طے کریں کیسا ملک چاہیے
امدادی کاموں کو منظم نیٹ ورک کی شکل دی جائے تاکہ کام منصوبہ بندی سے مکمل ہوں ....
امدادی کاموں کو منظم نیٹ ورک کی شکل دی جائے تاکہ کام منصوبہ بندی سے مکمل ہوں فوٹو: فائل
لاہور:
منگل اور بدھ کی شب سعودی عرب سے پشاور آنے والے مسافر طیارے پر لینڈنگ کے دوران بہیمانہ فائرنگ ایک درد انگیز واقعہ ہی نہیں چشم کشا اور ویک اپ الارم ہے جسے دہشت گردی کے ہولناک تناظر میں آیندہ بھی کسی طور نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔اس سانحہ میں اگرچہ ایک بے گناہ و بے ضرر خاتون مسافرجاں بحق اور2 فضائی میزبان زخمی ہوگئے، مگر اس واقعے نے کراچی ایئرپورٹ اور رونما ہونے والے ان گنت سانحوں کی وجہ سے ایک بار پھر پورے داخلی سیکیورٹی نظام کی مزید فعالیت اور انتہائی چوکسی کی ضرورت کا احساس دلادیا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق رات 12 بجے کے قریب ریاض سے 178مسافر اور عملے کے بارہ ارکان کو لے کر پشاور آنے والی پرواز پی کے 756پشاور ائیر پورٹ پر لینڈنگ کر رہی تھی کہ پشتخرہ کے علاقے سے نامعلوم شرپسندوں نے اس پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک خاتون مسافر جاں بحق جب کہ 2سٹیورڈ زخمی ہوگئے، طیارے کو 10گولیاں لگیں۔ گورنر سردارمہتاب احمد نے طیارے پر فائرنگ کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے جب کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ وزیرستان آپریشن کا ردعمل ہوسکتا ہے، وطن آنیوالے معصوم محنت کش شہریوں کو فائرنگ اور دہشتگردی کا نشانہ بنانا انسانیت سوز حرکت ہے جس کا کسی بھی لحاظ سے کوئی جواز نہیں بنتا۔
شکر ہے کہ پائلٹ نے فائرنگ کے باوجود نہایت مہارت سے جہاز کو ہوائی اڈے پر اتار لیا۔ اس بار جو واردات ہوئی ہے اسے دہشت گردوں کے اضطراب انگیز رد عمل کے طور پر دہشت گردی مخالف حکمت عملی کی بنیاد بنائے بغیر کوئی چارہ نہیں، انٹیلی جنس حکام کو اپنا کردار زیادہ موثر طور پر ادا کرنا ہوگا کیونکہ ہوائی اڈے ، عسکری ایئر بیسز ،دفاعی تنصیبات سمیت دیگر حساس تنصیبات کی نگرانی کے پورے نیٹ ورک کی اوورہالنگ ناگزیر ہے، دہشت گردی میں ایئر پورٹس اہم ٹارگٹ ہوتے ہیں ، سیکیورٹی حکام کو ان نکات پر سوچنا ہوگا کہ فائرنگ کرکے پشاور ایئر پورٹ کے مسافر طیارے کو نشانہ بنایا گیا ، کیا یہ دہشت پھیلانے کی محض ایک اضافی وارننگ تھی کیونکہ اس واردات میں جدید ترین مہلک ہتھیار کا عدم استعمال ان عناصر کے مستقبل کے مذموم عزائم کی نشاندہی کرتا ہے۔
ایسا بھی ممکن ہے کہ ملک دشمن ایئر پورٹس کے رن وے کے قریبی علاقے کے گھروں کی چھتوں اور فضا میں اڑنے والے پرندوں سے بھی دہشت گردی کا کام لے سکتے ہیں ،اس ضمن میں پوری پلاننگ کی ضرورت ہے جب کہ اس حقیقت کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ایک طرف منی پاکستان اور دیگر شہروں میں دہشت گردی اور تخریب کاری کا سلسلہ بھی دہشت گردوں کی حکمت عملی کا حصہ بنا ہوا ہے۔ ادھر شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے خلاف فوجی آپریشن ''ضرب عضب'' کامیابی سے جاری ہے اور تازہ ترین کارروائیوں میں مزید 47 دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں، آئی ایس پی آر سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ فورسز کی طرف سے مقامی افراد کو نقل مکانی کے لیے دی گئی مہلت کے خاتمے کے بعد منگل سے شمالی وزیرستان میں ایک مرتبہ پھر کرفیو نافذکردیا گیا جس کے بعد علاقے سے لوگوں کا انخلا رک گیا ہے ۔
چنانچہ اس تناظر میں یہ اقدام خوش آیند ہے کہ بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور نور خان ایئربیس کو نشانہ بنانے اور وہاں کام کرنیوالے غیرملکی انجنیئرز کو اغواء کرنے کے خدشے کے پیش نظر سیکیورٹی اداروں اور پولیس کو سیکیورٹی انتظامات بہتر بنانے کے لیے بر وقت آگاہ کیا گیا ۔ منگل کو کراچی کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی نئی لہر میں3 پولیس اہلکار، سیاسی کارکنوں سمیت 11افراد جاں بحق اور پولیس کے اے ایس آئی سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔ دہشت گردوں کی دیدہ دلیری دیکھیے کہ پیر آباد کے علاقے منگھو پیر روڈ پر چار 125 موٹر سائیکلوں پر سوار8 مسلح ملزمان اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ شمالی وزیرستان آپریشن سے پیدا ہونے والے نقل مکانی کے معاملات کو احسن طریقے سے حل کیا جائے، ایک اطلاع کے مطابق شمالی وزیرستان آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی آپریشن کے اختتام کے بعد واپسی کے لیے وفاقی حکومت ''وزیراعظم ترقیاتی پروگرام برائے شمالی وزیرستان آئی ڈی پیز'' کا اعلان کریگی۔ اس پیکیج کے تحت نقل مکانی کرنے والے فی خاندان کو ایک سے 5لاکھ روپے کی امداد دی جائے گی ۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت ہر متاثرہ خاندان کو 5ماہ کا راشن بھی دے گی اور واپسی کے لیے ٹرانسپورٹیشن کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔
اس ترقیاتی پروگرام کے تحت شمالی وزیرستان ایجنسی کے تمام علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی اورانفرااسٹرکچر کے منصوبوں پر 80ارب روپے اورآئی ڈی پیزکے لیے 20ارب روپے مختص کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے ۔ادھر پنجاب حکومت نے 50 کروڑ روپے سے وزیراعلیٰ ریلیف فنڈ قائم کردیا ہے جب کہ بے گھر افراد کے لیے 10کروڑ روپے مالیت کی امدادی اشیا بھجوائی جا رہی ہیں ۔ 50 ٹرکوں کی پہلی کھیپ روانہ کی جا چکی ہے۔اس کے علاوہ جو بھی مزید امدادی سامان درکار ہوگا حکومت پنجاب شمالی وزیرستان کے لیے فراہم کرے گی۔
لہٰذا امدادی کاموں کو منظم نیٹ ورک کی شکل دی جائے تاکہ کام منصوبہ بندی سے مکمل ہوں ، امداد سے متاثرین محروم نہ ہوں اور دہشت گرد عوام میں گھل مل کر کوئی مذموم کارروائی بھی نہ کر سکیں ، یہ اس لیے ضروری ہے کہ پشاور پولیس نے متاثرین کے روپ میں دہشتگردوں کی آمد کو روکنے کے لیے خصوصی انتظامات کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت وزیرستان سے نقل مکانی کرنیوالے افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے متعلقہ تھانوں سے قانون کرایہ داری فارم لے کر انھیں پرکریں اور متعلقہ تھانوں میں جمع کرائیں جب کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو اطلاع ملی تھی کہ وزیرستان سے دہشتگرد متاثرین کے روپ میں پشاور اور دیگر اضلاع میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس ضمن میں کڑی نگرانی شرط اول ہے۔
دہشت گردی کے ستائے ہوئے ملکی معاشرے کو جن چیزوں کی ضرورت ہے اس کا اظہار چیف جسٹس آف پاکستان تصدق جیلانی نے اگلے روز ایک سمپوزیم میں کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ سماجی، معاشی یا سیاسی ناانصافی معاشرے میں عدم برداشت پیدا کرتی ہے، قانون کے نفاذ اور بنیادی حقوق کے بغیر معاشرہ جمہوری نہیں ہوسکتا بلکہ وہ ایک ہجوم ہوگا، ملکی و بین الاقوامی سطح پر فرقہ وارانہ، نسلی اور لسانی بنیادوں پر ہونے والی سیاست کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ آج شمالی وزیرستان میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ 10سال پہلے ہونا چاہیے تھا، شدت پسند ہم سے آزادی چھیننا چاہتے ہیں ،اب وقت آگیا ہے کہ طے کریں کہ ہمیں کیسا ملک چاہیے، عدم برداشت کا بڑھتا ہوا رویہ ریاست کی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔ان لفظوں کے کوزے میں حقائق کا دریا بند ہے۔ اب حکام کا فرض ہے کہ قوم کی ان خطوط پر رہنمائی اور مسیحائی کریں ۔
منگل اور بدھ کی شب سعودی عرب سے پشاور آنے والے مسافر طیارے پر لینڈنگ کے دوران بہیمانہ فائرنگ ایک درد انگیز واقعہ ہی نہیں چشم کشا اور ویک اپ الارم ہے جسے دہشت گردی کے ہولناک تناظر میں آیندہ بھی کسی طور نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔اس سانحہ میں اگرچہ ایک بے گناہ و بے ضرر خاتون مسافرجاں بحق اور2 فضائی میزبان زخمی ہوگئے، مگر اس واقعے نے کراچی ایئرپورٹ اور رونما ہونے والے ان گنت سانحوں کی وجہ سے ایک بار پھر پورے داخلی سیکیورٹی نظام کی مزید فعالیت اور انتہائی چوکسی کی ضرورت کا احساس دلادیا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق رات 12 بجے کے قریب ریاض سے 178مسافر اور عملے کے بارہ ارکان کو لے کر پشاور آنے والی پرواز پی کے 756پشاور ائیر پورٹ پر لینڈنگ کر رہی تھی کہ پشتخرہ کے علاقے سے نامعلوم شرپسندوں نے اس پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک خاتون مسافر جاں بحق جب کہ 2سٹیورڈ زخمی ہوگئے، طیارے کو 10گولیاں لگیں۔ گورنر سردارمہتاب احمد نے طیارے پر فائرنگ کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے جب کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ وزیرستان آپریشن کا ردعمل ہوسکتا ہے، وطن آنیوالے معصوم محنت کش شہریوں کو فائرنگ اور دہشتگردی کا نشانہ بنانا انسانیت سوز حرکت ہے جس کا کسی بھی لحاظ سے کوئی جواز نہیں بنتا۔
شکر ہے کہ پائلٹ نے فائرنگ کے باوجود نہایت مہارت سے جہاز کو ہوائی اڈے پر اتار لیا۔ اس بار جو واردات ہوئی ہے اسے دہشت گردوں کے اضطراب انگیز رد عمل کے طور پر دہشت گردی مخالف حکمت عملی کی بنیاد بنائے بغیر کوئی چارہ نہیں، انٹیلی جنس حکام کو اپنا کردار زیادہ موثر طور پر ادا کرنا ہوگا کیونکہ ہوائی اڈے ، عسکری ایئر بیسز ،دفاعی تنصیبات سمیت دیگر حساس تنصیبات کی نگرانی کے پورے نیٹ ورک کی اوورہالنگ ناگزیر ہے، دہشت گردی میں ایئر پورٹس اہم ٹارگٹ ہوتے ہیں ، سیکیورٹی حکام کو ان نکات پر سوچنا ہوگا کہ فائرنگ کرکے پشاور ایئر پورٹ کے مسافر طیارے کو نشانہ بنایا گیا ، کیا یہ دہشت پھیلانے کی محض ایک اضافی وارننگ تھی کیونکہ اس واردات میں جدید ترین مہلک ہتھیار کا عدم استعمال ان عناصر کے مستقبل کے مذموم عزائم کی نشاندہی کرتا ہے۔
ایسا بھی ممکن ہے کہ ملک دشمن ایئر پورٹس کے رن وے کے قریبی علاقے کے گھروں کی چھتوں اور فضا میں اڑنے والے پرندوں سے بھی دہشت گردی کا کام لے سکتے ہیں ،اس ضمن میں پوری پلاننگ کی ضرورت ہے جب کہ اس حقیقت کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ایک طرف منی پاکستان اور دیگر شہروں میں دہشت گردی اور تخریب کاری کا سلسلہ بھی دہشت گردوں کی حکمت عملی کا حصہ بنا ہوا ہے۔ ادھر شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے خلاف فوجی آپریشن ''ضرب عضب'' کامیابی سے جاری ہے اور تازہ ترین کارروائیوں میں مزید 47 دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں، آئی ایس پی آر سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ فورسز کی طرف سے مقامی افراد کو نقل مکانی کے لیے دی گئی مہلت کے خاتمے کے بعد منگل سے شمالی وزیرستان میں ایک مرتبہ پھر کرفیو نافذکردیا گیا جس کے بعد علاقے سے لوگوں کا انخلا رک گیا ہے ۔
چنانچہ اس تناظر میں یہ اقدام خوش آیند ہے کہ بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور نور خان ایئربیس کو نشانہ بنانے اور وہاں کام کرنیوالے غیرملکی انجنیئرز کو اغواء کرنے کے خدشے کے پیش نظر سیکیورٹی اداروں اور پولیس کو سیکیورٹی انتظامات بہتر بنانے کے لیے بر وقت آگاہ کیا گیا ۔ منگل کو کراچی کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی نئی لہر میں3 پولیس اہلکار، سیاسی کارکنوں سمیت 11افراد جاں بحق اور پولیس کے اے ایس آئی سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔ دہشت گردوں کی دیدہ دلیری دیکھیے کہ پیر آباد کے علاقے منگھو پیر روڈ پر چار 125 موٹر سائیکلوں پر سوار8 مسلح ملزمان اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ شمالی وزیرستان آپریشن سے پیدا ہونے والے نقل مکانی کے معاملات کو احسن طریقے سے حل کیا جائے، ایک اطلاع کے مطابق شمالی وزیرستان آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی آپریشن کے اختتام کے بعد واپسی کے لیے وفاقی حکومت ''وزیراعظم ترقیاتی پروگرام برائے شمالی وزیرستان آئی ڈی پیز'' کا اعلان کریگی۔ اس پیکیج کے تحت نقل مکانی کرنے والے فی خاندان کو ایک سے 5لاکھ روپے کی امداد دی جائے گی ۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت ہر متاثرہ خاندان کو 5ماہ کا راشن بھی دے گی اور واپسی کے لیے ٹرانسپورٹیشن کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔
اس ترقیاتی پروگرام کے تحت شمالی وزیرستان ایجنسی کے تمام علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی اورانفرااسٹرکچر کے منصوبوں پر 80ارب روپے اورآئی ڈی پیزکے لیے 20ارب روپے مختص کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے ۔ادھر پنجاب حکومت نے 50 کروڑ روپے سے وزیراعلیٰ ریلیف فنڈ قائم کردیا ہے جب کہ بے گھر افراد کے لیے 10کروڑ روپے مالیت کی امدادی اشیا بھجوائی جا رہی ہیں ۔ 50 ٹرکوں کی پہلی کھیپ روانہ کی جا چکی ہے۔اس کے علاوہ جو بھی مزید امدادی سامان درکار ہوگا حکومت پنجاب شمالی وزیرستان کے لیے فراہم کرے گی۔
لہٰذا امدادی کاموں کو منظم نیٹ ورک کی شکل دی جائے تاکہ کام منصوبہ بندی سے مکمل ہوں ، امداد سے متاثرین محروم نہ ہوں اور دہشت گرد عوام میں گھل مل کر کوئی مذموم کارروائی بھی نہ کر سکیں ، یہ اس لیے ضروری ہے کہ پشاور پولیس نے متاثرین کے روپ میں دہشتگردوں کی آمد کو روکنے کے لیے خصوصی انتظامات کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت وزیرستان سے نقل مکانی کرنیوالے افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے متعلقہ تھانوں سے قانون کرایہ داری فارم لے کر انھیں پرکریں اور متعلقہ تھانوں میں جمع کرائیں جب کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو اطلاع ملی تھی کہ وزیرستان سے دہشتگرد متاثرین کے روپ میں پشاور اور دیگر اضلاع میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس ضمن میں کڑی نگرانی شرط اول ہے۔
دہشت گردی کے ستائے ہوئے ملکی معاشرے کو جن چیزوں کی ضرورت ہے اس کا اظہار چیف جسٹس آف پاکستان تصدق جیلانی نے اگلے روز ایک سمپوزیم میں کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ سماجی، معاشی یا سیاسی ناانصافی معاشرے میں عدم برداشت پیدا کرتی ہے، قانون کے نفاذ اور بنیادی حقوق کے بغیر معاشرہ جمہوری نہیں ہوسکتا بلکہ وہ ایک ہجوم ہوگا، ملکی و بین الاقوامی سطح پر فرقہ وارانہ، نسلی اور لسانی بنیادوں پر ہونے والی سیاست کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ آج شمالی وزیرستان میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ 10سال پہلے ہونا چاہیے تھا، شدت پسند ہم سے آزادی چھیننا چاہتے ہیں ،اب وقت آگیا ہے کہ طے کریں کہ ہمیں کیسا ملک چاہیے، عدم برداشت کا بڑھتا ہوا رویہ ریاست کی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔ان لفظوں کے کوزے میں حقائق کا دریا بند ہے۔ اب حکام کا فرض ہے کہ قوم کی ان خطوط پر رہنمائی اور مسیحائی کریں ۔