رمضان سے قبل مہنگائی کا عذاب
حکومت کو درآمد کی جانے والی خوردنی اشیا پر ابھی ریگولیٹری ڈیوٹی عائد نہیں کرنی چاہیے تھی
اب ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے سے یہ اشیا مزید مہنگی ہو جائیں گی اور مہنگائی کا نیا عذاب مسلط ہو جائے گا۔ فوٹو فائل
KARACHI:
اخباری اطلاع کے مطابق حکومت نے دہی' مکھن' پنیر' شہد' پھلوں' سبزیوں' چاکلیٹ' بسکٹ' سویاں' آلو' مشروبات' بیکری کی دیگر مصنوعات سمیت 282 اشیا کی درآمد پر پانچ فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کر دی ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق اب جب رمضان المبارک شروع ہونے والا ہے حکومت کو درآمد کی جانے والی خوردنی اشیا پر ابھی ریگولیٹری ڈیوٹی عائد نہیں کرنی چاہیے تھی اور اسے ایک دو ماہ کے لیے موخر کر دینا چاہیے تھا جب کہ صورت حال یہ ہے کہ رمضان المبارک شروع ہونے سے قبل ہی سبزیاں' پھلوں سمیت کھانے پینے کی دیگر اشیا مہنگی ہو چکی ہیں۔
اب ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے سے یہ اشیا مزید مہنگی ہو جائیں گی اور مہنگائی کا نیا عذاب مسلط ہو جائے گا۔ ایک جانب حکومت رمضان پیکیج کا اعلان کر رہی اور یہ یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ اس مقدس مہینے میں عوام کو کھانے پینے کی اشیا سستے داموں ملیں گی جب کہ دوسری جانب کھانے پینے کی درآمدی اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کر کے اپنے ہی دعوے کی نفی کی جا رہی ہے۔ حکومت ہر سال یہ دعویٰ کرتی ہے کہ رمضان المبارک میں کھانے پینے کی اشیا سستے داموں مہیا کی جائیں گی اور مہنگائی کا باعث بننے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی مگر مشاہدے میں آیا ہے کہ حکومت کے اس دعویٰ پر کبھی عمل درآمد نہیں ہوا اور رمضان المبارک میں کھانے پینے کی اشیا بلاجواز مہنگی کر دی جاتی ہیں۔
دوسرے ممالک میں خوشی کے تہوار کے موقع پر روزمرہ کی اشیا سستی کر دی جاتی ہیں تا کہ عام آدمی بھی خوشی کے اس موقع سے بھرپور طور پر لطف اندوز ہو سکے مگر ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ رمضان المبارک اور عید کے موقع پر روز مرہ کی اشیا نہ صرف مہنگی کر دی جاتی ہیں بلکہ غیر معیاری اشیا کو بھی مارکیٹ میں لایا جاتا ہے۔ حکومت صرف دعوے نہ کرے بلکہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے حقیقی اقدامات کرے۔
اخباری اطلاع کے مطابق حکومت نے دہی' مکھن' پنیر' شہد' پھلوں' سبزیوں' چاکلیٹ' بسکٹ' سویاں' آلو' مشروبات' بیکری کی دیگر مصنوعات سمیت 282 اشیا کی درآمد پر پانچ فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کر دی ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق اب جب رمضان المبارک شروع ہونے والا ہے حکومت کو درآمد کی جانے والی خوردنی اشیا پر ابھی ریگولیٹری ڈیوٹی عائد نہیں کرنی چاہیے تھی اور اسے ایک دو ماہ کے لیے موخر کر دینا چاہیے تھا جب کہ صورت حال یہ ہے کہ رمضان المبارک شروع ہونے سے قبل ہی سبزیاں' پھلوں سمیت کھانے پینے کی دیگر اشیا مہنگی ہو چکی ہیں۔
اب ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے سے یہ اشیا مزید مہنگی ہو جائیں گی اور مہنگائی کا نیا عذاب مسلط ہو جائے گا۔ ایک جانب حکومت رمضان پیکیج کا اعلان کر رہی اور یہ یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ اس مقدس مہینے میں عوام کو کھانے پینے کی اشیا سستے داموں ملیں گی جب کہ دوسری جانب کھانے پینے کی درآمدی اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کر کے اپنے ہی دعوے کی نفی کی جا رہی ہے۔ حکومت ہر سال یہ دعویٰ کرتی ہے کہ رمضان المبارک میں کھانے پینے کی اشیا سستے داموں مہیا کی جائیں گی اور مہنگائی کا باعث بننے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی مگر مشاہدے میں آیا ہے کہ حکومت کے اس دعویٰ پر کبھی عمل درآمد نہیں ہوا اور رمضان المبارک میں کھانے پینے کی اشیا بلاجواز مہنگی کر دی جاتی ہیں۔
دوسرے ممالک میں خوشی کے تہوار کے موقع پر روزمرہ کی اشیا سستی کر دی جاتی ہیں تا کہ عام آدمی بھی خوشی کے اس موقع سے بھرپور طور پر لطف اندوز ہو سکے مگر ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ رمضان المبارک اور عید کے موقع پر روز مرہ کی اشیا نہ صرف مہنگی کر دی جاتی ہیں بلکہ غیر معیاری اشیا کو بھی مارکیٹ میں لایا جاتا ہے۔ حکومت صرف دعوے نہ کرے بلکہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے حقیقی اقدامات کرے۔