عراق و شام کی بگڑتی ہوئی صورتحال

عراق اور شام کی مجوزہ ریاست ’’آئی ایس آئی ایس‘‘ (اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا) کے ساتھ وفاداری کا اعلان کر دیا

آئی ایس آئی ایس کو مشرقی شام میں بالادستی حاصل ہو گئی ہے، فوٹو: اے ایف پی/فائل

مغربی میڈیا کے مطابق القاعدہ کی شامی شاخ نے جو عراقی سرحد کے ساتھ واقع ابوکمال شہر میں قائم ہے' عراق اور شام کی مجوزہ ریاست ''آئی ایس آئی ایس'' (اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا) کے ساتھ وفاداری کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ پیشرفت اس بنا پر خصوصی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اس سے آئی ایس آئی ایس کو مشرقی شام میں بالادستی حاصل ہو گئی ہے جہاں قبل ازیں اس کی یہاں القاعدہ کے النصرہ فرنٹ نامی دھڑے کے ساتھ شدید لڑائی جاری تھی جب کہ النصرہ کے ساتھ مقامی باغی دھڑے بھی شامل تھے۔ گزشتہ پورا سال اسی لڑائی میں گزرا ہے۔


آئی ایس آئی ایس عراق اور شام کو ملا کر ایک اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتی ہے شام میں ہونے والی خانہ جنگی میں اس کی شمولیت بھی گزشتہ سال عمل میں آئی تھی۔ شامی باغی صدر بشار الاسد کی حکومت کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں جسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔ گزشتہ جنوری میں ٓئی ایس آئی ایس کی شامی باغیوں کے ساتھ لڑائی شروع ہو گئی تھی واضح رہے شام کے اندر جاری خانہ جنگی میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جب کہ امریکا نے یہاں فوجی مداخلت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا جسے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے بروقت انتباہ نے پسپا کردیا۔

شام کی داخلی صورتحال کا جائزہ لینے تنظیم کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے النصرہ فرنٹ کی آئی ایس آئی ایس کے ساتھ مفاہمت کی تصدیق کی ہے۔ عالمی ذرایع ابلاغ کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی ایس کی قیادت چیچن مجاہدین کے پاس ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آئی ایس آئی ایس کے جنگجوئوں نے عراق شام سرحد پر اپنی پوزیشن مضبوط کرلی ہے جب کہ اس علاقے سے عام آبادی کا انخلاء ایک مرتبہ پھر شروع ہو گیا ہے۔ اس صورت حال پر ایک اجمالی نظر ڈالنے سے محسوس ہوتا ہے کہ اس بحران میں کمی کے مستقبل قریب میں کوئی آثار نہیں ہیں جب کہ عراق کے اندر بھی تخریبی کارروائیوں میں شدت کی اطلاع ہے۔
Load Next Story