بنگلہ دیش میں اسلام پسند رہنماؤں کو موت کی سزا کا حکم

فیصلہ سناتے وقت پرانے شہر میں واقع اس عدالت کا کمرہ ہجوم سے بھرا ہوا تھا ...

فیصلہ سناتے وقت پرانے شہر میں واقع اس عدالت کا کمرہ ہجوم سے بھرا ہوا تھا۔ فوٹو؛فائل

بنگلہ دیش کی عدالت نے حرکت الجہاد اسلامی نامی ایک کالعدم جماعت کے آٹھ کارکنوں کو پیر کے دن موت کی سزا سنا دی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے تیرہ سال قبل یعنی 2001میں بنگالی سال نو کے موقع پر ایک بم دھماکا کر کے دس افراد کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کر دیا تھا۔ پھانسی کی سزا پانے والوں میں اس جماعت کے سربراہ مفتی عبدالحنان بھی شامل ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے اس بم حملے کی منصوبہ بندی کی اور اس پر عملدرآمد کرایا۔

بم دھماکا ڈھاکا کی ایک پارک میں منائی جانے والی تقریب کے دوران کیا گیا تھا۔ بنگلہ دیشی حکومت کے مطابق یہ ملک میں مذکورہ اسلامی تنظیم کی طرف سے پہلا ہلاکت خیز حملہ تھا۔ ڈھاکا کے سیشن جج روح الامین نے چھ دیگر ملزموں کو عمر قید کی سزائیں بھی سنائیں جن پر الزام ہے کہ انھوں نے اپریل 2001 کو نئے بنگالی سال کی پرہجوم تقریبات کے موقعے پر ایک درخت کے نیچے دو بم نصب کیے تھے۔ بم پھٹنے سے ہونے والی تباہی کے مناظر کو ٹیلی ویژن پر لائیو دکھایا گیا تھا۔ جج روح الامین نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ یہ حملہ ملک کو عدم استحکام کا شکار بنانے اور خوف و ہراس پھیلانے کی خاطر کیا گیا تھا۔


فیصلہ سناتے وقت پرانے شہر میں واقع اس عدالت کا کمرہ ہجوم سے بھرا ہوا تھا۔ واضح رہے حرکت الجہاد کے لیڈر ابو حنان کو 2008 میں برطانوی ہائی کمشنر کو قتل کرنے کی کوشش میں پہلے بھی سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ برطانوی ہائی کمشنر پر چھ سال قبل گرینیڈ سے حملہ کیا گیا تھا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بنگلہ دیش میں گزشتہ سال جماعت اسلامی کے بعض لیڈروں کو 1971 کی بنگلہ دیش کی تحریک آزادی میں پاک فوج کا ساتھ دینے کے جرم پر پھانسی دی جا چکی ہے جس پر ملک بھر میں زبردست احتجاج کیا گیا تھا۔

بنگلہ دیش 1971 تک مشرقی پاکستان تھا جو قیام پاکستان کے 24 سال بعد مغربی پاکستان سے علیحدہ ہو کر آزاد ریاست بنگلہ دیش بن گیا۔ بنگلہ دیش کی علیحدگی کی کوشش میں اسے بھارت کی کھلی اور خفیہ دونوں قسم کی حمایت اور امداد حاصل تھی۔ پاکستان کے مشرقی بازو کی علیحدگی وہاں کے عوامی لیڈر شیخ مجیب الرحمن کی قیادت میں عمل میں آئی تھی جن کی صاحبزادی حسینہ شیخ اس وقت ملک کی وزیر اعظم ہیں۔ ان کی حکومت میں اسلام پسندوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اس پر پورے بنگلہ دیش میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش کی حکومت کو اس انتشار سے بچنا چاہیے۔ حرکت الجہاد اسلامی کے کارکنوں کی سزائے موت سے بنگلہ دیش میں بدامنی بڑھے گی۔
Load Next Story