مستحکم جمہوریت کی منزل

جمہوریت ایک طرزعمل کا نام ہے جس میں اختلاف رائے کو برداشت کیا جاتا ہے

جمہوریت ایک طرزعمل کا نام ہے جس میں اختلاف رائے کو برداشت کیا جاتا ہے۔ فوٹو: فائل

لاہور:
وطن عزیز میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری سیاسی کشیدگی اور تنائو نے عوام کو شدید ذہنی دبائو میں مبتلا کر رکھا ہے، ہر درد مند پاکستانی اس صورتحال پر دل گرفتہ اور فکرمند ہے۔حکومت پنجاب کی جانب سے پاکستان عوامی تحریک کے 16 ایم پی او کے تحت نظربند کارکنوں کو رہا کرنے کی خبر اورڈاکٹر طاہرالقادری کو فول پروف سیکیورٹی کی فراہمی سے اس میں کمی آنے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ ملکی حالات، محاذ آرائی، کشیدگی اور تنائوکے متحمل نہیں ہوسکتے، سیاسی قوتوں سے مکالمے کے حامی ہیں۔ان کے اس بیان سے عوام الناس کو کچھ ڈھارس بندھی ہے کہ حکومت معاملات کو افہام وتفہیم سے حل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے،کاش ایسا پہلے ہی ہوجاتا تو اتنا بھاری جانی ومالی نقصان نہ ہوتا آخر ہمارے سیاستدان پانی سر سے اونچا ہوجانے کے بعدکیوں سوچتے ہیں؟

جمہوریت ایک طرزعمل کا نام ہے جس میں نہ صرف اختلاف رائے کو برداشت کیا جاتا ہے بلکہ الجھی گتھیوں کا سلجھانے کے لیے مکالمے کی تدبیر کا ہنر استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ عجب المیہ ہے کہ جمہوریت کی علمبردار اور دعوے دار سیاسی پارٹیاں اقتدار کے منصب پر فائز ہوتی ہیں تو وہ جمہوریت کا پہلاسبق ہی بھلا بیٹھتی ہیں اور معاملات اس قدر گنجلگ ہوجاتے ہیں کہ پھر انھیں سلجھانے کے نام پرجمہوریت پر شب خون مارنے والوں کو سنہری موقعہ ہاتھ آجاتا ہے ،وطن عزیز کے عوام تین سے زائد دہائیاں آمریت کے زیر سایہ گزار چکے ہیں ۔


سترہ جون کو پولیس کے ذریعے طاقت کے بے جا استعمال کا نتیجہ پاکستان عوامی تحریک کے دو درجن سے زائد کارکنوں کی قیمتی جانوںکے ضیاع اور سیکڑوں زخمیوں کی صورت میں برآمد ہوا ۔ 23 جون کو علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد پر جو کچھ ہوا اس نے بھی مزید کشیدگی اور سیاسی تنائو کو ہوا دی ۔لیکن یہ اب خوش آیند بات ہے کہ وزیراعظم نواز شریف سے اولڈ ایئر پورٹ پر گورنر پنجاب چوہدری سرور نے ملاقات کر کے طاہر القادری سے ہونیوالے مذاکرات کے بارے میں تفصیلی آگاہ کیا۔

ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے گورنر کو طاہر القادری کے ساتھ مفاہمتی عمل آگے بڑھانے کی ذمے داری سونپتے ہوئے ان کے مطالبات کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی جس کے بعد گورنر چوہدری سرور نے منہاج القرآن سیکریٹریٹ ماڈل ٹائون میں طاہر القادری سے تفصیلی ملاقات کی۔ ملاقات کے آغاز پرگورنر پنجاب نے عوامی تحریک کی قیادت سے کارکنوں کی ہلاکت پر اظہار تعزیت اور جاں بحق ہونے والوں کی روح کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی ۔

جب کہ پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہرالقادری نے افواج پاکستان کی طرف سے ضرب ِعضب کی بھرپور حمایت وتائید کرتے ہوئے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ افواج پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر رمضان المبارک کے دوران ہر جمعے کو گھروں اور مساجد سے باہر نکل کر ریلیاں نکالیں اور آپریشن کی وجہ سے بے گھر ہونیوالے 5 لاکھ شہریوں کو خصوصی امدادی پیکیج دینے کا اعلان بھی کیا جس کی تقسیم فوج اور حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ مل کر کی جائے گی۔

دراصل یہی وقت ہے صورتحال کی نزاکت کو سمجھنے کا ۔ کیونکہ ایک جانب تو ملک کو دہشت گردی کا سامنا ہے اور پاک فوج ملکی وغیرملکی دہشتگردوں سے نبرد آزما ہے تو دوسری جانب ملک کو توانائی بحران سمیت معاشی واقتصادی بحران کا سامنا ہے ،بحرانوں سے نبردآزما ہونے اور ان پر قابو پانے کی صورت میں ہی ہم ترقی وخوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہوسکتے ہیں ۔ یہ منزل ملک میں جمہوریت کو مضبوط کرنے ہی سے حاصل ہوسکتی ہے ۔
Load Next Story