ناقص کارکردگی پر کے الیکٹرک کے 53 سینئر افسروملازمین جبری برطرف
ہائیکورٹ کی جانب سے ملازمین کی چھانٹی نہ کرنے کا حکم امتناع بھی نظر انداز
کے ا لیکٹرک کی نجی انتظامیہ مختلف بہانوں سے اب تک 1500 سے زائد افسران کو جبری طور پر برطرف کرچکی ہے۔ فوٹو: فائل
کے الیکٹرک نے ناقص کارکردگی کی بنیاد بنا کر 53 سینئر افسران اور ملازمین کو جبری طور پر برطرف کردیا ہے۔ اس سلسلے میں سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے افسران و ملازمین کو چھانٹی کی نذر نہ کرنے کے حکم امتناع کو بھی نظرانداز کردیا گیا،
تفصیلات کے مطابق برطرف افسران میں شعبہ ڈسٹری بیوشن، جنریشن اینڈ ٹرانسمیشن ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی جنرل منیجر ز، اسسٹنٹ انجینئرز، میٹر انسپکشن افیسرز، گرڈ آپریشن آفیسرز، کمپلین کوآرڈی نیٹر اور دیگر شامل ہیں کے ا لیکٹرک کی نجی انتظامیہ مختلف بہانوں سے اب تک 1500 سے زائد افسران کو جبری طور پر برطرف کرچکی ہیں۔
کے الیکٹرک انتظامیہ نے جمعرات کو اچانک ایک فہرست جاری کی جس میں ادارہ کے 53 سینئر افسران کو ملازمت سے برطرف کیا، برطرف ملازمین میں ڈپٹی جنرل منیجر امجد علی، منیجر ریکوری سید اصغر عزیز، منیجر مینٹیننس محمد مرید، منیجر انسپیکشن جمیل احمد شیخ، اسسٹنٹ منیجر محمد زبیر شاہ اور نوید حسین، ایڈمن آفیسر شہزاد احمد، معین الدین نجمی، اسسٹنٹ انجینئرز گو ہر احمد ، محمد علی حمید ،شاہد محبوب شیخ، ایم غیاث الدین ، محمد سیلمان ، محمد یوسف ، محمد عبدالقدیر، ایس صادق الدین شاہ، محمد فصیح الدین، قمر الزماں، راشد خان، جمیل اشرف، میٹر انسپکیشن افیسر عبدالحفیظ خان، حسن عباس، مطیع اللہ خان، سید ریحان باقر زیدی، شاہد فاروق، ناصر علی، محمد ناصر، محمد فیصل، محمد سلیمان انور، محمد ندیم، گرڈ آپریشن آفیسر سید شاہد حسین شاہ، محمد عمران، محمد یحییٰ۔
کمپلین کوآرڈینیٹرآفتاب مجید سید حامد حسین، محمد جاوید، عثمان شریف، عتیق الحسن، آفتاب احمد بابر، سید فضل اللہ حق، سوئچ بورڈ آفیسر محمد یحییٰ، خلیل احمد، مظفر حسین، اسٹور کوآرڈینیٹر ایس شاکر حسین، ڈیٹا پروسسنگ آفیسر سید حسن رضا نقوی، شفٹ انچارج محمد اصف خان ،محمد ہارون، فلور سپروائزر محمد نوید شامل ہیں، ذرائع کے مطابق مذکورہ افسران میں کئی افسران ایسے ہیں جو آئندہ چند مہینوں میں ریٹائرڈ ہو نے والے تھے اور انھیں اپنی سالہاسال خدمات کے عوض ادارے کی جانب سے گریجویٹی اور پنشن کی مد میں قابل ذکر واجبات ادا کیے جانے تھے تاہم کے الیکٹرک انتظامیہ نے ریٹائر منٹ سے چند ماہ قبل جبری طور پر برطرف کر کے انھیں قانونی واجبات سے محروم کردیا گیا ہے۔
کے الیکٹرک کے ترجمان کے مطابق برطرف ہونے والے تمام ملازمین کو ناقص کارکردگی کی بنیاد پر برطرف کیا گیا ہے،کے ای ایس سی لیبر یونین (سی بی اے) کے چیئر مین محمد اخلاق خان نے کے الیکٹرک کی انتظامیہ کی طرف سے 53 افسران کی جبری برطرفی کی شدید الفاظ میں مذمت کر تے ہوئے کہا کہ آئندہ دو تین روز میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی آمد ہے اور کے الیکٹرک کی انتظامیہ نے ادارے سے 53افسران کو جبری برطرف کر کے اْن کے اہل خانہ کو فاقہ کشی پر مجبور کردیا ہے دوسرے لفظوں میں انھیں موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق برطرف افسران میں شعبہ ڈسٹری بیوشن، جنریشن اینڈ ٹرانسمیشن ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی جنرل منیجر ز، اسسٹنٹ انجینئرز، میٹر انسپکشن افیسرز، گرڈ آپریشن آفیسرز، کمپلین کوآرڈی نیٹر اور دیگر شامل ہیں کے ا لیکٹرک کی نجی انتظامیہ مختلف بہانوں سے اب تک 1500 سے زائد افسران کو جبری طور پر برطرف کرچکی ہیں۔
کے الیکٹرک انتظامیہ نے جمعرات کو اچانک ایک فہرست جاری کی جس میں ادارہ کے 53 سینئر افسران کو ملازمت سے برطرف کیا، برطرف ملازمین میں ڈپٹی جنرل منیجر امجد علی، منیجر ریکوری سید اصغر عزیز، منیجر مینٹیننس محمد مرید، منیجر انسپیکشن جمیل احمد شیخ، اسسٹنٹ منیجر محمد زبیر شاہ اور نوید حسین، ایڈمن آفیسر شہزاد احمد، معین الدین نجمی، اسسٹنٹ انجینئرز گو ہر احمد ، محمد علی حمید ،شاہد محبوب شیخ، ایم غیاث الدین ، محمد سیلمان ، محمد یوسف ، محمد عبدالقدیر، ایس صادق الدین شاہ، محمد فصیح الدین، قمر الزماں، راشد خان، جمیل اشرف، میٹر انسپکیشن افیسر عبدالحفیظ خان، حسن عباس، مطیع اللہ خان، سید ریحان باقر زیدی، شاہد فاروق، ناصر علی، محمد ناصر، محمد فیصل، محمد سلیمان انور، محمد ندیم، گرڈ آپریشن آفیسر سید شاہد حسین شاہ، محمد عمران، محمد یحییٰ۔
کمپلین کوآرڈینیٹرآفتاب مجید سید حامد حسین، محمد جاوید، عثمان شریف، عتیق الحسن، آفتاب احمد بابر، سید فضل اللہ حق، سوئچ بورڈ آفیسر محمد یحییٰ، خلیل احمد، مظفر حسین، اسٹور کوآرڈینیٹر ایس شاکر حسین، ڈیٹا پروسسنگ آفیسر سید حسن رضا نقوی، شفٹ انچارج محمد اصف خان ،محمد ہارون، فلور سپروائزر محمد نوید شامل ہیں، ذرائع کے مطابق مذکورہ افسران میں کئی افسران ایسے ہیں جو آئندہ چند مہینوں میں ریٹائرڈ ہو نے والے تھے اور انھیں اپنی سالہاسال خدمات کے عوض ادارے کی جانب سے گریجویٹی اور پنشن کی مد میں قابل ذکر واجبات ادا کیے جانے تھے تاہم کے الیکٹرک انتظامیہ نے ریٹائر منٹ سے چند ماہ قبل جبری طور پر برطرف کر کے انھیں قانونی واجبات سے محروم کردیا گیا ہے۔
کے الیکٹرک کے ترجمان کے مطابق برطرف ہونے والے تمام ملازمین کو ناقص کارکردگی کی بنیاد پر برطرف کیا گیا ہے،کے ای ایس سی لیبر یونین (سی بی اے) کے چیئر مین محمد اخلاق خان نے کے الیکٹرک کی انتظامیہ کی طرف سے 53 افسران کی جبری برطرفی کی شدید الفاظ میں مذمت کر تے ہوئے کہا کہ آئندہ دو تین روز میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی آمد ہے اور کے الیکٹرک کی انتظامیہ نے ادارے سے 53افسران کو جبری برطرف کر کے اْن کے اہل خانہ کو فاقہ کشی پر مجبور کردیا ہے دوسرے لفظوں میں انھیں موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے۔