جی ایس پی پلس یورپ کو برآمد توقع سے زیادہ رہے گی خرم دستگیر

رواں سال کے ابتدائی 2 ماہ میں مراعات سے ویلیو ایڈڈ سیکٹرز کی برآمدات میں وسیع اضافہ ہوا

وزارت تجارت کے افسران کو غیرروایتی برآمدات میں اضافے کیلیے بھی اقدامات کی ہدایت۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ جی ایس پی پلس کے حصول کے بعد جنوری فروری 2014 میں ویلیو ایڈڈ سیکٹرز سے یورپی یونین کو برآمدات میں وسیع اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس عرصے کے مختلف سیکٹرز کے تجارتی تجزیے کے مطابق سب سے زیادہ اضافہ ٹیکسٹائل گارمنٹس کے سیکٹر میں دیکھنے میں آیا، اس دوران یورپی یونین کو برآمدات میں سال بہ سال 30.68فیصد اضافہ ہوا جو گزشتہ سال کے اس عرصے میں 342ملین ڈالر سے بڑھ کر 446.91 ملین ڈالر ہو گئیں، ہوم ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹ 28.15فیصد کے اضافے سے 214.18ملین سے بڑھ کر 274.47 ملین ڈالر ہو گئیں۔ چمڑے اور قالین کی صنعت نے بھی جی ایس پی پلس کی تجارتی مراعات سے خاطر خواہ فائدہ اٹھایا اور ملک کے زرمبادلہ میں اضافے کا باعث بنیں۔


چمڑے کی برآمدات رواں سال کے پہلے 2 ماہ میں 15.20فیصد کے اضافے سے 25.46 ملین ڈالر ہو گئیں جبکہ قالین کی برآمدات 12.79فیصد بڑھیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ معاشی سطح پر یہ حیران کن نتائج وزیر اعظم کی خصوصی دلچسپی اور دور رس حکمت عملی سے ہی ممکن ہوئے، حکومت کی کامیاب معاشی سفارتکاری کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیںاور ملک میں روزگار کے نئے مواقع ابھر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت تجارت جی ایس پی پلس کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے مختلف وفاقی وزارتوں اور چاروں صوبوں کے متعلقہ محکموںسے رابطہ کاری کا فریضہ احسن طریقے سے سرانجام دے رہی ہے، وزیر اعظم نے بھی جی ایس پی پلس میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے ٹریٹی عملدرآمد سیل کو بھی یہ ذمہ داری سونپی ہے اور یہ سیل انتہائی تندہی سے اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔

حکومت یورپی یونین سے بطور ادارہ اور اس کے تمام رکن 28ممالک سے انفرادی طور پر رابطے میں ہے، یورپی یونین کو پاکستانی برآمدات میں اضافے کی رفتار سے توقع کی جارہی ہے کہ یہ برآمدات ایک سال کے ایک ارب ڈالر کے ابتدائی تخمینے سے زیادہ بڑھ جائیں گی۔وفاقی وزیر نے وزارت تجارت کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ ٹیکسٹائل کے ساتھ ساتھ پاکستان کے غیر روایتی برآمدی سیکٹر کی برآمدات میں اضافے کے لیے بھی اقدامات کریں تاکہ پاکستان جی ایس پی پلس کی مکمل وسعت سے فائدہ اٹھا سکے۔
Load Next Story