پہلا ہائی جیکر

فوج کی درخواست کی ضد تو جاری رہی لیکن کہاں فوج اور پھر وہ فوج جو ان دنوں جہاد کے مقدس...

Abdulqhasan@hotmail.com

اصل بات یوں ہے کہ جب کینیڈا کے خوبصورت اور پر آسائش ملک سے آنے والا بچہ پاکستان کو پسند نہیں کر رہا تھا۔ جہاز خصوصاً اس کی بزنس کلاس نشست اس قدر آرام دہ اور خوش خوراک تھی کہ اسے چھوڑ کر باہر نکلنا حماقت تھی چنانچہ کئی گھنٹے تک یعنی پانچ سے زائد گھنٹے تک یہ ضد کی جاتی رہی کہ نہ نہ میں باہر نہیں جائوں گا یہیں بیٹھوں گا۔ جب تنگ کیا گیا تو ضد میں ترمیم شروع ہوئی پہلے تو ان لوگوں کے مرتبوں میں کمی کی جاتی رہی جنہوں نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی یہ سیٹ چھوڑ کر پاکستان کی گرمی میں باہر نکلنا تھا۔

فوج کی درخواست کی ضد تو جاری رہی لیکن کہاں فوج اور پھر وہ فوج جو ان دنوں جہاد کے مقدس فرض میں مصروف ہے اور کہاں یہ سیاسی شعبدہ باز چنانچہ اس دوران پائلٹ نے تنگ آ کر اور ضدی بچے کی زبان میں نکونک آ جانے پر بالآخر وہ بات کر ہی دی کہ آپ پر جہاز کے ہائی جیک کا کیس بن سکتا ہے اور یہ میرے اختیار میں ہے۔ یہ دھمکی برداشت سے باہر تھی اس پر مخل ہوتا تو دنیا تاریک ہو جاتی۔

اس سے پہلے کہ دنیا بھر میں رسوائی ہونی شروع ہو جائے دیوانہ بکار خویش ہوشیار چنانچہ وہ گورنر صاحب تک آ گئے اور گورنر نے ملک کو اس بدنامی سے بچانے کے لیے خود جہاز میں جا کر اس طفل مکتب کو گود میں اٹھا کر باہر لے آئے لیکن اصل شکریہ اس پائلٹ کا جو انتہائی حد تک تنگ آ کر مجبور ہو گیا اور اس کی قانونی دھمکی کام کر گئی۔ میں آپ کو طیارے کے اغواء کا ایک ایسا ہی پرانا قصہ سنانا چاہتا ہوں شاید پہلے بھی بیان کر چکا ہوں لیکن ایسی باتیں بار بار سنیں تو بہتر ہوتا ہے۔

ائیر مارشل نور خان PIA کے چیئرمین تھے۔ ان کے زمانے میں کراچی ائیر پورٹ پر PIA کا ایک جہاز اغوا کر لیا گیا اور اسے اغوا کرنے والوں نے وہیں اڈے پر ہی اپنے قبضے میں رکھا۔ جہاز دشمنوں کے قبضے میں کراچی ایئر پورٹ پر کھڑا تھا۔ ائیر مارشل نے متعلقہ اسٹاف کو ضروری ہدایات جاری کیں اور خود گھر روانہ ہو گئے۔ اب ان کی زبانی سنیے۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ میں گھر جا رہا تھا لیکن میرا ذہن ظاہر ہے کہ اس جہاز کے پاس تھا۔ میں شدید اضطراب کے عالم میں تھا بالآخر میں نے فیصلہ کر لیا اور ڈرائیور سے کہا کہ واپس چلو۔


میں ائیر پورٹ پہنچا اور اسی اضطراب اور غصے کے عالم میں سیدھا جہاز پر چڑھ گیا اس کا دروازہ کھٹکھٹا کر ہائی جیکروں کو للکارا اور دھکا دے کر دروازہ توڑ دیا اور اندر گھس کر سیدھا ہائی جیکر پر پل پڑا۔ لڑائی ہوئی لیکن میں نے ہائی جیکر کو قابو کر لیا۔ اس طرح کچھ دیر پہلے ائیر پورٹ سے گھر جاتے ہوئے میں نے سوچا تھا کہ نور خان تمہارا جہاز کسی کے قبضے میں ہو تم گھرجا رہے ہو اور کھانا کھا کر اور ایک سگار پی کر سو جائو گے کہ صبح ڈیوٹی پر جانا ہے یہ تو بے غیرتی والی بات ہے۔ جیو یا مرو ہائی جیکر سے بھڑجائو اللہ مالک ہے۔ اب جب میں نے ہائی جیکر کو قابو کر لیا تو مجھے سکون ملا کہ میں نے غیرت مندوں والا کام کیا ہے۔ اپنے ملک کی اپنے خاندان کی عزت بچا لی ہے۔ اکیلے نور خان نے دو چار ہائی جیکروں کو بے بس کر دیا۔

اب نور خان مرحوم و محترم کا ذکر آیا ہے تو ایک اور واقعہ سن لیجیے۔ وہ ان دنوں پاکستان ائیر فورس کے سربراہ تھے۔ انھیں بھنک پڑی کہ بھارت حملہ کرنے والا ہے۔ یہ 1965 کی جنگ کا زمانہ تھا۔ وہ سیدھے جی ایچ کیو پہنچے اور ان سے پوچھا کہ کیا بات ہے اور میں نے کیا صحیح سنا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ جی ہاں۔ چند مزید تفصیلات جمع کیں اور واپس دفتر آ کر اپنے بہترین ہوا بازوں کو بلایا اور ان کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ ہم بھارتی ائیر فورس کو جہاں ہے وہیں نہ ختم کر دیں۔ پہلے تو ہوا بازوںنے اسے بہت ہی مشکل سمجھا لیکن اپنے سامنے اپنے لیڈر کو پا کر جسے وہ خوب جانتے تھے حوصلہ باندھ لیا اور پھر بھارتی ائیر فورس جہاں تھی وہیں رہ گئی۔ مرحوم نور خان کی زندگی ایسے کارناموں سے بھری پڑی ہے۔

وہ ایک معجزاتی شخصیت تھے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ طاہر القادری اور غیر ملکی جہاز والا قصہ اول تو ہونے ہی نہ دیتے ہو جاتا تو اسے باعزت طور پر حل کر دیتے لیکن افسوس کہ وقت گزر گیا اور اپنے ساتھ وقت سے لڑنے والے بھی لیتا گیا۔ پیچھے رہ گئے ہم لوگ جو دنیا کا مذاق بن جاتے ہیں۔ اسی کراچی میں ایک ہائی جیکر کا قصہ اوپر بیان کیا ہے۔ جناب طاہر القادری نے بھی جو کچھ کیا وہ ایک ہائی جیکر کیا کرتا ہے انھوں نے ایسا کیوں کیا اور بچوں کی طرح ضد کیوں کی جس کا نتیجہ انھیں معلوم تھا کہ وہ ریاست سے لڑ نہیں سکتے اور آخری فتح ریاست اور حکومت کی ہو گی یا اس ہوا باز کی جو جہاز اڑا رہا ہے۔ جسے عدالتی اختیارات بھی حاصل ہیں اور وہ جہاز کے اندر پولیس کو بھی بلا سکتا ہے یہ سب معلوم ہونے کے باوجود انھوں نے مسلسل ضد کی جس کا نتیجہ یہی نکلتا تھا جو نکلا۔

وہ ایک سیاستدان اور ایک سیاسی گورنر کی پناہ میں جہاز سے باہر بھی نکلے اور باہر گھومے پھرے اور پھر ایسی مزید کارروائیوں کے لیے گھر چلے گئے۔ جہاں وہ کینیڈا میں رکھا تمام سامان کوئی ڈیڑھ سو بکس وغیرہ لے کر آئے تھے اور وہاں کچھ بھی چھوڑ کر نہیں آئے تھے معلوم نہیں انھوں نے کینیڈا کا پاسپورٹ کس جیب میں چھپا رکھا تھا جس پر لگے ویزوں پر انھوں نے کینیڈا برطانیہ دبئی وغیرہ کا سفر کیا۔ وہ سفر جو بالآخر ان کی ضدوں اور ان ضدوں کے ٹوٹنے پر ختم ہوا۔
Load Next Story