قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ کا بجٹ آڈٹ کرنے کامطالبہ
ججزکی مراعات میںاضافے کاجواز نہیں،بشریٰ گوہر،21 ویں ترمیم کی مخالفت کااعلان
ججزکی مراعات میںاضافے کاجواز نہیں،بشریٰ گوہر،21 ویں ترمیم کی مخالفت کااعلان
اسلام آباد(نمائندہ ایکسپریس)
قومی اسمبلی میں حکومتی اتحادی عوامی نیشنل پارٹی نے جج کی بیوائوں کی پینشنزمیں اضافے کے بارے میں21 ویںآئینی ترمیمی بل کی مخالفت کردی،اے این پی کی بشریٰ گوہر نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ ججزکے استحقاقات اورمراعات میں اضافے کا جواز نہیں، عام لوگ انصاف سے محروم ہیں، ملک سوموٹو نوٹس پر چلایاجارہا ہے، اے این پی 21ویں ترمیم کی مخالفت کرے گی۔جب صدرنشیں ریاض فتیانہ وضاحت کر رہے تھے کہ ایوان میں ججوںکے کنڈکٹ کوزیر بحث نہیں لایاجاسکتاتو عقبی نشستوں سے جمشیددستی نے آواز لگائی کہ'' چیئرمین صاحب ججوں کو اتنا سر پر نہ چڑھائیں''لیکن ان کا یہ جملہ ریکارڈ کا حصہ نہیں بن سکاکیونکہ اس وقت ان کامائیک بندتھا۔نورعالم نے الزام عائد کیاکہ جج صرف مسلم لیگ(ن) کے کیس سنتے ہیں،
ججوںکے اثاثے کبھی نہیں پوچھے گئے،پبلک اکائونٹس کمیٹی نے سپریم کورٹ کے بعض کھاتوں کا حساب طلب کیا تورجسٹرار نے حساب دینے سے انکار کر دیا، پی اے سی میں صدر، وزیر اعظم اورآرمی کے حسابات آتے ہیں تو سپریم کورٹ کے حسابات کیوں نہیں پیش کیے جا سکتے ۔جمشید دستی نے کہا کہ انہیں3برس تک الیکشن ٹربیونل میں رسوا ہونا پڑا، فیصلے جلدی نہیںکیے جاتے، اس موقع پر صدرنشین ریاض فتیانہ نے انہیں ججوںکے رویے کے بارے میں بات کرنے سے روکا۔مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق حکومتی اور اتحادی ارکان نے سپریم کورٹ کے حسابات کاآڈٹ کرنے کامطالبہ کیا۔
عذرا فضل نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ بہاولپور میں ایک شخص کو تشدد کانشانہ بنایاگیا اور اسے جلایا گیا،اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں۔ این این آئی کے مطابق وزیرمملکت امتیاز صفدر اورمسلم لیگ (ن)کے رانا تنویر کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔خواجہ سعد رفیق نے پنجاب حکومت پرتنقید اوربعض دیگر اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اداروں میں ٹکراؤ جاری رہا تو عدلیہ کو کسی اور سے مدد نہ لینی پڑجائے گی ،اب کی بار جو آئیں گے وہ واپس نہیں جائی گے، حکومت کو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی۔ بشریٰ گوہر نے قادیانیوں کی ویب سائٹ بند کرنے پر بھی آواز اٹھائی۔وزیر مملکت امتیاز صفدر نے توجہ دلائو نوٹس پر بتایا کہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کیلیے پاکستان کے اقدامات کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔
قومی اسمبلی میں حکومتی اتحادی عوامی نیشنل پارٹی نے جج کی بیوائوں کی پینشنزمیں اضافے کے بارے میں21 ویںآئینی ترمیمی بل کی مخالفت کردی،اے این پی کی بشریٰ گوہر نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ ججزکے استحقاقات اورمراعات میں اضافے کا جواز نہیں، عام لوگ انصاف سے محروم ہیں، ملک سوموٹو نوٹس پر چلایاجارہا ہے، اے این پی 21ویں ترمیم کی مخالفت کرے گی۔جب صدرنشیں ریاض فتیانہ وضاحت کر رہے تھے کہ ایوان میں ججوںکے کنڈکٹ کوزیر بحث نہیں لایاجاسکتاتو عقبی نشستوں سے جمشیددستی نے آواز لگائی کہ'' چیئرمین صاحب ججوں کو اتنا سر پر نہ چڑھائیں''لیکن ان کا یہ جملہ ریکارڈ کا حصہ نہیں بن سکاکیونکہ اس وقت ان کامائیک بندتھا۔نورعالم نے الزام عائد کیاکہ جج صرف مسلم لیگ(ن) کے کیس سنتے ہیں،
ججوںکے اثاثے کبھی نہیں پوچھے گئے،پبلک اکائونٹس کمیٹی نے سپریم کورٹ کے بعض کھاتوں کا حساب طلب کیا تورجسٹرار نے حساب دینے سے انکار کر دیا، پی اے سی میں صدر، وزیر اعظم اورآرمی کے حسابات آتے ہیں تو سپریم کورٹ کے حسابات کیوں نہیں پیش کیے جا سکتے ۔جمشید دستی نے کہا کہ انہیں3برس تک الیکشن ٹربیونل میں رسوا ہونا پڑا، فیصلے جلدی نہیںکیے جاتے، اس موقع پر صدرنشین ریاض فتیانہ نے انہیں ججوںکے رویے کے بارے میں بات کرنے سے روکا۔مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق حکومتی اور اتحادی ارکان نے سپریم کورٹ کے حسابات کاآڈٹ کرنے کامطالبہ کیا۔
عذرا فضل نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ بہاولپور میں ایک شخص کو تشدد کانشانہ بنایاگیا اور اسے جلایا گیا،اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں۔ این این آئی کے مطابق وزیرمملکت امتیاز صفدر اورمسلم لیگ (ن)کے رانا تنویر کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔خواجہ سعد رفیق نے پنجاب حکومت پرتنقید اوربعض دیگر اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اداروں میں ٹکراؤ جاری رہا تو عدلیہ کو کسی اور سے مدد نہ لینی پڑجائے گی ،اب کی بار جو آئیں گے وہ واپس نہیں جائی گے، حکومت کو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی۔ بشریٰ گوہر نے قادیانیوں کی ویب سائٹ بند کرنے پر بھی آواز اٹھائی۔وزیر مملکت امتیاز صفدر نے توجہ دلائو نوٹس پر بتایا کہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کیلیے پاکستان کے اقدامات کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔