نیشنل پریس کلب کااے پی این ایس کے الزامات کیخلاف مظاہرہ
اے پی این ایس نے معافی نہ مانگی توقومی اسمبلی اجلاس میںاحتجاج کرینگے،فاروق فیصل
اے پی این ایس نے معافی نہ مانگی توقومی اسمبلی اجلاس میںاحتجاج کرینگے،فاروق فیصل. فوٹو فائل
KARACHI:
نیشنل پریس کلب نے گزشتہ روز اے پی این ایس کی جانب سے حکومتی گرانٹ کے غلط استعمال کے الزامات کے خلاف جمعرات کواحتجاجی مظاہرہ کیااور واضح کیا کہ اگراے پی این ایس نے پریس کلبس سے متعلق جھوٹا اور بے بنیادبیان واپس لیکرمعذرت نہ کی تو ان کاگھیرائوکرنے کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بھی بھرپوراحتجاج کیاجائے گا۔
احتجاجی مظاہرے میں صدر نیشنل پریس کلب فاروق فیصل خان، سیکریٹری شہریارخان، فنانس سیکریٹری افضل جاوید،چیئرمین لوکل ایپنک قربان ستی ودیگر اراکین پریس کلب اور بڑی تعدادمیں صحافیوں نے شرکت کی۔مظاہرین نے اے پی این ایس کے بیان پرشدید نعرے بازی کی۔صدرنیشنل پریس کلب فاروق فیصل خان نے کہاکہ حکومت پاکستان نے آج تک نیشنل پریس کلب کیلیے اعلان کردہ گرانٹ میںایک پائی بھی ادا نہیںکی جبکہ اے پی این ایس اورایڈورٹائزنگ کمپنیوں کی آپس کی لڑائی میںانھوں نے صحافی ورکرزکے کندھوںپربندوقیں رکھنے کی ناکام کوشش کی ہے جوہم کامیاب نہیں ہوں دیںگے۔ ان صحافی ورکرزنے جب بھی حکومت کی جانب سے کسی بھی اخباریاٹی وی چینلز پر قدغن لگانے کی کوشش کی گئی توانہی ورکروں نے اخبارمالکان کے حق میں دن رات کوششیں اوراحتجاج کرکے انھیںناکام بنایا۔
انھوںنے کہاکہ آج اگر ان کی فلاح وبہبود کیلیے کوئی کام ہوتاہے وہ ان کوکانٹے کی طرح چبھتاہے۔اے پی این ایس والے خوداربوںروپے کے اشتہارحکومت سے لیتے ہیں اورپھر بھی ان کاپیٹ نہیںبھرتا جبکہ ہم ان مالکان پر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اگرانھوںنے اس جھوٹے اورگمراہ کن بیان کوواپس لیتے ہوئے تمام پریس کلبوںسے تحریراً معافی نہ مانگی توہم ان کے خلاف تحریک جاری رکھیںگے۔انھوں نے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ ہم اسمبلی کے اجلاس میںپریس کلب سے قومی اسمبلی تک احتجاجی ریلی نکالیںگے اورقومی اسمبلی کی کارروائی کی کوریج بازوئوں پرکالی پٹیاں باندھ کرکریںگے۔ سیکریٹری نیشنل پریس کلب شہریار خان نے کہا کہ یہ مالکان اربوںروپے حکومت سے لیتے ہیں اگرحکومت نے ورکروںکیلیے گرانٹ کا اعلان کیا توانھیںتکلیف ہونے لگی جبکہ یہ گرانٹ ابھی تک ادا بھی نہیںکی گئی۔
یہ مالکان انھیں ورکروں سے بل بوتے پرآج اربوںکھربوںکے مالک بن گئے ہیں،حکومت کی جانب سے اخبارات کے دفاتر بنانے کیلیے ملنے والے پلاٹوں پر کمرشل پلازے کھڑے کر کے ماہانہ کروڑوںروپے کرائے کی مد میں کمارہے ہیں۔چیئرمین ایپنک قربان ستی نے کہا کہ ہم ورکروںکااستحصال نہیں ہونے دیںگے۔ اے پی این ایس نے غلط بیانی سے کام لیاہے۔وہ اربوں کھربوںکی جائیدادوں کے مالک ہیں جبکہ ورکرز دو وقت کی روٹی کیلیے مجبور ہے۔ اس مہنگائی کے دور میں اپنے بچوں کی تعلیمی اخراجات، غمی خوشی کے لمحات اورگھر کاکچن چلانا مشکل ہے ہر سال جنرل باڈی کے اجلاس میں پورے سال کی کارکردگی اور اخراجات کاحساب دیاجاتا ہے اے پی این ایس والے سن لیںاگرانھوںنے اپنا گمراہ کن اورجھوٹا بیان واپس لیتے ہوئے پریس کلبوں سے معافی نہ مانگی تو ان کا کڑا احتساب اور گھیرائوکیاجائے گا۔
نیشنل پریس کلب نے گزشتہ روز اے پی این ایس کی جانب سے حکومتی گرانٹ کے غلط استعمال کے الزامات کے خلاف جمعرات کواحتجاجی مظاہرہ کیااور واضح کیا کہ اگراے پی این ایس نے پریس کلبس سے متعلق جھوٹا اور بے بنیادبیان واپس لیکرمعذرت نہ کی تو ان کاگھیرائوکرنے کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بھی بھرپوراحتجاج کیاجائے گا۔
احتجاجی مظاہرے میں صدر نیشنل پریس کلب فاروق فیصل خان، سیکریٹری شہریارخان، فنانس سیکریٹری افضل جاوید،چیئرمین لوکل ایپنک قربان ستی ودیگر اراکین پریس کلب اور بڑی تعدادمیں صحافیوں نے شرکت کی۔مظاہرین نے اے پی این ایس کے بیان پرشدید نعرے بازی کی۔صدرنیشنل پریس کلب فاروق فیصل خان نے کہاکہ حکومت پاکستان نے آج تک نیشنل پریس کلب کیلیے اعلان کردہ گرانٹ میںایک پائی بھی ادا نہیںکی جبکہ اے پی این ایس اورایڈورٹائزنگ کمپنیوں کی آپس کی لڑائی میںانھوں نے صحافی ورکرزکے کندھوںپربندوقیں رکھنے کی ناکام کوشش کی ہے جوہم کامیاب نہیں ہوں دیںگے۔ ان صحافی ورکرزنے جب بھی حکومت کی جانب سے کسی بھی اخباریاٹی وی چینلز پر قدغن لگانے کی کوشش کی گئی توانہی ورکروں نے اخبارمالکان کے حق میں دن رات کوششیں اوراحتجاج کرکے انھیںناکام بنایا۔
انھوںنے کہاکہ آج اگر ان کی فلاح وبہبود کیلیے کوئی کام ہوتاہے وہ ان کوکانٹے کی طرح چبھتاہے۔اے پی این ایس والے خوداربوںروپے کے اشتہارحکومت سے لیتے ہیں اورپھر بھی ان کاپیٹ نہیںبھرتا جبکہ ہم ان مالکان پر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اگرانھوںنے اس جھوٹے اورگمراہ کن بیان کوواپس لیتے ہوئے تمام پریس کلبوںسے تحریراً معافی نہ مانگی توہم ان کے خلاف تحریک جاری رکھیںگے۔انھوں نے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ ہم اسمبلی کے اجلاس میںپریس کلب سے قومی اسمبلی تک احتجاجی ریلی نکالیںگے اورقومی اسمبلی کی کارروائی کی کوریج بازوئوں پرکالی پٹیاں باندھ کرکریںگے۔ سیکریٹری نیشنل پریس کلب شہریار خان نے کہا کہ یہ مالکان اربوںروپے حکومت سے لیتے ہیں اگرحکومت نے ورکروںکیلیے گرانٹ کا اعلان کیا توانھیںتکلیف ہونے لگی جبکہ یہ گرانٹ ابھی تک ادا بھی نہیںکی گئی۔
یہ مالکان انھیں ورکروں سے بل بوتے پرآج اربوںکھربوںکے مالک بن گئے ہیں،حکومت کی جانب سے اخبارات کے دفاتر بنانے کیلیے ملنے والے پلاٹوں پر کمرشل پلازے کھڑے کر کے ماہانہ کروڑوںروپے کرائے کی مد میں کمارہے ہیں۔چیئرمین ایپنک قربان ستی نے کہا کہ ہم ورکروںکااستحصال نہیں ہونے دیںگے۔ اے پی این ایس نے غلط بیانی سے کام لیاہے۔وہ اربوں کھربوںکی جائیدادوں کے مالک ہیں جبکہ ورکرز دو وقت کی روٹی کیلیے مجبور ہے۔ اس مہنگائی کے دور میں اپنے بچوں کی تعلیمی اخراجات، غمی خوشی کے لمحات اورگھر کاکچن چلانا مشکل ہے ہر سال جنرل باڈی کے اجلاس میں پورے سال کی کارکردگی اور اخراجات کاحساب دیاجاتا ہے اے پی این ایس والے سن لیںاگرانھوںنے اپنا گمراہ کن اورجھوٹا بیان واپس لیتے ہوئے پریس کلبوں سے معافی نہ مانگی تو ان کا کڑا احتساب اور گھیرائوکیاجائے گا۔