راولپنڈی اسمگل شدہ ٹائروں کی بڑی مارکیٹ بن گیا
راجہ بازار، پیرودھائی، چاہ سلطان،کشمیر روڈ کی تمام، صدرکی70دکانوں پر کھلے عام فروخت جاری
ملک میں اسمگل شدہ ٹائرز کی سالانہ فروخت 25 لاکھ سے بڑھ گئی، حکومت کو 15 ارب کا نقصان۔ فوٹو: فائل
راولپنڈی اور اس کی مارکیٹوں میں اسمگل شدہ ٹائروں کی غیر قانونی فروخت میں اضافہ ہورہا ہے۔ راولپنڈی کے مختلف علاقے بشمول پیر ودھائی، راجہ بازار، چاہ سلطان اور کشمیر روڈ پر کوئی ایسی دکان نہیں ہے جہاں یہ ٹائر فروخت نہ کیے جارہے ہوں۔
راولپنڈی صدر کی مرکزی مارکیٹ کی 70 سے زائد دکانوں اور دیگر جگہوں پر یہ ٹائر فروخت کیے جارہے ہیں۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں اسمگلروں نے ان مارکیٹوں میں اپنی دکانیں بھی خریدلی ہیں اور اب وہ ریٹیل کے ساتھ ہول سیل میں بھی ٹائر فروخت کررہے ہیں۔ یہ دوکانیں ان گوداموں کے علاوہ ہیں جو انہوں نے صدر بازار میں قائم کیے ہوئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تک مارکیٹ میں اسمگلروں کی اتنی بڑی تعداد نہیں تھی۔ اسمگل شدہ ٹائر فروخت کرنے والی ان دکانوں میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ اب سعدی اور کشمیر روڈ راولپنڈی میں تقریباً ہر دکان میں یہ ٹائر فروخت کیے جارہے ہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت کو ہر سال اسمگل شدہ ٹائروں کی فروخت کی وجہ سے 15 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے اور مارکیٹ میں ہرسال تقریباً 25 لاکھ سے زائد اسمگل شدہ ٹائر فروخت کیے جاتے ہیں۔ ٹائروں کی طلب کا تقریباً 20 فیصد ملک میں تیار کیا جاتا ہے جبکہ 48 فیصد ٹائر درآمد کیے جاتے ہیں اور 32 فیصد ٹائر اسمگل ہوتے ہیں۔ اسی طرح پانچ سال سے زائد پرانے میعاد ختم ہونیوالے ٹائر بھی فروخت کیے جارہے ہیں جو انسانی زندگیوں کیلیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ ذرائع کے مطابق ان میعاد ختم ہونے والے ٹائروں کو صاف ستھرا کرکے آگے کی تاریخ ثبت کرکے اور نئی پیکنگ میں سادہ لوح عوام کو فروخت کیا جاتا ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہاں موجود اسمگل شدہ اور میعاد ختم ہوجانے والے ٹائروں کو بلارکاوٹ ان دکانوں سے ملک بھر کی مارکیٹوں میں فروخت کیلیے منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ صورت حال اسمگلروں کی مزید حوصلہ افزائی کررہی ہے اور مقامی انڈسٹری اور ایمانداری سے ٹائر امپورٹ کرنیوالے تاجروں کو سخت نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ طورخم اسمگلروں کیلیے باڑہ سے زیادہ نزدیک ہونے کی وجہ سے آسان راستہ ہے۔ باڑہ ایجنسی بھی ہے اور یہ پشاور، راولپنڈی اور لاہور کی مارکیٹوں کیلیے مرکز کی صورت میں بھی کام کرتا ہے۔ تاہم چمن کے راستے اسمگل شدہ ٹائر براہ راست لاہور لائے جاتے ہیں جس کے بعد وہ پورے ملک میں تقسیم کردیے جاتے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ اسمگلروں نے اپنے ایجنٹ بھی مارکیٹ میں تعینات کررکھے ہیں جو لوگوں پر نگاہ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ باڑہ اور ملک بھر میں بھی ٹیلیفون کے ذریعے ایجنٹوں کا آپس میں قریبی تعلق رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمگل شدہ ٹائروں اور درآمدی ٹائروں کی قیمت میں فرق بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیمت کے فرق کی وجہ سے زیادہ منافع کیلیے امپورٹرز بھی بڑی برانڈ کے اسمگل شدہ ٹائر فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ باڑہ سے خریدے گئے ان ٹائروں کو چھوٹی گاڑیوں اور ویگنوں کے ذریعے راولپنڈی لایا جاتا ہے۔ کسٹم حکام کی نرمی کی وجہ سے اب یہ ٹائر مزدا ٹرکوں میں راتوں رات کلیئر کرکے پیرودھائی پہنچا دیے جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سعدی اور کشمیر روڈ کے عقب میں ایک دکان میں اسمگل شدہ ٹائروں کی دھلائی، صفائی ستھرائی اور ان کو نئی پیکنگ میں بند کیا جاتا ہے۔ اسمگلرز ان لوگوں کو پیکیجنگ میٹریل بھی فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں ہر برانڈ کے ٹائر فروخت کیے جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس ساری صورت حال کا حل کسٹمز کے انٹیلی جنس اور انویسٹی گیشن ونگ کی جانب سے ایسی جگہوں پر متواتر چھاپے مارنا ہے۔ کسٹمز کو ان دکانوں سے فروخت ہونیوالے ٹائروں کی قانونی دستاویزات طلب کرنی چاہئیں اور نہ ہونے کی صورت میں ان ٹائروں کو ضبط کرلینا چاہیے۔ ان چھاپوں کو مسلسل اور ملک بھر میں باقاعدہ حکمت عملی کے تحت مارنا چاہئیں۔
راولپنڈی صدر کی مرکزی مارکیٹ کی 70 سے زائد دکانوں اور دیگر جگہوں پر یہ ٹائر فروخت کیے جارہے ہیں۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں اسمگلروں نے ان مارکیٹوں میں اپنی دکانیں بھی خریدلی ہیں اور اب وہ ریٹیل کے ساتھ ہول سیل میں بھی ٹائر فروخت کررہے ہیں۔ یہ دوکانیں ان گوداموں کے علاوہ ہیں جو انہوں نے صدر بازار میں قائم کیے ہوئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تک مارکیٹ میں اسمگلروں کی اتنی بڑی تعداد نہیں تھی۔ اسمگل شدہ ٹائر فروخت کرنے والی ان دکانوں میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ اب سعدی اور کشمیر روڈ راولپنڈی میں تقریباً ہر دکان میں یہ ٹائر فروخت کیے جارہے ہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت کو ہر سال اسمگل شدہ ٹائروں کی فروخت کی وجہ سے 15 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے اور مارکیٹ میں ہرسال تقریباً 25 لاکھ سے زائد اسمگل شدہ ٹائر فروخت کیے جاتے ہیں۔ ٹائروں کی طلب کا تقریباً 20 فیصد ملک میں تیار کیا جاتا ہے جبکہ 48 فیصد ٹائر درآمد کیے جاتے ہیں اور 32 فیصد ٹائر اسمگل ہوتے ہیں۔ اسی طرح پانچ سال سے زائد پرانے میعاد ختم ہونیوالے ٹائر بھی فروخت کیے جارہے ہیں جو انسانی زندگیوں کیلیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ ذرائع کے مطابق ان میعاد ختم ہونے والے ٹائروں کو صاف ستھرا کرکے آگے کی تاریخ ثبت کرکے اور نئی پیکنگ میں سادہ لوح عوام کو فروخت کیا جاتا ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہاں موجود اسمگل شدہ اور میعاد ختم ہوجانے والے ٹائروں کو بلارکاوٹ ان دکانوں سے ملک بھر کی مارکیٹوں میں فروخت کیلیے منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ صورت حال اسمگلروں کی مزید حوصلہ افزائی کررہی ہے اور مقامی انڈسٹری اور ایمانداری سے ٹائر امپورٹ کرنیوالے تاجروں کو سخت نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ طورخم اسمگلروں کیلیے باڑہ سے زیادہ نزدیک ہونے کی وجہ سے آسان راستہ ہے۔ باڑہ ایجنسی بھی ہے اور یہ پشاور، راولپنڈی اور لاہور کی مارکیٹوں کیلیے مرکز کی صورت میں بھی کام کرتا ہے۔ تاہم چمن کے راستے اسمگل شدہ ٹائر براہ راست لاہور لائے جاتے ہیں جس کے بعد وہ پورے ملک میں تقسیم کردیے جاتے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ اسمگلروں نے اپنے ایجنٹ بھی مارکیٹ میں تعینات کررکھے ہیں جو لوگوں پر نگاہ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ باڑہ اور ملک بھر میں بھی ٹیلیفون کے ذریعے ایجنٹوں کا آپس میں قریبی تعلق رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمگل شدہ ٹائروں اور درآمدی ٹائروں کی قیمت میں فرق بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیمت کے فرق کی وجہ سے زیادہ منافع کیلیے امپورٹرز بھی بڑی برانڈ کے اسمگل شدہ ٹائر فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ باڑہ سے خریدے گئے ان ٹائروں کو چھوٹی گاڑیوں اور ویگنوں کے ذریعے راولپنڈی لایا جاتا ہے۔ کسٹم حکام کی نرمی کی وجہ سے اب یہ ٹائر مزدا ٹرکوں میں راتوں رات کلیئر کرکے پیرودھائی پہنچا دیے جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سعدی اور کشمیر روڈ کے عقب میں ایک دکان میں اسمگل شدہ ٹائروں کی دھلائی، صفائی ستھرائی اور ان کو نئی پیکنگ میں بند کیا جاتا ہے۔ اسمگلرز ان لوگوں کو پیکیجنگ میٹریل بھی فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں ہر برانڈ کے ٹائر فروخت کیے جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس ساری صورت حال کا حل کسٹمز کے انٹیلی جنس اور انویسٹی گیشن ونگ کی جانب سے ایسی جگہوں پر متواتر چھاپے مارنا ہے۔ کسٹمز کو ان دکانوں سے فروخت ہونیوالے ٹائروں کی قانونی دستاویزات طلب کرنی چاہئیں اور نہ ہونے کی صورت میں ان ٹائروں کو ضبط کرلینا چاہیے۔ ان چھاپوں کو مسلسل اور ملک بھر میں باقاعدہ حکمت عملی کے تحت مارنا چاہئیں۔