سیاسی اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کریں

حکومت طاہر القادری سے ملاقاتیں کرکے گرم سیاسی ماحول کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کوشاں ہے ...

حکومت طاہر القادری سے ملاقاتیں کرکے گرم سیاسی ماحول کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کوشاں ہے. فوٹو؛فائل

ملک میں اس وقت سیاسی فضا میں ہل چل پیدا ہو چکی ہے اور حکومت مخالف بعض سیاسی جماعتیں تحریک چلانے کی دھمکیاں دے رہی ہیں۔ حکومت کو برسراقتدار آئے ابھی ایک سال ہوا ہے کہ وزیراعظم کو یہ کہنا پڑ گیا ہے کہ انھیں مدت پوری کرنے دی جائے۔ عمران خان 2013ء کے عام انتخابات کے بعد سے ہی چار حلقوں میں دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے حکومت کے خلاف سرگرم ہو گئے۔ وہ پچھلے کچھ عرصہ سے جلسے کر کے سیاسی ماحول کو گرم کر رہے ہیں۔ اب طاہر القادری کی آمد سے قبل ماڈل ٹائون لاہور میں جو سانحہ ہوا اس سے حکومت کی ساکھ متاثر ہوئی۔

حکومت نے طاہر القادری کی آمد کے موقع پر جو رویہ اختیار کیا اس کی ہر حلقے نے مذمت کی۔ اب حکومت طاہر القادری سے ملاقاتیں کرکے گرم سیاسی ماحول کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اگر حکومت پہلے ہی طاہر القادری سے مذاکرات کا رستہ اپنا لیتی تو ماڈل ٹائون جیسا سانحہ قطعی رونما نہ ہوتا اور بعض سیاسی جماعتوں کو حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان بھی نہ کرنا پڑتا۔ عمران خان ایک عرصہ سے حکومت سے چار حلقوں میں ووٹوں کی تصدیق کا مطالبہ کر رہے ہیں مگر حکومت ان کے اس مطالبہ کو پورا نہ کرکے انھیں حکومت مخالف تحریک چلانے کا موقع خود فراہم کر رہی ہے۔

عمران خان نے اب پہلی بار دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے تحریک انصاف کی جانب سے چار حلقوں کے ووٹوں کی تصدیق کا مطالبہ ایک ماہ میں پورا نہ کیا تو اس کے خلاف عید کے فوراً بعد اسمبلیوں سے استعفے دے کر لانگ مارچ کی صورت میں تحریک چلائی جائے گی۔ اگر تحریک انصاف عید کے بعد اسمبلیوں سے استعفے دے کر حکومت کے خلاف تحریک شروع کر دیتی ہے تو اس سے ملک میں نیا سیاسی بحران جنم لے سکتا ہے۔ جلسے' جلوس اور ہڑتالوں سے نئے مسائل پیدا ہوں گے اور حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔ اگر یہ تحریک شدت اختیار کرتی ہے اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی متحد ہو کر گرینڈ الائنس بنا لیتی ہیں توحکومت کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔اس سے پہلے کہ بات مزید بگڑے حکومت کو مذاکرات کا راستہ اپنا کر معاملات کو سدھارنے کی کوشش کرنا چاہیے۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نے بدھ کو ضلع کوہستان میں داسو کے مقام پر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمیں پانچ سال پورے کرنے دیے گئے تو پاکستان کی تقدیر بدل دیں گے۔ وزیراعظم کا واضح اشارہ ان قوتوں کی جانب ہے جو تحریک چلانے کی دھمکی یا انقلاب کا نعرہ لگاکر موجودہ حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کی خواہاں ہیں۔ اس سے قبل پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے پانچ سال پورے کیے اور آئینی طور پر اقتدار انتخابات جیتنے والی پارٹی کے حوالے کر دیا۔


ملک میں پہلی بار اقتدار کی پرامن منتقلی کا مرحلہ طے ہوا تو اس کا خیرمقدم کیا گیا اور یہ امید پیدا ہوئی کہ اب جمہوریت کی گاڑی چل پڑی ہے اور یہ بلا رکاوٹ یونہی چلتی رہی تو ملک میں جمہوری قدریں مضبوط ہونے سے ملک میں معاشی استحکام آئے گا۔سابق صدر زرداری نے مخالف سیاسی جماعتوں سے تصادم کے بجائے دوستی اور مصالحت کا راستہ اپنایا اور کامیابی سے ہر بحران سے نکل آئے۔موجودہ حکومت کو بھی اس معاملے پر غور کرنا چاہیے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے حکومتی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جدوجہد کا مقصد بجلی کے قابل برداشت اور انتہائی سستے ذرایع بروئے کار لانا ہے۔

انھوں نے کہا کہ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے 4320 میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی' یہ منصوبہ 2 مرحلوں میں پانچ سال کے اندر مکمل ہو گا اس پر پانچ سو ارب روپے خرچ ہوں گے جو بجلی کی پیداوار کے علاوہ کوہستان اور خیبرپختونخوا کے قریبی اضلاع کے مقامی باشندوں کے لیے روز گار کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔ وزیراعظم نے کہاکہ دیامر بھاشا ڈیم پر بھی کام جلد شروع کردیا جائے گا' دریائے سندھ میں چالیس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے جب کہ ابھی تک صرف سات ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ ملک میں بجلی پیدا کرنے کے وسیع قدرتی مواقع موجود ہیں۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ حکومت بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے دن رات کوشاں ہے۔

نندی پور پراجیکٹ مختصر مثالی مدت میں بجلی کی پیداوار دینے لگا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر منصوبے بھی شروع ہو چکے ہیں جن کی تکمیل کے بعد بجلی کا بحران ختم ہونے سے ملک میں معاشی انقلاب آ جائے گا۔ حکومت ملکی ترقی کے لیے میٹرو منصوبے، توانائی کے منصوبے اور نوجوانوں کے لیے روز گار کے پروگرام تو بنا رہی ہے مگر سیاسی سطح پر وہ کچھ ایسے غلط فیصلے کر رہی ہے جس سے ملک کی سیاسی فضا مکدر ہو رہی ہے۔ حکومت کو سیاسی مسائل تشدد' لاٹھی گولی کے بجائے مذاکرات اور مفاہمت کی بنیاد پر حل کرکے ملک میں امن و امان کی صورتحال کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ وہ قوتیں جو حکومت گرانے کی خواہاں ہیں انھیں بھی یہ حقیقت مدنظر رکھنی چاہیے کہ مسلم لیگ ن ایک بڑی سیاسی قوت ہے اور وہ عوامی ووٹوں کے بل بوتے پر جیت کر اقتدار میں آئی ہے۔

اگر یہ حکومت ختم ہو جاتی ہے اور اگلی اسمبلی میں یہ ایک طاقتور اپوزیشن کے روپ میں سامنے آ جاتی ہے تو یہ اپوزیشن بھی جواباً حکومت کے خلاف تحریک چلا کر اس کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اس طرح کوئی بھی حکومت اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکے گی اور ایک بعد دوسرا سیاسی بحران جنم لیتا رہے گا۔ اس لیے حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کو ایسا رویہ نہیں اختیار کرنا چاہیے جس سے ملک میں کوئی بحران جنم لے۔ دونوں فریقین کو تشدد یا احتجاج کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے سیاسی اختلافات باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے اسی میں ملکی خوشحالی اور استحکام مضمر ہے۔ اور یہی وہ راستہ ہے جس سے جمہوریت کو استحکام ملے گا۔
Load Next Story