سیاسی تماشے
سیاسی بحران اور احتجاجی تحریک کا آغاز کرنے والوں میں تین طرح کے عناصر شامل ہیں۔۔۔۔
zahedahina@gmail.com
کیا اسے محض ایک اتفاق کہاجائے گا کہ ہمارے بعض ''نامور اور جیّد'' سیاسی رہنما اس بات سے ناواقف تھے کہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کے خلاف'حالیہ فیصلہ کن جنگ کے آغاز کے بعد ' پاکستان اپنی تاریخ کے دوسرے سب سے سنگین دور سے گزر رہا ہے ۔ اس نوعیت کا پہلا سنگین زمانہ 1969 سے 1971 پر محیط تھا۔ اگر مذکورہ رہنما اس حقیقت سے آگاہ تھے تو پھر سوچنے والی بات یہ ہے کہ انھوں نے یہ خواب کیوں دیکھا کہ ملک میں '' عظیم تر اتحاد'' بناکر سڑکوں پر تحریک شروع کی جائے اور اُسے اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ جمہوری نظام منہدم ہوجائے اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ بھی مسائل سے دوچار ہوجائے ۔
سیاسی بحران اور احتجاجی تحریک کا آغاز کرنے والوں میں تین طرح کے عناصر شامل ہیں۔ اس میں ایک سیاسی جماعت پی ٹی آئی ہے جو 2013 کے عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان کے تیسرے سب سے بڑے صوبے میں بر سر اقتدار ہے ۔ پارلیمنٹ کے اندر وہ تیسری بڑی اور ووٹوں کے حصول کے اعتبار سے ملک کی دوسری سب سے بڑی جماعت ہونے کی دعویدار ہے ۔ یہ جماعت جن عام انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آئی اسے وہ فراڈ اور دھاندلی پر مبنی قرار دیتی ہے۔ آنے والے دنوں میں سینیٹ کے لیے بھی انتخابات ہوں گے۔
یہ جماعت وہاں بھی نمایندگی لینے کی آرزو مند ہے لہٰذا موجودہ حکومت کو گرانے کے اقدام میں وہ کچھ تاخیر چاہتی ہے تاکہ سینیٹ میں چند نشستیں حاصل کرلی جائیں کیونکہ کسی بحران کے نتیجے میں امکانی طور پر اسمبلیاں تو ختم ہوسکتی ہیں لیکن سینیٹ تحلیل نہیں ہوسکتی ۔ اس جماعت کی حکمت عملی ہے کہ اپنے کارکنوں کو فعال اور متحرک رکھا جائے اور جب ''مناسب'' وقت آئے تو احتجاجی تحریک کی بھٹی میں اپنے کارکنوں کو جھونک دیا جائے ۔
حکومت یا نظام یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو ختم کرنے کی کوشش میں سرگرم دوسرا عنصر ان سیاسی رہنمائوں اور جماعتوں پر مشتمل ہے جو 1999 کے بعد سے 2008 تک ایک آمر کے سیاسی ہم نوا تھیں اور جنھیں عوام نے انتخابات میں بُری طرح مسترد کردیا تھا ۔ یہ وہ عناصر ہیں جو ہمیشہ
برسراقتدار طبقوں کی حمایت کرتے ہیں اور اس کے عوض اقتدار کے دستر خوان کا لطف اٹھاتے ہیں ۔ ان میں شامل سیاستدانوں کی اکثریت 1999 تک موجودہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ہم نوا اور دست راست رہ چکی تھی۔ ماضی میں میاں صاحب کی کون سی حکومت تھی جس میں وہ شامل نہیں تھے؟ کون سے انتخابات تھے جن میں انھوں نے نواز شریف کے ٹکٹ پر الیکشن نہیں لڑے اور تعریف و توصیف کے وہ کون سے موتی تھے جو انھوں نے میاں صاحب کی شان میں نہیں لٹائے۔
جنرل پرویز مشرف نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر جب اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کیا تو یہ لوگ نواز شریف کا ساتھ چھوڑ کر ان سے جا ملے اور 2008تک اقتدار کے مزے لوٹتے رہے۔ ان میں سے ایک صاحب کی'' وزیر اعظم'' بننے کی دیرینہ حسرت بھی پوری ہوگئی یہ اور بات ہے کہ وہ چند ماہ سے زیادہ اس منصب کا پروٹوکول نہیں لے سکے ۔ فوجی آمر کا ساتھ دینا' حیرت کی بات نہیں تھی ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں یہ پُر لطف بات کہی جاتی ہے کہ جب ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ ہر مرتبہ اپنی وفاداری اور پارٹی کیوں تبدیل کرلیتے ہیں انھوں نے جواب دیا کہ 'حضرت یہ آپ کی غلط فہمی ہے میں نے کبھی اپنی پارٹی تبدیل نہیں کی۔
میں ہمیشہ سرکاری پارٹی میں رہا ہوں' اس کے علاوہ اگر کسی پارٹی سے میرا تعلق ثابت ہوجائے تو آپ مجھے بتائیں؟ 'یہ جواب سن کر سوال کرنے والا واقعی لاجواب ہوگیا ۔ 2008کے انتخابات میں اس سیاسی گروہ کو کامیابی نہیں مل سکی ۔ وفاق میں پی پی پی اور پنجاب میں نواز لیگ اقتدار میں آگئیں ۔ اس گروہ نے پہلے دن سے کوشش کی کہ حکومتوں کا حصہ بن جایا جائے۔
بلوچستان میں ان کا کام بن گیا ' پنجاب میں نہ بن سکا اور وفاقی حکومت کے آخری سال میں انھیں اقتدار میں آنے کا بوجوہ موقع ملا۔ گویا یہ کہا جاسکتا ہے کہ پچھلی حکومت تک یہ سیاسی طبقہ مکمل تو نہیں لیکن کسی نہ کسی حد تک اقتدار سے وابستہ رہا ۔ 2013کے انتخابات سے قبل انھیں ہوا کے رُخ کا علم ہوگیا تھا ۔ انھوں نے نواز شریف سے ہاتھ ملانے کی کوشش کی جو بار آور ثابت نہ ہوسکی ۔ عام انتخابات ہوئے جس میں اس سیاسی حلقے کا تقریباً صفایا ہوگیا اور صرف بعض مرکزی لیڈر اپنی انفرادی حیثیت میں بہ مشکل کامیاب ہوسکے ۔
پچھلے عام انتخابات کے بعد حالات نے پلٹا کھایا ۔ نواز شریف کو پارلیمنٹ میں اکثریت مل گئی ۔ پنجاب میں اس جماعت نے دو تہائی کے قریب نشستیں حاصل کیں ، سندھ میں پی پی پی کو سادہ اکثریت ملی' اُسے بھی حکومت بنانے کے لیے ماضی کی طرح کسی سہارے یا بیساکھی کی ضرورت نہیں تھی ۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کسی جماعت کو سادہ اکثریت نہ مل سکی' تحریک انصاف اور مسلم لیگ نواز نے علی الترتیب دونوں وفاقی اکائیوں میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں اور ان صوبوں میں ان کی مخلوط حکومتیں قائم ہوگئیں۔
سیاسی منظر نامہ کچھ اس طرح کا تشکیل پایا کہ ماضی میں ہمیشہ سرکاری پارٹی میں شامل رہنے والوں کی اکثریت کو سرکاری پارٹیوں نے اپنے اندر شامل کرنے سے انکار کردیا ۔ ایسا تو پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا کہ ہر حکومتی جماعت میں شامل ہوکر حکمرانوں کی شان میں قصیدہ کہنے والوں کو' نئے حکمران قبول نہ کریں ۔ یہ ان کے لیے صدمہ عظیم تھا۔ ان کا غم اور الم کتنا عظیم ہوگا جو ہمیشہ سے اقتدار والوں کے ہم نوا تھے اور اب اچانک انھیں بے روزگار اور بے اقتدار ہونا پڑا ۔ وہ جس قدر جھنجھلائیں اور برہم ہوں' برحق ہے ۔ اس غصے کی شدت میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔
اقتدار کی غلام گردشوں سے ایک سال باہر رہنا در اصل ایک صدی باہر رہنے کے مترادف ہے ۔ بہت کم سیاسی مچھلیاں ایسی ہوتی ہیں جو اقتدار کے پانیوں سے باہر زندہ رہنے کی اذیت برداشت کرنے کی سکت رکھتی ہیں ۔ ان کا کہنا ہوتا ہے کہ اب بہت ہوچکا ' ہمیں اقتدار میں شریک کرو' ورنہ ہم تمہیں اقتدار سے محروم کرنے کے لیے ہر حد سے گزر جائیں گے ۔ ہمیں پاکستان' اس کے عوام اور مسائل سے کوئی غرض نہیں' جو ہوگا دیکھا جائے گا ۔
ایک تیسرا مکتبہ فکر ایسا بھی ہے جو حکومت اور نظام دونوں کو ٹھکانے لگانے کے کھیل میں شامل ہے ۔ اس کی قیادت مذہبی رنگ لیے ہوئے ہے اور سال کا زیادہ عرصہ ایک خوبصورت سرد ملک میں گزارتی ہے لیکن اس کے قائد کا دل ہر لحظہ اور ہرآن اپنے '' وطن'' کے لیے دھڑکتا ہے۔ وطن اور اس کے عوام سے عشق کا یہ عالم ہے کہ انھوں نے اپنی شہریت بھی کسی اور ملک کی لے رکھی ہے ۔ ایک مرتبہ ایوان میں آئے اور جلد ہی اُسے داغ مفارقت دے گئے۔ پی پی پی کے پچھلے دور حکومت میں پاکستان وارد ہوئے' اسلام آباد میں دھرنا دیا۔
خون جما دینے والی سردی میں خود 5 اسٹار کنٹینر میں قیام پذیر رہے اور ان کے معتقد مرد اور خواتین چھوٹے چھوٹے بچوں کو لیے کھلی سڑکوں پر اذیتیں اٹھاتی رہیں۔ انھیں گزشتہ جمہوری حکومت کو دبائو میں لانے کا فرض سونپا گیا تھا جسے پورا کرکے واپس اپنے نئے وطن سدھار گئے۔ موصوف نے 2013 کے عام انتخابات میں حصہ نہیں لیا اور ملک کے کسی بھی جمہوری ادارے میں ان کی نمایندگی موجود نہیں ۔ اب وہ دوبارہ پورے نظام کو ہی زمین بوس کرنے کے لیے نئے وطن سے پرانے وطن میں جلوہ افروز ہوچکے ہیں ۔ ان کا کچھ بھی دائو پر نہیں لگا ہے ۔ نہ پاکستان میں رہتے ہیں'نہ کسی الیکشن میں حصہ لیتے ہیں اور نہ ان کی جماعت ملک میں سیاست کرتی ہے ۔انھیں چندہ چاہیے جس کے لیے عام پاکستانیوں کو پریشان کرتے اور اپنے کارکنوں سے قربانیاں لیتے ہیں۔
اس بار ان کی پاکستان آمد کوئی بڑا ڈرامائی رنگ پیدا نہ کرسکی ۔ پاکستان کی تقریباً تمام اہم سیاسی قیادت آپریشن ضرب عضب کے حوالے سے فوج کی پشت پر کھڑی ہے ۔ عوام بھی سیاسی شعبدہ بازیوں اور تماشوں سے تنگ آچکے ہیں ۔ کس جماعت کو حکومت میں رہنا ہے اور کس کو حکومت سے باہر نکالنا ہے' اس کا فیصلہ وہ بر سر اقتدار جماعتوں کی کارکردگی دیکھ کر 2018 کے انتخابات میں خود کردیں گے ۔ جب ایسا کاری جمہوری ''ہتھیار'' عوام کے ہاتھوں میں آجائے تو سازشوں کی سیاست دم توڑ دیا کرتی ہے ۔
پاکستان کو آئین اور جمہوریت کی پٹری سے اتارنے اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو کمزور بنانے کے لیے یہ تینوں مختلف النوع عناصر ہر حد سے گزرنے کے لیے تیار ہیں لیکن وقت بدل گیا ہے اور عوام بھی سب کچھ دیکھ رہے ہیں ۔ جن کو اپنا سیاسی مسقبل عزیز ہے انھیں سنجیدہ اور دانش مندانہ انداز اختیار کرنا ہوگا ورنہ ان کا رہا سہا سیاسی اثرو رسوخ بھی ختم ہوجائے گا ۔
سیاسی بحران اور احتجاجی تحریک کا آغاز کرنے والوں میں تین طرح کے عناصر شامل ہیں۔ اس میں ایک سیاسی جماعت پی ٹی آئی ہے جو 2013 کے عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان کے تیسرے سب سے بڑے صوبے میں بر سر اقتدار ہے ۔ پارلیمنٹ کے اندر وہ تیسری بڑی اور ووٹوں کے حصول کے اعتبار سے ملک کی دوسری سب سے بڑی جماعت ہونے کی دعویدار ہے ۔ یہ جماعت جن عام انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آئی اسے وہ فراڈ اور دھاندلی پر مبنی قرار دیتی ہے۔ آنے والے دنوں میں سینیٹ کے لیے بھی انتخابات ہوں گے۔
یہ جماعت وہاں بھی نمایندگی لینے کی آرزو مند ہے لہٰذا موجودہ حکومت کو گرانے کے اقدام میں وہ کچھ تاخیر چاہتی ہے تاکہ سینیٹ میں چند نشستیں حاصل کرلی جائیں کیونکہ کسی بحران کے نتیجے میں امکانی طور پر اسمبلیاں تو ختم ہوسکتی ہیں لیکن سینیٹ تحلیل نہیں ہوسکتی ۔ اس جماعت کی حکمت عملی ہے کہ اپنے کارکنوں کو فعال اور متحرک رکھا جائے اور جب ''مناسب'' وقت آئے تو احتجاجی تحریک کی بھٹی میں اپنے کارکنوں کو جھونک دیا جائے ۔
حکومت یا نظام یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو ختم کرنے کی کوشش میں سرگرم دوسرا عنصر ان سیاسی رہنمائوں اور جماعتوں پر مشتمل ہے جو 1999 کے بعد سے 2008 تک ایک آمر کے سیاسی ہم نوا تھیں اور جنھیں عوام نے انتخابات میں بُری طرح مسترد کردیا تھا ۔ یہ وہ عناصر ہیں جو ہمیشہ
برسراقتدار طبقوں کی حمایت کرتے ہیں اور اس کے عوض اقتدار کے دستر خوان کا لطف اٹھاتے ہیں ۔ ان میں شامل سیاستدانوں کی اکثریت 1999 تک موجودہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ہم نوا اور دست راست رہ چکی تھی۔ ماضی میں میاں صاحب کی کون سی حکومت تھی جس میں وہ شامل نہیں تھے؟ کون سے انتخابات تھے جن میں انھوں نے نواز شریف کے ٹکٹ پر الیکشن نہیں لڑے اور تعریف و توصیف کے وہ کون سے موتی تھے جو انھوں نے میاں صاحب کی شان میں نہیں لٹائے۔
جنرل پرویز مشرف نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر جب اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کیا تو یہ لوگ نواز شریف کا ساتھ چھوڑ کر ان سے جا ملے اور 2008تک اقتدار کے مزے لوٹتے رہے۔ ان میں سے ایک صاحب کی'' وزیر اعظم'' بننے کی دیرینہ حسرت بھی پوری ہوگئی یہ اور بات ہے کہ وہ چند ماہ سے زیادہ اس منصب کا پروٹوکول نہیں لے سکے ۔ فوجی آمر کا ساتھ دینا' حیرت کی بات نہیں تھی ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں یہ پُر لطف بات کہی جاتی ہے کہ جب ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ ہر مرتبہ اپنی وفاداری اور پارٹی کیوں تبدیل کرلیتے ہیں انھوں نے جواب دیا کہ 'حضرت یہ آپ کی غلط فہمی ہے میں نے کبھی اپنی پارٹی تبدیل نہیں کی۔
میں ہمیشہ سرکاری پارٹی میں رہا ہوں' اس کے علاوہ اگر کسی پارٹی سے میرا تعلق ثابت ہوجائے تو آپ مجھے بتائیں؟ 'یہ جواب سن کر سوال کرنے والا واقعی لاجواب ہوگیا ۔ 2008کے انتخابات میں اس سیاسی گروہ کو کامیابی نہیں مل سکی ۔ وفاق میں پی پی پی اور پنجاب میں نواز لیگ اقتدار میں آگئیں ۔ اس گروہ نے پہلے دن سے کوشش کی کہ حکومتوں کا حصہ بن جایا جائے۔
بلوچستان میں ان کا کام بن گیا ' پنجاب میں نہ بن سکا اور وفاقی حکومت کے آخری سال میں انھیں اقتدار میں آنے کا بوجوہ موقع ملا۔ گویا یہ کہا جاسکتا ہے کہ پچھلی حکومت تک یہ سیاسی طبقہ مکمل تو نہیں لیکن کسی نہ کسی حد تک اقتدار سے وابستہ رہا ۔ 2013کے انتخابات سے قبل انھیں ہوا کے رُخ کا علم ہوگیا تھا ۔ انھوں نے نواز شریف سے ہاتھ ملانے کی کوشش کی جو بار آور ثابت نہ ہوسکی ۔ عام انتخابات ہوئے جس میں اس سیاسی حلقے کا تقریباً صفایا ہوگیا اور صرف بعض مرکزی لیڈر اپنی انفرادی حیثیت میں بہ مشکل کامیاب ہوسکے ۔
پچھلے عام انتخابات کے بعد حالات نے پلٹا کھایا ۔ نواز شریف کو پارلیمنٹ میں اکثریت مل گئی ۔ پنجاب میں اس جماعت نے دو تہائی کے قریب نشستیں حاصل کیں ، سندھ میں پی پی پی کو سادہ اکثریت ملی' اُسے بھی حکومت بنانے کے لیے ماضی کی طرح کسی سہارے یا بیساکھی کی ضرورت نہیں تھی ۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کسی جماعت کو سادہ اکثریت نہ مل سکی' تحریک انصاف اور مسلم لیگ نواز نے علی الترتیب دونوں وفاقی اکائیوں میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں اور ان صوبوں میں ان کی مخلوط حکومتیں قائم ہوگئیں۔
سیاسی منظر نامہ کچھ اس طرح کا تشکیل پایا کہ ماضی میں ہمیشہ سرکاری پارٹی میں شامل رہنے والوں کی اکثریت کو سرکاری پارٹیوں نے اپنے اندر شامل کرنے سے انکار کردیا ۔ ایسا تو پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا کہ ہر حکومتی جماعت میں شامل ہوکر حکمرانوں کی شان میں قصیدہ کہنے والوں کو' نئے حکمران قبول نہ کریں ۔ یہ ان کے لیے صدمہ عظیم تھا۔ ان کا غم اور الم کتنا عظیم ہوگا جو ہمیشہ سے اقتدار والوں کے ہم نوا تھے اور اب اچانک انھیں بے روزگار اور بے اقتدار ہونا پڑا ۔ وہ جس قدر جھنجھلائیں اور برہم ہوں' برحق ہے ۔ اس غصے کی شدت میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔
اقتدار کی غلام گردشوں سے ایک سال باہر رہنا در اصل ایک صدی باہر رہنے کے مترادف ہے ۔ بہت کم سیاسی مچھلیاں ایسی ہوتی ہیں جو اقتدار کے پانیوں سے باہر زندہ رہنے کی اذیت برداشت کرنے کی سکت رکھتی ہیں ۔ ان کا کہنا ہوتا ہے کہ اب بہت ہوچکا ' ہمیں اقتدار میں شریک کرو' ورنہ ہم تمہیں اقتدار سے محروم کرنے کے لیے ہر حد سے گزر جائیں گے ۔ ہمیں پاکستان' اس کے عوام اور مسائل سے کوئی غرض نہیں' جو ہوگا دیکھا جائے گا ۔
ایک تیسرا مکتبہ فکر ایسا بھی ہے جو حکومت اور نظام دونوں کو ٹھکانے لگانے کے کھیل میں شامل ہے ۔ اس کی قیادت مذہبی رنگ لیے ہوئے ہے اور سال کا زیادہ عرصہ ایک خوبصورت سرد ملک میں گزارتی ہے لیکن اس کے قائد کا دل ہر لحظہ اور ہرآن اپنے '' وطن'' کے لیے دھڑکتا ہے۔ وطن اور اس کے عوام سے عشق کا یہ عالم ہے کہ انھوں نے اپنی شہریت بھی کسی اور ملک کی لے رکھی ہے ۔ ایک مرتبہ ایوان میں آئے اور جلد ہی اُسے داغ مفارقت دے گئے۔ پی پی پی کے پچھلے دور حکومت میں پاکستان وارد ہوئے' اسلام آباد میں دھرنا دیا۔
خون جما دینے والی سردی میں خود 5 اسٹار کنٹینر میں قیام پذیر رہے اور ان کے معتقد مرد اور خواتین چھوٹے چھوٹے بچوں کو لیے کھلی سڑکوں پر اذیتیں اٹھاتی رہیں۔ انھیں گزشتہ جمہوری حکومت کو دبائو میں لانے کا فرض سونپا گیا تھا جسے پورا کرکے واپس اپنے نئے وطن سدھار گئے۔ موصوف نے 2013 کے عام انتخابات میں حصہ نہیں لیا اور ملک کے کسی بھی جمہوری ادارے میں ان کی نمایندگی موجود نہیں ۔ اب وہ دوبارہ پورے نظام کو ہی زمین بوس کرنے کے لیے نئے وطن سے پرانے وطن میں جلوہ افروز ہوچکے ہیں ۔ ان کا کچھ بھی دائو پر نہیں لگا ہے ۔ نہ پاکستان میں رہتے ہیں'نہ کسی الیکشن میں حصہ لیتے ہیں اور نہ ان کی جماعت ملک میں سیاست کرتی ہے ۔انھیں چندہ چاہیے جس کے لیے عام پاکستانیوں کو پریشان کرتے اور اپنے کارکنوں سے قربانیاں لیتے ہیں۔
اس بار ان کی پاکستان آمد کوئی بڑا ڈرامائی رنگ پیدا نہ کرسکی ۔ پاکستان کی تقریباً تمام اہم سیاسی قیادت آپریشن ضرب عضب کے حوالے سے فوج کی پشت پر کھڑی ہے ۔ عوام بھی سیاسی شعبدہ بازیوں اور تماشوں سے تنگ آچکے ہیں ۔ کس جماعت کو حکومت میں رہنا ہے اور کس کو حکومت سے باہر نکالنا ہے' اس کا فیصلہ وہ بر سر اقتدار جماعتوں کی کارکردگی دیکھ کر 2018 کے انتخابات میں خود کردیں گے ۔ جب ایسا کاری جمہوری ''ہتھیار'' عوام کے ہاتھوں میں آجائے تو سازشوں کی سیاست دم توڑ دیا کرتی ہے ۔
پاکستان کو آئین اور جمہوریت کی پٹری سے اتارنے اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو کمزور بنانے کے لیے یہ تینوں مختلف النوع عناصر ہر حد سے گزرنے کے لیے تیار ہیں لیکن وقت بدل گیا ہے اور عوام بھی سب کچھ دیکھ رہے ہیں ۔ جن کو اپنا سیاسی مسقبل عزیز ہے انھیں سنجیدہ اور دانش مندانہ انداز اختیار کرنا ہوگا ورنہ ان کا رہا سہا سیاسی اثرو رسوخ بھی ختم ہوجائے گا ۔