لیاری ایکسپریس وے پر ایک ہفتے میں کام شروع کرنے کی ہدایت
منصوبے میں تاخیر سے لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے، سرکلر ریلوے کے راستے میں باقی رہ جانیوالی تجاوزات ختم کی جائیں،گورنرسندھ
منصوبے میں تاخیر سے لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے، سرکلر ریلوے کے راستے میں باقی رہ جانیوالی تجاوزات ختم کی جائیں،گورنرسندھ۔ فوٹو: پی پی آئی
وفاقی حکومت کی فنڈنگ سے شہر میں جاری میگا پروجیکٹس اور بلدیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے۔
ان پرکام کی رفتارکو تیز کرنے کیلیے گورنرسندھ عشرت العباد خان کی صدارت میںگورنر ہائوس میں خصوصی اجلاس ہوا۔
ان منصوبوں میںکراچی سرکلر ریلوے، لیاری ایکسپریس وے، کراچی حیدرآباد موٹروے (M-9) عظیم تر منصوبہ آب رسانی کے فور،نکاسی آب کے منصوبے ایس تھری کے علاوہ اسکیم 33کے انفرا اسٹریکچر ڈیولپمنٹ اور دیگر منصوبے شامل ہیں، گورنر ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ صدر اور وزیر اعظم ان منصوبوں کی بروقت تکمیل چاہتے ہیں۔
اس ضمن میں وہ خصوصی اور ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں کیونکہ یہ منصوبے صرف کراچی ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی ترقی وخوشحالی کا سبب بنیں گے،انھوں نے کہا کہ اس مقصد کیلیے صدر اور وزیر اعظم نے خاص طور پرسینیٹر سیدہ صغریٰ امام کو فوکل پرسن مقررکیا ہے۔
اجلاس میں سیدہ صغریٰ امام کے علاوہ وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار،صوبائی وزرا آغاسراج درانی، ڈاکٹر صغیر احمد،مراد علی شاہ، شرجیل انعام میمن، اراکین قومی اسمبلی،چیف سیکریٹری سندھ راجا محمد عباس، متعلقہ وفاقی و صوبائی حکام اورمنصوبوں سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ حکام نے شرکت کی،گورنر ڈاکٹرعشرت العباد خان نے زیر التوا لیاری ایکسپریس وے پر ایک ہفتے میں کام شروع کرنے کی ہدایت کی ۔
انھوں نے اس سلسلے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلیے متعلقہ اداروںکوفوری تعاون فراہم کرنے کی ہدایت کی، انھوں نے کہا کہ منصوبے میں تاخیرکی وجہ سے لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لہٰذا اسے جلد از جلد مکمل کیا جائے، گورنر نے ہدایت کی کہ کراچی حیدرآباد موٹر وے پر بھی کام کا فوری آغاز کیا جائے۔
انھوں نے کراچی سرکلر ریلوے کے راستے میں باقی رہ جانے والی تجاوزات کو بھی ہنگامی بنیادوں پر ختم کیا جائے، انھوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر اس سلسلے میں رپورٹ پیش کریں، گورنر نے فراہمی اورنکاسی آب کے عظیم ترمنصوبوںکی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے ان کیلیے مختص رقوم کے اجرا کو پروگرام کے مطابق فراہمی پر زور دیا۔
اس موقع پر اراکین اسمبلی نے منصوبوں پر وفاقی محکموںکی جانب سے ان کی اہمیت کے تناسب سے توجہ دینے پر زور دیا،گورنر نے سینیٹر سیدہ صغریٰ امام کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ صدر اور وزیراعظم نے صوبہ سندھ کے حوالے سے جو ذمے داری دی وہ انھوں نے احسن طریقے سے سنبھالی ۔
ان پرکام کی رفتارکو تیز کرنے کیلیے گورنرسندھ عشرت العباد خان کی صدارت میںگورنر ہائوس میں خصوصی اجلاس ہوا۔
ان منصوبوں میںکراچی سرکلر ریلوے، لیاری ایکسپریس وے، کراچی حیدرآباد موٹروے (M-9) عظیم تر منصوبہ آب رسانی کے فور،نکاسی آب کے منصوبے ایس تھری کے علاوہ اسکیم 33کے انفرا اسٹریکچر ڈیولپمنٹ اور دیگر منصوبے شامل ہیں، گورنر ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ صدر اور وزیر اعظم ان منصوبوں کی بروقت تکمیل چاہتے ہیں۔
اس ضمن میں وہ خصوصی اور ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں کیونکہ یہ منصوبے صرف کراچی ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی ترقی وخوشحالی کا سبب بنیں گے،انھوں نے کہا کہ اس مقصد کیلیے صدر اور وزیر اعظم نے خاص طور پرسینیٹر سیدہ صغریٰ امام کو فوکل پرسن مقررکیا ہے۔
اجلاس میں سیدہ صغریٰ امام کے علاوہ وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار،صوبائی وزرا آغاسراج درانی، ڈاکٹر صغیر احمد،مراد علی شاہ، شرجیل انعام میمن، اراکین قومی اسمبلی،چیف سیکریٹری سندھ راجا محمد عباس، متعلقہ وفاقی و صوبائی حکام اورمنصوبوں سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ حکام نے شرکت کی،گورنر ڈاکٹرعشرت العباد خان نے زیر التوا لیاری ایکسپریس وے پر ایک ہفتے میں کام شروع کرنے کی ہدایت کی ۔
انھوں نے اس سلسلے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلیے متعلقہ اداروںکوفوری تعاون فراہم کرنے کی ہدایت کی، انھوں نے کہا کہ منصوبے میں تاخیرکی وجہ سے لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لہٰذا اسے جلد از جلد مکمل کیا جائے، گورنر نے ہدایت کی کہ کراچی حیدرآباد موٹر وے پر بھی کام کا فوری آغاز کیا جائے۔
انھوں نے کراچی سرکلر ریلوے کے راستے میں باقی رہ جانے والی تجاوزات کو بھی ہنگامی بنیادوں پر ختم کیا جائے، انھوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر اس سلسلے میں رپورٹ پیش کریں، گورنر نے فراہمی اورنکاسی آب کے عظیم ترمنصوبوںکی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے ان کیلیے مختص رقوم کے اجرا کو پروگرام کے مطابق فراہمی پر زور دیا۔
اس موقع پر اراکین اسمبلی نے منصوبوں پر وفاقی محکموںکی جانب سے ان کی اہمیت کے تناسب سے توجہ دینے پر زور دیا،گورنر نے سینیٹر سیدہ صغریٰ امام کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ صدر اور وزیراعظم نے صوبہ سندھ کے حوالے سے جو ذمے داری دی وہ انھوں نے احسن طریقے سے سنبھالی ۔