گستاخانہ فلم کیخلاف احتجاج اسلام آباد میں 6چوکیاں نذر آتش فوج طلب
امریکی سفارتخانے جانے سے روکنے پر پولیس سے تصادم،ہیلی کاپٹر سے شیلنگ، لاٹھی چارج،100زخمی، درجنوں گاڑیاں تباہ
اسلام آباد:گستاخانہ فلم کیخلاف مظاہرے کے دوران شرکا امریکی سفارتخانے تک جانے کیلیے سڑک پر رکھے کنٹینر کو ہٹارہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
گستاخانہ فلم کے خلاف پاکستان میں احتجاج شدت اختیار کر گیا، کئی شہروں میں شٹرڈائون ہڑتال کی گئی اور ریلیاں نکالی گئیں۔
جبکہ اسلام آباد میں ہنگاموں کے بعد ریڈ زون اور ڈپلومیٹک انکلیو کی حفاظت کیلیے فوج طلب کر لی گئی جبکہ جھڑپوں میں100افراد زخمی ہوگئے۔ اسلام آباد میں کالجوں کے طلبا اور دینی تنظیموں نے جلوس نکالا اور کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں ہٹا کر ریڈ زون میں گھسنے میں کامیاب ہو گئے اور ڈپلومیٹک انکلیو میں داخل ہونے کی کوشش کی، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے ہوائی فائرنگ کی، لاٹھی چارج کیا اور شیلنگ کی جبکہ طلبا نے پتھرائو کیا، طلبا اور پولیس میں جھڑپیںکئی گھنٹے تک جاری رہیں جس سے وفاقی دارالحکومت میدان جنگ بن گیا۔
ہزاروں مظاہرین کو پولیس نے متعدد داخلی مقامات پر روکنے کی کوشش کی جس پر مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی شروع کر دی، آبپارہ چوک، ڈھوکری چوک، بلیو ایریا، سرینہ ہوٹل کے بالمقابل پولیس اور مظاہرین میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین ریڈ زون میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے، جھڑپوں میں ایس ایس پی یاسین فاروق، ایس پی فرخ سمیت 7 سینئر پولیس افسروں سمیت 70 اہلکار اور 30 سے زائد مظاہرین زخمی ہو گئے۔ مشتعل طلبا نے 6پولیس چوکیوں اور بنکر کو آگ لگا دی جبکہ فائیو اسٹار ہوٹل اور پتھرائو کیا جس سے درجنوں گاڑیاں تباہ ہو گئیں، بعد ازاں ریڈ زون اور ڈپلومیٹک انکلیو کی حفاظت کیلیے فوج اور رینجرز طلب کر لی گئی۔
متعدد طلبا کو گرفتار کر لیا گیا، خبر ایجنسیوں کے مطابق مظاہرین پر ہیلی کاپٹر سے شیلنگ کی گئی، مشتعل مظاہرین نے کنٹینرز بھی ہٹا دیے اور کنونشن سینٹر کے سامنے فرانس چوک پہنچنے پر کامیاب ہو گئے، مظاہرین نے ڈی چوک پر پولیس تشدد کے خلاف دھرنا دیا، ذرائع کے مطابق ایک طالب علم پولیس کی گاڑی کے ساتھ ٹکرانے سے زخمی ہوا۔ وزارت داخلہ کو 42 پلاٹون فوجی دستہ فراہم کیا گیا جس کو ڈپلومیٹک انکلیو اور خاص طور پر امریکا اور یورپی ممالک کے سفارتخانوں کی سیکیورٹی کیلیے تعینات کر دیا گیا۔
اس کے بعد مظاہرین منتشر ہو گئے۔گستاخانہ فلم کے خلاف آج حکومت کی طرف سے اعلان کردہ یوم عشق رسولؐ منایاجائے گا اس موقع پر جلسے جلوس اور ریلیاں نکالی جائیں گی،جمعرات کو لاہور میں مسیحی تنظیموں نے مال روڈ پر احتجاجی کیمپ لگایا، جلوس نکالا اور فلم کے ذمے داروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا،تحریک منہاج القرآن نے عظمت مصطفیٰ ریلی نکالی جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ جامعہ نعیمیہ سے امریکن قونصلیٹ تک ریلی نکالی گئی، جنرل اسپتال سے پیرامیڈیکل اسٹاف نے جلوس نکالا جبکہ طلبا نے بھی مظاہرے کیے، ٹریفک وارڈنز نے بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر ڈیوٹی انجام دی۔ پرتشدد واقعات سے نمٹنے کیلیے امریکی قونصلیٹ کے گرد کنٹینرز لگا کر راستے بند کر دیے گئے۔
کوئٹہ میں سارا دن جلوس نکلتے رہے، پولیس کی جانب سے گورنر ہائوس جانے سے روکنے پر مظاہرین مشتعل ہو گئے اور سنیما جلانے کی کوشش کی، پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا۔ راولپنڈی میں تاجر تنظیموں نے مظاہرے کیے اور ٹائر جلا کر سڑکیں بند کر دیں، پشاور میں ریلی کے شرکاء نے روڈ بلاک کر کے دھرنا دیا۔ ملتان، شیخوپورہ، تاندلیانوالہ، شورکوٹ، کینٹ، مظفرگڑھ، صادق آباد، بنوں، خیبر ایجنسی، حیدرآباد، پڈعیدن، پنو عاقل، نوشکی، لاڑکانہ حافظ آباد میں بھی ریلیاں نکالی گئیں اور مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے امریکہ کیخلاف شدید نعرے بازی کی اور اوباما کے پتلے اور پرچم نذر آتش کیے۔ منڈی بہاء الدین، شاہکوٹ، پاکپتن، چشتیاں، بہاولپور، بدین، مانسہرہ، دیر لوئر اور تیمر گرہ میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ بٹ خیلہ اور تیمر گرہ میں مظاہرین نے گستاخ رسول کے سر کی قیمت50کروڑ مقرر کرنے کا اعلان کر دیا۔ طالبان کمانڈر مولوی نذیر نے آج جنوبی وزیرستان میں ہڑتال کی کال دے دی۔
جبکہ اسلام آباد میں ہنگاموں کے بعد ریڈ زون اور ڈپلومیٹک انکلیو کی حفاظت کیلیے فوج طلب کر لی گئی جبکہ جھڑپوں میں100افراد زخمی ہوگئے۔ اسلام آباد میں کالجوں کے طلبا اور دینی تنظیموں نے جلوس نکالا اور کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں ہٹا کر ریڈ زون میں گھسنے میں کامیاب ہو گئے اور ڈپلومیٹک انکلیو میں داخل ہونے کی کوشش کی، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے ہوائی فائرنگ کی، لاٹھی چارج کیا اور شیلنگ کی جبکہ طلبا نے پتھرائو کیا، طلبا اور پولیس میں جھڑپیںکئی گھنٹے تک جاری رہیں جس سے وفاقی دارالحکومت میدان جنگ بن گیا۔
ہزاروں مظاہرین کو پولیس نے متعدد داخلی مقامات پر روکنے کی کوشش کی جس پر مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی شروع کر دی، آبپارہ چوک، ڈھوکری چوک، بلیو ایریا، سرینہ ہوٹل کے بالمقابل پولیس اور مظاہرین میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین ریڈ زون میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے، جھڑپوں میں ایس ایس پی یاسین فاروق، ایس پی فرخ سمیت 7 سینئر پولیس افسروں سمیت 70 اہلکار اور 30 سے زائد مظاہرین زخمی ہو گئے۔ مشتعل طلبا نے 6پولیس چوکیوں اور بنکر کو آگ لگا دی جبکہ فائیو اسٹار ہوٹل اور پتھرائو کیا جس سے درجنوں گاڑیاں تباہ ہو گئیں، بعد ازاں ریڈ زون اور ڈپلومیٹک انکلیو کی حفاظت کیلیے فوج اور رینجرز طلب کر لی گئی۔
متعدد طلبا کو گرفتار کر لیا گیا، خبر ایجنسیوں کے مطابق مظاہرین پر ہیلی کاپٹر سے شیلنگ کی گئی، مشتعل مظاہرین نے کنٹینرز بھی ہٹا دیے اور کنونشن سینٹر کے سامنے فرانس چوک پہنچنے پر کامیاب ہو گئے، مظاہرین نے ڈی چوک پر پولیس تشدد کے خلاف دھرنا دیا، ذرائع کے مطابق ایک طالب علم پولیس کی گاڑی کے ساتھ ٹکرانے سے زخمی ہوا۔ وزارت داخلہ کو 42 پلاٹون فوجی دستہ فراہم کیا گیا جس کو ڈپلومیٹک انکلیو اور خاص طور پر امریکا اور یورپی ممالک کے سفارتخانوں کی سیکیورٹی کیلیے تعینات کر دیا گیا۔
اس کے بعد مظاہرین منتشر ہو گئے۔گستاخانہ فلم کے خلاف آج حکومت کی طرف سے اعلان کردہ یوم عشق رسولؐ منایاجائے گا اس موقع پر جلسے جلوس اور ریلیاں نکالی جائیں گی،جمعرات کو لاہور میں مسیحی تنظیموں نے مال روڈ پر احتجاجی کیمپ لگایا، جلوس نکالا اور فلم کے ذمے داروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا،تحریک منہاج القرآن نے عظمت مصطفیٰ ریلی نکالی جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ جامعہ نعیمیہ سے امریکن قونصلیٹ تک ریلی نکالی گئی، جنرل اسپتال سے پیرامیڈیکل اسٹاف نے جلوس نکالا جبکہ طلبا نے بھی مظاہرے کیے، ٹریفک وارڈنز نے بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر ڈیوٹی انجام دی۔ پرتشدد واقعات سے نمٹنے کیلیے امریکی قونصلیٹ کے گرد کنٹینرز لگا کر راستے بند کر دیے گئے۔
کوئٹہ میں سارا دن جلوس نکلتے رہے، پولیس کی جانب سے گورنر ہائوس جانے سے روکنے پر مظاہرین مشتعل ہو گئے اور سنیما جلانے کی کوشش کی، پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا۔ راولپنڈی میں تاجر تنظیموں نے مظاہرے کیے اور ٹائر جلا کر سڑکیں بند کر دیں، پشاور میں ریلی کے شرکاء نے روڈ بلاک کر کے دھرنا دیا۔ ملتان، شیخوپورہ، تاندلیانوالہ، شورکوٹ، کینٹ، مظفرگڑھ، صادق آباد، بنوں، خیبر ایجنسی، حیدرآباد، پڈعیدن، پنو عاقل، نوشکی، لاڑکانہ حافظ آباد میں بھی ریلیاں نکالی گئیں اور مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے امریکہ کیخلاف شدید نعرے بازی کی اور اوباما کے پتلے اور پرچم نذر آتش کیے۔ منڈی بہاء الدین، شاہکوٹ، پاکپتن، چشتیاں، بہاولپور، بدین، مانسہرہ، دیر لوئر اور تیمر گرہ میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ بٹ خیلہ اور تیمر گرہ میں مظاہرین نے گستاخ رسول کے سر کی قیمت50کروڑ مقرر کرنے کا اعلان کر دیا۔ طالبان کمانڈر مولوی نذیر نے آج جنوبی وزیرستان میں ہڑتال کی کال دے دی۔