھیپ کو فروٹ فلائی کی موجودگی کے سبب مسترد کردیا گیا، یہ کھیپ پاکستانی ایکسپورٹ کمپنی محسن اینڈ محسن حیدرآباد نے 16جون کو ایکسپورٹ کی تھی جس کے لیے آم تحصیل کوٹری ڈسٹرکٹ جامشورو سندھ کے ایک رجسٹرڈ فارم سے حاصل کیے گئے تھے۔
پاکستان سے پہلی کنسائمنٹ فروٹ فلائی کے سبب مسترد کئے جانے کے بعد پلانٹ پروٹیکشن نے سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرلی ہیں اور ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ کے بغیر یورپ یا برطانیہ کو آم کی ایکسپورٹ کے لیے سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیے جارہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پلانٹ پروٹیکشن کی سختی کے خلاف ایکسپورٹرز کا ایک گروپ سرگرم ہے اور سندھ کی ایک بااثر سیاسی شخصیت کے نام سے دبائو ڈالا جارہا ہے تاہم ملکی مفاد کے پیش نظر پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ نے دبائو میں آئے بغیر کسی قسم کی رعایت یا نرمی دینے سے انکار کردیا ہے، پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی سخت اور یکساں پالیسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت کے نوجوان چیئرپرسن کی جانب سے تحفتاً برطانیہ بھیجے جانے والے آم کو بھی ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ کے بغیر کلیئر کرنے سے انکار کردیا گیا۔