تحفظ پاکستان ترمیمی بل منظور

بل کے تحت گریڈ 15کے پولیس آفیسر کو گولی چلانے کا حکم دینے کا اختیار حاصل ہو گیا

ملک دشمنی کی ذیل میں اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، سرکاری املاک پر حملے اور دہشت گردی کی وارداتیں شامل ہوں گی۔ فوٹو: فائل

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ نے تحفظ پاکستان ترمیمی بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت گریڈ 15کے پولیس آفیسر کو گولی چلانے کا حکم دینے کا اختیار حاصل ہو گیا۔ اس سے قبل یہ اختیار گریڈ گیارہ کے افسر کو سونپنے کی تجویز بل میں شامل تھی تاہم سینیٹ کمیٹی نے بل کا شق وار جائزہ لیتے ہوئے اس اہم اختیار کے لیے پولیس افسر کے گریڈ میں چار درجوں کا اضافہ کرتے ہوئے اسے پندرہ کر دیا۔ کمیٹی کا اجلاس چیئر مین سینیٹر طلحہٰ محمود کی زیر صدارت ہوا جس میں وفاقی وزیر قانون زاہد حامد، وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔


وفاقی وزیر قانون نے بتایا کہ یہ قانون کسی شخص یا جماعت کے خلاف نہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے وضاحتاً کہا کہ آزاد عدلیہ اور طاقتور میڈیاکی موجودگی میں قانون کا غلط استعمال ناممکن ہے نیز قوانین کا غلط استعمال کرنے والے بچ نہیں سکتے اور عوام کے سامنے بے نقاب ہو جاتے ہیں۔ وفاقی وزیر زاہد حامد نے کہا کہ تحفظ پاکستان بل 2013ء سے نافذ ہے جو ترامیم کے بعد قومی اسمبلی سے منظور ہوا، مختلف ترامیم کو بھی شامل کر کے بل کو مذید بہتر کر دیا گیا اور اپوزیشن کے اندیشوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ نیز اس کی مدت تین سال سے کم کر کے دو سال کر دی گئی ہے۔ اس بل کا اطلاق ملک دشمنوں پر ہوگا۔

ملک دشمنی کی ذیل میں اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، سرکاری املاک پر حملے اور دہشت گردی کی وارداتیں شامل ہوں گی۔ وفاقی وزیر قانون نے کہا اس قانون کے غلط استعمال کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں۔ بہر حال پاکستان جیسے ملک میں قوانین کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سرکاری مشینری نے ہمیشہ ظلم و زیادتی کو وتیرہ بنایا ہے' تحفظ پاکستان بل پر بھی اپوزیشن کے اعتراضات تھے' بہر حال ملکی حالات کے پیش نظر ایسے قوانین کی ضرورت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ایسا انتظام کرے کہ اس قانون کا غلط استعمال نہ کر سکے۔
Load Next Story