حصص مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ 29 ہزار کی نفسیاتی حد بحال
سیمنٹ، پٹرولیم اور بینکنگ سیکٹر میں محدودخریداری سے تیزی، انڈیکس58 پوائنٹس کے اضافے سے29057 ہوگیا
177کمپنیوں کی قیمتیں بڑھ گئیں،155کے دام نیچے،مارکیٹ سرمایہ7.69 ارب روپے بلند۔ فوٹو: آن لائن/فائل
حکومت کی جانب سے حصص کی تجارت میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے ایمنسٹی اسکیم میں توسیع نہ دیے جانے کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں منگل کو اتارچڑھائو کے بعد محدود پیمانے پر تیزی رونما ہوئی جس سے انڈیکس کی29000 کی نفسیاتی حد بحال ہوگئی۔
50.28 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں بھی 7 ارب 69 کروڑ7 لاکھ90 ہزار592 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی اسکیم میں توسیع نہ ہونے اور آئندہ ماہ سے حصص کی تجارت میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے آمدنی وسرمائے سے متعلق پوچھ گچھ شروع ہونے کے خوف کی وجہ سے مارکیٹ میں تجارتی سرگرمیاں محدود ہو گئی ہیں، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر43.50 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی لیکن بعد ازاں سیمنٹ، پٹرولیم اور بینکنگ سیکٹر میں محدودپیمانے پر خریداری کی وجہ سے مندی کے اثرات زائل ہوگئے اور مارکیٹ میں تیزی رونما ہوئی۔
ٹریڈنگ کے دوران میوچل فنڈز، این بی ایف سیز، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر93 لاکھ60 ہزار661 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا جبکہ اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے 69 لاکھ93 ہزار521 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے6 لاکھ88 ہزار732 ڈالر اور بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے16 لاکھ78 ہزار408 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی، تیزی کے سبب کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس58.41پوائنٹس کے اضافے سے29057.44 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 61.35پوائنٹس کے اضافے سے 19993.63 اورکے ایم آئی30 انڈیکس 34.28 پوائنٹس کے اضافے سے 46545.62 ہوگیا۔
کاروباری حجم پیر کی نسبت 24.02 فیصد فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر16 کروڑ 59 لاکھ89 ہزار960 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار352 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں177 کے بھائو میں اضافہ، 155 کے داموں میں کمی اور20 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں رفحان میظ کے بھائو200 روپے بڑھ کر10999 روپے اور شیزان انٹرنیشنل کے بھائو41.80 روپے بڑھ کر 896.80 روپے ہوگئے جبکہ وائتھ پاکستان کے بھائو225 روپے کم ہو کر 4275.01 روپے اور نیسلے پاکستان کے بھائو200 روپے کم ہوکر7800 روپے ہوگئے۔
50.28 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں بھی 7 ارب 69 کروڑ7 لاکھ90 ہزار592 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی اسکیم میں توسیع نہ ہونے اور آئندہ ماہ سے حصص کی تجارت میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے آمدنی وسرمائے سے متعلق پوچھ گچھ شروع ہونے کے خوف کی وجہ سے مارکیٹ میں تجارتی سرگرمیاں محدود ہو گئی ہیں، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر43.50 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی لیکن بعد ازاں سیمنٹ، پٹرولیم اور بینکنگ سیکٹر میں محدودپیمانے پر خریداری کی وجہ سے مندی کے اثرات زائل ہوگئے اور مارکیٹ میں تیزی رونما ہوئی۔
ٹریڈنگ کے دوران میوچل فنڈز، این بی ایف سیز، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر93 لاکھ60 ہزار661 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا جبکہ اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے 69 لاکھ93 ہزار521 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے6 لاکھ88 ہزار732 ڈالر اور بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے16 لاکھ78 ہزار408 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی، تیزی کے سبب کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس58.41پوائنٹس کے اضافے سے29057.44 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 61.35پوائنٹس کے اضافے سے 19993.63 اورکے ایم آئی30 انڈیکس 34.28 پوائنٹس کے اضافے سے 46545.62 ہوگیا۔
کاروباری حجم پیر کی نسبت 24.02 فیصد فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر16 کروڑ 59 لاکھ89 ہزار960 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار352 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں177 کے بھائو میں اضافہ، 155 کے داموں میں کمی اور20 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں رفحان میظ کے بھائو200 روپے بڑھ کر10999 روپے اور شیزان انٹرنیشنل کے بھائو41.80 روپے بڑھ کر 896.80 روپے ہوگئے جبکہ وائتھ پاکستان کے بھائو225 روپے کم ہو کر 4275.01 روپے اور نیسلے پاکستان کے بھائو200 روپے کم ہوکر7800 روپے ہوگئے۔