افیون کی پیداوار پر اقوام متحدہ کی رپورٹ

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں افیون کی کاشت 73 لاکھ ایکڑ سے بھی زیادہ رقبے پر ہو رہی ہے

عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ دنیا سے منشیات ختم کرنے کے لیے افغانستان اور برما پر دبائو ڈالیں۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سولہ سال میں (یعنی1998ء کے بعد سے) پوست کی کاشت اور افیون کی پیداوار میں زبردست اضافہ ہو گیا ہے جب کہ دنیا بھر میں افیون کی سب سے زیادہ پیداوار حسب روایت افغانستان میں ہی ہوتی ہے۔ واضح رہے افغانستان پر طالبان کی حکومت کے دوران دعویٰ کیا گیا تھا کہ انھوں نے پوست کی کاشت کا یکسر خاتمہ کر دیا تھا تاہم اس ملک پر امریکی افواج کے قبضے کے بعد افیون کی پیداوار میں پھر اضافہ شروع ہوگیا۔


اقوام متحدہ کے منشیات اور جرائم پر کنٹرول کے دفتر (یو این او ڈی سی) کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں گزشتہ سال افیون کی پیداوار میں 36 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان اور برما (میانمار) یہ دونوں ملک مل کر دنیا کی 90 فیصد افیون پیدا کرتے ہیں۔ جب کہ لاطینی امریکا کے بعض ملک کوکین پیدا کرنے کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں جو کہ منشیات کی ایک قسم ہے۔ افغانستان پر امریکی قبضہ کے بعد امریکی اور نیٹو فورسز نے پوست کے کھیتوں کو ختم کرنے کی بظاہر اپنی سی کوشش کی مگر افغانستان کی دشوار گزار سرزمین میں ان کی یہ کوشش پوری طرح کامیاب نہ ہوسکی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں افیون کی کاشت 73 لاکھ ایکڑ سے بھی زیادہ رقبے پر ہو رہی ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر افیون کی کاشت کے حوالے سے جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں' وہ کامیاب نہیں ہو سکے' اس رپورٹ میں پاکستان کا ذکر نہیں ہے' اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں پوست کی کاشت تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ ایک کریڈٹ ہے' عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ دنیا سے منشیات ختم کرنے کے لیے افغانستان اور برما پر دبائو ڈالیں۔
Load Next Story