’’سیاں بنے کوتوال‘‘
آئی پی ایل شروع ہونے کے بعد تو پلیئرز کو چند کروڑ دے کر خریدنا کوئی مشکل بات نہیں ہے
skhaliq@express.com.pk
کرپشن کا ناسور کرکٹ کو بُری طرح اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے خصوصاً آئی پی ایل شروع ہونے کے بعد تو اب اربوں روپے داؤ پر لگتے ہیں، ایسے میں پلیئرز کو چند کروڑ دے کر خریدنا کوئی مشکل بات نہیں ہوتی، پاکستان کی طرح بھارت میں بھی جو پکڑا گیا وہ چور اور بڑا ہاتھ مارنے والا سب کو حصہ دے کر ''باعزت انداز'' سے زندگی گذارتا ہے۔
کرکٹ میں ہنسی کرونیے سے دانش کنیریا تک جتنے بھی کرپشن کیسز سامنے آئے ان میں صرف مہرے (کرکٹرز) ہی پکڑے گئے، ان کی ڈوریاں ہلانے والے ہاتھ کون تھے کسی کو علم نہیں اور کوئی امید بھی نہیں کہ کبھی کسی کو پتا چلے گا۔ ہم کمپیوٹر میں داخل ہونے والے وائرس کو تو پکڑ رہے ہیں مگر وہ نادیدہ ہاتھ جو انھیں تیار کر رہا ہے اس کا کسی کو علم ہی نہیں، نہ ہی جاننے کی کوئی کوشش کرتا ہے، اب تو ایسا لگنے لگاکہ ہر میچ ہی فکسڈ ہے، کسی پلیئر کو اچانک خارش ہو اور وہ کمر کھجانے لگے تولوگ کہتے ہیں بکیز کو اشارہ دے دیا، کوئی کیچ چھوڑے تواس نے50لاکھ روپے لیے ہوں گے، کوئی مقابلہ بھی شکوک سے بالاتر نہیں رہا، کوئی اصل اپ سیٹ بھی بکیز کی جانب سے سیٹ کیا ہوا میچ لگتا ہے۔
اس کی وجہ یہی ہے کہ بڑی مچھلیوں پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا، سب ڈرتے ہیں کہ کہیں ہمارا حصہ بند نہ ہو جائے، جیسے ایک عام تھانے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ٹھیلوں سے بھی جمع کی گئی رقم اوپر تک برابر تقسیم ہوتی ہے، یقیناً کرکٹ میں بھی ایسا ہی ہوتا ہو گا، شری شانتھ و دیگر نے اکیلے پیسے تھوڑی کھائے ہوںگے، انھیں گرفتار کیا گیا پھر رہا ہو گئے اور اب ٹی وی پر ناچتے پھر رہے ہیں، رشوت سے لی گئی رقم اور مستقبل محفوظ ہے، ان کی کرکٹ ویسے بھی کتنی باقی رہ گئی تھی، اسی طرح پاکستان کے آج شان سے سر اٹھا کر چلنے والے بعض کرپٹ سابق کرکٹرز جو چند ہزار کی خیرات دے کر اپنے کروڑوں رشوت کے روپے ''حلال'' کرا چکے۔
ان سے بھی کیا کسی نے اس رقم کا حساب لیا، عامر، سلمان اور آصف تو اعتراف جرم بھی کر چکے ان کا پیسہ بھی محفوظ ہے، اسی طرح کیا کسی نے دانش کنیریا سے پوچھا کہ عدالتی کارروائیوں میں پانی کی طرح بہانے کیلیے پیسہ کہاں سے آیا، بھارت میں اظہر الدین اور اجے جڈیجا پر تاحیات پابندیاں لگیں پھر سزا ختم ہو گئی، اظہر تو لوگوں سے ووٹ لے کر پارلیمنٹ تک پہنچ گئے، ہمارے مشکوک ماضی والے کرکٹرز بھی یا تو کوچ یا پھر کمنٹیٹرز بن گئے ہیں، وہ بھی اب عزت دار ہیں، جو بے وقوف خفیہ کیمرے کے سامنے انجانے میں بڑکیاں مارتے ہوئے اپنے ''کارنامے'' قبول کر لے اسے تو سزا ملے گی ناں، دوسری جانب دھونی جیسے کئی ''عظیم'' کرکٹرز کی فائلیں عدالت میں دیمک چاٹ جائے گی،کون بھارت میں اس حوالے سے کچھ لکھ رہا ہے۔
بی سی سی آئی چیف سری نواسن کو ان کی اپنی عدالت نے معطل کیا مگر ساتھ ہی کہہ دیا کہ آئی سی سی چیئرمین بننے کی راہ میں ہم حائل نہیں ہوں گے،اگر ایک انسان پر الزام ہیں تو ہر معاملے میں یکساں سلوک کیوں نہیں کیا جا رہا؟ چنئی سپر کنگز کے کئی بڑے کھلاڑیوں کے نام جسٹس مدگال کی تحقیقاتی رپورٹ میں آئے وہ کیوں بھارتی ٹیم میں شامل ہیں؟ جس پولیس آفیسر نے پلیئرز کی پول کھولی وہ کیوں معطل ہوا اور اس کیخلاف ہی کیوں اچانک کئی کرپشن کیسز سامنے آ گئے؟ اس بارے میں کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہے، آئی پی ایل میں فکسنگ کیس جب سامنے آیا تو روزانہ درجنوں کی تعداد میں بکیز پکڑے گئے جنھیں ایک، ایک کر کے ضمانت پر رہائی ملتی رہی، اب وہ یقیناً اپنے دھندوں میں دوبارہ لگ چکے ہوں گے۔
شری شانتھ کا کیریئر تو پہلے ہی ڈانواڈول تھا ان کے سوا بھارت میں کوئی بڑا نام اس کیس میں نہیں پھنسا، حالانکہ اربوں روپے کی لیگ میں اب بھی تمام غلط کام جاری ہوں گے،چلیں مان لیتے ہیں کہ بھارتی نظام کرپٹ ہے وہاں بڑے بڑے سیاستدانوں کے کئی اسکینڈلز سامنے آتے رہتے ہیں مگر لوگ پھر انہی کو ووٹ دے کر جتوا دیتے ہیں، ایسے میں اگر سری نواسن پر الزامات لگے اور انھیں بھارتی بورڈ نے آئی سی سی کی چیئرمین شپ کیلیے نامزد کر دیا تو اس میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں، مگر گورے تو خود کو بڑا انصاف کا علم بردار کہتے ہیں، اب کہاں گئی ان کی انصاف پسندی، کیوں سب نے چپ سادھی ہوئی ہے، انگلش میڈیا پاکستانی کرکٹرز کے کرپشن کیسز سامنے لا کر انھیں سزا دلانے کیلیے بڑی مہم چلاتا ہے۔
ایسے میں ایک ایسا شخص جو اپنے ہی ملک میں کرپشن الزامات پر معطل ہے اس کا بطور آئی سی سی سربراہ تقرر کیسے قبول کر لیا؟اگر سری نواسن کی جگہ پاکستان کے سلیم ملک ہوتے تو غیرملکی میڈیا طوفان اٹھا دیتا اب سب کیوں چپ ہیں،آسٹریلیا، انگلینڈ اور دیگر ممالک کی آنکھیں ڈالرز کی چمک سے چندھیا گئیں اور انھیں کچھ نظر نہیں آ رہا، ابھی تو انگلش ڈومیسٹک کرکٹ میں کرپشن کے چند ہی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اب آسٹریلوی بگ بیش و دیگر بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔
بورڈز کس منہ سے پلیئرز کو کرپشن سے دور رہنے کا کہیں گے۔ ایک خطرناک رحجان کا آغاز ہوگیا،آئندہ کیا ہو گا وہ سب ہی دیکھیں گے، آخر میں عامر کو بھی ایڈوانس میں مبارکباد، اب امید ہے کہ انھیں بھی جلد ریلیف مل جائے گا،آصف اور سلمان کو بھی نئے سرے سے کوشش شروع کرنی چاہیے، پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی مراعات کے عوض سری نواسن کو ووٹ دیا، کسی کی یہ ہمت نہ ہوئی کہ یہ کہہ سکتا کہ ''ان پر الزامات ہیں، جب تک اپنا دامن صاف نہیں کرا لیتے، یا کم از کم بطوربھارتی بورڈ چیف بحال نہیں ہوتے آئی سی سی سے انھیں دور رکھنا چاہیے''۔ ویسے بھی پی سی بی اکیلے کیا کر لیتا، تمام بورڈز خوش ہیں کہ اب آئی سی سی کی آمدنی سے زیادہ حصہ ملے گا۔ بعض لوگ یہ گانا بھی گنگنا رہے ہوں گے کہ ''سیاں بنے کوتوال اب ڈر کاہے کا''۔
کرکٹ میں ہنسی کرونیے سے دانش کنیریا تک جتنے بھی کرپشن کیسز سامنے آئے ان میں صرف مہرے (کرکٹرز) ہی پکڑے گئے، ان کی ڈوریاں ہلانے والے ہاتھ کون تھے کسی کو علم نہیں اور کوئی امید بھی نہیں کہ کبھی کسی کو پتا چلے گا۔ ہم کمپیوٹر میں داخل ہونے والے وائرس کو تو پکڑ رہے ہیں مگر وہ نادیدہ ہاتھ جو انھیں تیار کر رہا ہے اس کا کسی کو علم ہی نہیں، نہ ہی جاننے کی کوئی کوشش کرتا ہے، اب تو ایسا لگنے لگاکہ ہر میچ ہی فکسڈ ہے، کسی پلیئر کو اچانک خارش ہو اور وہ کمر کھجانے لگے تولوگ کہتے ہیں بکیز کو اشارہ دے دیا، کوئی کیچ چھوڑے تواس نے50لاکھ روپے لیے ہوں گے، کوئی مقابلہ بھی شکوک سے بالاتر نہیں رہا، کوئی اصل اپ سیٹ بھی بکیز کی جانب سے سیٹ کیا ہوا میچ لگتا ہے۔
اس کی وجہ یہی ہے کہ بڑی مچھلیوں پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا، سب ڈرتے ہیں کہ کہیں ہمارا حصہ بند نہ ہو جائے، جیسے ایک عام تھانے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ٹھیلوں سے بھی جمع کی گئی رقم اوپر تک برابر تقسیم ہوتی ہے، یقیناً کرکٹ میں بھی ایسا ہی ہوتا ہو گا، شری شانتھ و دیگر نے اکیلے پیسے تھوڑی کھائے ہوںگے، انھیں گرفتار کیا گیا پھر رہا ہو گئے اور اب ٹی وی پر ناچتے پھر رہے ہیں، رشوت سے لی گئی رقم اور مستقبل محفوظ ہے، ان کی کرکٹ ویسے بھی کتنی باقی رہ گئی تھی، اسی طرح پاکستان کے آج شان سے سر اٹھا کر چلنے والے بعض کرپٹ سابق کرکٹرز جو چند ہزار کی خیرات دے کر اپنے کروڑوں رشوت کے روپے ''حلال'' کرا چکے۔
ان سے بھی کیا کسی نے اس رقم کا حساب لیا، عامر، سلمان اور آصف تو اعتراف جرم بھی کر چکے ان کا پیسہ بھی محفوظ ہے، اسی طرح کیا کسی نے دانش کنیریا سے پوچھا کہ عدالتی کارروائیوں میں پانی کی طرح بہانے کیلیے پیسہ کہاں سے آیا، بھارت میں اظہر الدین اور اجے جڈیجا پر تاحیات پابندیاں لگیں پھر سزا ختم ہو گئی، اظہر تو لوگوں سے ووٹ لے کر پارلیمنٹ تک پہنچ گئے، ہمارے مشکوک ماضی والے کرکٹرز بھی یا تو کوچ یا پھر کمنٹیٹرز بن گئے ہیں، وہ بھی اب عزت دار ہیں، جو بے وقوف خفیہ کیمرے کے سامنے انجانے میں بڑکیاں مارتے ہوئے اپنے ''کارنامے'' قبول کر لے اسے تو سزا ملے گی ناں، دوسری جانب دھونی جیسے کئی ''عظیم'' کرکٹرز کی فائلیں عدالت میں دیمک چاٹ جائے گی،کون بھارت میں اس حوالے سے کچھ لکھ رہا ہے۔
بی سی سی آئی چیف سری نواسن کو ان کی اپنی عدالت نے معطل کیا مگر ساتھ ہی کہہ دیا کہ آئی سی سی چیئرمین بننے کی راہ میں ہم حائل نہیں ہوں گے،اگر ایک انسان پر الزام ہیں تو ہر معاملے میں یکساں سلوک کیوں نہیں کیا جا رہا؟ چنئی سپر کنگز کے کئی بڑے کھلاڑیوں کے نام جسٹس مدگال کی تحقیقاتی رپورٹ میں آئے وہ کیوں بھارتی ٹیم میں شامل ہیں؟ جس پولیس آفیسر نے پلیئرز کی پول کھولی وہ کیوں معطل ہوا اور اس کیخلاف ہی کیوں اچانک کئی کرپشن کیسز سامنے آ گئے؟ اس بارے میں کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہے، آئی پی ایل میں فکسنگ کیس جب سامنے آیا تو روزانہ درجنوں کی تعداد میں بکیز پکڑے گئے جنھیں ایک، ایک کر کے ضمانت پر رہائی ملتی رہی، اب وہ یقیناً اپنے دھندوں میں دوبارہ لگ چکے ہوں گے۔
شری شانتھ کا کیریئر تو پہلے ہی ڈانواڈول تھا ان کے سوا بھارت میں کوئی بڑا نام اس کیس میں نہیں پھنسا، حالانکہ اربوں روپے کی لیگ میں اب بھی تمام غلط کام جاری ہوں گے،چلیں مان لیتے ہیں کہ بھارتی نظام کرپٹ ہے وہاں بڑے بڑے سیاستدانوں کے کئی اسکینڈلز سامنے آتے رہتے ہیں مگر لوگ پھر انہی کو ووٹ دے کر جتوا دیتے ہیں، ایسے میں اگر سری نواسن پر الزامات لگے اور انھیں بھارتی بورڈ نے آئی سی سی کی چیئرمین شپ کیلیے نامزد کر دیا تو اس میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں، مگر گورے تو خود کو بڑا انصاف کا علم بردار کہتے ہیں، اب کہاں گئی ان کی انصاف پسندی، کیوں سب نے چپ سادھی ہوئی ہے، انگلش میڈیا پاکستانی کرکٹرز کے کرپشن کیسز سامنے لا کر انھیں سزا دلانے کیلیے بڑی مہم چلاتا ہے۔
ایسے میں ایک ایسا شخص جو اپنے ہی ملک میں کرپشن الزامات پر معطل ہے اس کا بطور آئی سی سی سربراہ تقرر کیسے قبول کر لیا؟اگر سری نواسن کی جگہ پاکستان کے سلیم ملک ہوتے تو غیرملکی میڈیا طوفان اٹھا دیتا اب سب کیوں چپ ہیں،آسٹریلیا، انگلینڈ اور دیگر ممالک کی آنکھیں ڈالرز کی چمک سے چندھیا گئیں اور انھیں کچھ نظر نہیں آ رہا، ابھی تو انگلش ڈومیسٹک کرکٹ میں کرپشن کے چند ہی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اب آسٹریلوی بگ بیش و دیگر بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔
بورڈز کس منہ سے پلیئرز کو کرپشن سے دور رہنے کا کہیں گے۔ ایک خطرناک رحجان کا آغاز ہوگیا،آئندہ کیا ہو گا وہ سب ہی دیکھیں گے، آخر میں عامر کو بھی ایڈوانس میں مبارکباد، اب امید ہے کہ انھیں بھی جلد ریلیف مل جائے گا،آصف اور سلمان کو بھی نئے سرے سے کوشش شروع کرنی چاہیے، پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی مراعات کے عوض سری نواسن کو ووٹ دیا، کسی کی یہ ہمت نہ ہوئی کہ یہ کہہ سکتا کہ ''ان پر الزامات ہیں، جب تک اپنا دامن صاف نہیں کرا لیتے، یا کم از کم بطوربھارتی بورڈ چیف بحال نہیں ہوتے آئی سی سی سے انھیں دور رکھنا چاہیے''۔ ویسے بھی پی سی بی اکیلے کیا کر لیتا، تمام بورڈز خوش ہیں کہ اب آئی سی سی کی آمدنی سے زیادہ حصہ ملے گا۔ بعض لوگ یہ گانا بھی گنگنا رہے ہوں گے کہ ''سیاں بنے کوتوال اب ڈر کاہے کا''۔