صدر ممنون کا دورہ نائیجیریا
فری مارکیٹ اکانومی کے اس دور میں کسی ملک کی ترقی میں ایک اہم عنصر مختلف ممالک سے تجارتی تعلقات سے منسلک ہے
tauceeph@gmail.com
KARACHI:
فری مارکیٹ اکانومی کے اس دور میں کسی ملک کی ترقی میں ایک اہم عنصر مختلف ممالک سے تجارتی تعلقات سے منسلک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تمام ممالک روایتی منڈیوں کے علاوہ نئی منڈیوں کی تلاش میں بھی رہتے ہیں۔ پاکستان کے امریکا، یورپی ممالک، جاپان اور چین وغیرہ سے دیرینہ تعلقات ہیں مگر ان ممالک میں مختلف وجوہات کی بناء پر پاکستانی مال کی کھپت میں مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔
یوں ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکی ممالک سے تجارتی تعلقات ناگزیر ہوتے جا رہے ہیں۔ موجودہ حکومت نے تمام ممالک سے دوستی کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے تا کہ ہر ملک میں نئی منڈیاں تلاش کر کے ملکی صنعت کو استحکام دیا جائے ۔ اسی اصو ل کے تحت اب پاکستان اپنی روایتی دوستوں کے علاوہ ایشیا اور افریقہ کے دیگر ممالک سے بھی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
صدر ممنون حسین بنیادی طور پر تاجر برادری سے تعلق رکھتے ہیں، اسی بناء پر وہ دیگر مصروفیات کے علاوہ غیر ملکی تجارت پر بھی خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ صدر ممنون حسین نے گزشتہ دنوں نائیجیریا کا دورہ کیا۔ نائیجیریا کا شمار افریقا کے خوشحال ممالک میں ہوتا ہے۔ عالمی بینک کے سروے کے مطابق نائجیریا دنیا کے 30 امیر ممالک میں شامل ہے۔ نائجیریا میں ملی جلی معیشت ہے۔ وہ ا امریکا سے تجارت کرنے والے ممالک میں ساتویں نمبر پر ہے۔ نائیجیریا کے حالات کسی حد تک پاکستان سے مشابہت رکھتے ہیں۔ یہ ملک آج کل مذہبی انتہاپسندی کا شکار ہے۔
مسلم انتہاپسندوں نے دہشت گردی کے ذریعے نہ صرف نائیجیریا کو مشکلات کا شکار کر دیا ہے بلکہ افریقہ کا امن اور مذہبی ہم آہنگی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ نائیجیریا کی آبادی 17.4 ملین افراد پر مشتمل ہے۔ یوں یہ آبادی کے اعتبار سے دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے۔ یہاں کی آبادی 3 بڑے لسانی گروہوں میں تقسیم ہے۔ ان میں Hausa، Igbo اور Yoruba شامل ہیں۔ نائیجیریا میں کل آبادی دو مذاہب عیسائیوں اور مسلمانوں میں تقسیم ہے۔ عیسائی نائجیریا کے جنوبی اور وسطی حصے میں جب کہ مسلمان جنوبی اور شمالی علاقے میں آباد ہیں۔
آبادی کا ایک حصہ اب بھی قدیم افریقی Igbo اور Yoruba قبائل کی روایات پر عمل پیرا ہے۔ نائجیریا 18 ویں اور 19 ویں صدی میں برطانیہ کی نوآبادی رہا۔ برطانیہ نے اس نوآبادی میں جدید انتظامی اور قانونی ڈھانچہ نافذ کیا۔ اس کے ساتھ ہی قدیم قبائلی نظام کو بھی برقرار رکھا گیا۔ نائجیریا 1960ء میں برطانیہ سے آزاد ہوا مگر پھر مختلف قبائل کے درمیان قبائلی لڑائی شروع ہوگئی، یوں نائجیریا میں منتخب جمہوری نظام قائم نہیں ہو سکا اور فوجی حکمران حکومت کرتے رہے۔ نائجیریا میں 2012ء میں پہلی دفعہ صدارتی انتخابات منعقد ہوئے۔ ملک کو وفاقی جمہوری قرار دیا گیا۔ نائجیریا تیل کی دولت سے مالامال ہے۔
جب 70ء کی دھائی میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کی ایک تنظیم اوپیک میں متحد ہوئے تو نائجیریا نے بھی اوپیک میں شرکت اختیار کی مگر فوجی حکمرانوں نے تیل کی دولت سے ملک میں تعلیم، صحت اور ذرایع مواصلات کی ترقی پر توجہ نہیں دی جس کے باعث نائجیریا ایک پسماندہ ملک رہا۔ نائجیریا سول وار کے دوران قحط اور بیماریوں کا شکار بھی رہا۔ 1979ء میں نائجیریا میں مختصر عرصے کے لیے جمہوریت بحال ہوئی جب Olusegun Obasanjo نے اقتدار Shehu Shagari کو منتقل کیا مگر شہشگاری حکومت، کمزور طرزِ حکومت اور غیر شفاف طریقہ کار کی بناء پر ملک میں اصلاحات نہیں کر سکی۔
نائجیریا کی حکومت نے 60ء کی دہائی میں تعلیم اور صحت کے نظام کو منظم کرنے کے لیے پاکستانیوں کی خدمات حاصل کیں۔ پاکستانی اساتذہ نے اسکولوں اور کالجوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح پاکستانی ڈاکٹروں کی اسپتالوں کے لیے خدمات کو بھی اب تک یاد کیا جاتا ہے۔ مگر پھر پاکستان میں برسرِ اقتدار آنے والی حکومتوں نے نائجیریا سے تعلقات پر توجہ نہیں دی۔ بھارتی سفارتکار متحرک ہوئے، یوں بھارتی ماہرین نے پاکستانیوں کی جگہ لینا شروع کر دی۔ نائجیریا میں بنیادی انفرااسٹرکچر نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسپتالوں میں جدید آلات نہیں ہیں، ڈاکٹروں کی کمی ہے، اسکولوں اور کالجوں میں اہل اساتذہ کی شدید ضرورت ہے کیونکہ نائجیریا میں آبادی عیسائی اور مسلمانوں میں تقسیم ہے۔
صدر ممنون حسین نے اس ماحول میں نائجیریا کا دورہ کیا جو کہ ایک جرأت مند اقدام تھا۔ صدر ممنون حسین کے ہمراہ تاجروں کا ایک وفد بھی نائجیریا گیا۔ ان تاجروں نے اپنے اخراجات خود برداشت کیے۔ صدر ممنون حسین نے نائجیریا کے صدر گڈلک جوناتھن سے خصوصی طور پر تجارتی تعلقات بڑھانے کے لیے مذاکرات کیے۔ انھیں ابوجا اور لاگو میں بزنس فورم سے خطاب کرنے کا موقع ملا۔ اس دورے پر 4 معاہدوں پر دستخط کیے گئے جن میں زرعی تعاون، سیاحت اور منشیات کی روک تھام کے معاہدے شامل تھے۔ مختلف معاملات پر مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی اتفاق رائے ہوا۔ نائجیریا کا ایک اہم مسئلہ مذہبی دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ نائجیریا کے حکام پاکستان میں مذہبی دہشت گردی کے تدارک کے لیے کیے گئے اقدامات سے متاثر ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ یوں پاکستان کے دہشت گردی کے ماہرین نائجیریا کے ماہرین کو عملی تربیت دے سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کر تربیت کا بھی معاملہ ہے۔ اس طرح پاکستان نائجیریا کی فوج کی بھی تربیت کر سکتا ہے۔ دونوں ممالک مذہبی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی بھی تیار کر سکتے ہیں۔ نائجیریا میں صنعتی ڈھانچہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ افریقہ میں تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہونے کے باوجود پورے ملک میں کوئی ریفائنری نہیں۔
مغربی کمپنیاں نائجیریا کے اس قیمتی سیال مادے کو انتہائی کم قیمتوں میں خرید لیتی ہیں اور یہ تیل ان کی ریفائنریز سے گزر کر مہنگی قیمتوں میں عالمی منڈی میں فروخت ہوتا ہے۔ اس افریقی ملک میں قیمتی معدنی مصنوعات مثلا یورینیئم، سونا اور کاپر وغیرہ موجود ہے۔ کانکنی کے جدید طریقے رائج نہ ہونے کی بناء پر ملک اس قیمتی دولت سے محروم ہے۔ یوں ہر شعبے میں تعاون کی ضرورت ہے۔ جب 90ء کی دھائی میں مسلم لیگ کی حکومت پہلی دفعہ قائم ہوئی تو سوویت یونین ختم ہو گیا تھا اور وسطی ایشیائی ریاستیں وجود میں آ چکی تھیں۔
یہ ریاستیں اپنے جدید انفرااسٹرکچر، تعلیم، صحت اور ذرایع مواصلات کی جدید ترین سہولتوں کے لیے شہرت رکھتی تھیں۔ ان وسطی ایشیائی ممالک میں تاجکستان، قازقستان اور آزربائیجان وغیرہ کی حکومتیں پاکستان سے دوستی اور تجارتی تعلقات کی خواہاں تھیں، یوں ان ممالک سے دوستی کا آغاز ہوا۔ مگر مذہبی انتہا پسندوں نے ان ممالک میں مداخلت شروع کر دی، نواز شریف حکومت کے وزیر سردار آصف علی کی کوششوں کے باوجود افغان مجاہدین ان ممالک کے جنگی قیدیوں کو رہا کرنے پر تیار نہیں ہوئے، اس وقت کی حکومت انتہاپسندوں کی سرگرمیوں کی روک تھام میں ناکام رہی۔ یوں ان ممالک نے بھارت سے تعلقات قائم کرنے شروع کر دیے۔ پاکستان ان ممالک سے دور ہوتا چلا گیا۔ اب یہ صورتحال نائجیریا میں بھی ہے۔
نائجیریا کے حکمران انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے تعاون کے طلبگار ہیں۔ یہ تعاون اسی وقت پائیدار ہو گا جب انتہاپسندوں کا تدارک کیا جائے گا۔ پاکستان نائجیریا کے ساتھ مل کر ان انتہاپسندوں کے خلاف کارروائی کرے ۔ صدر ممنون حسین نے نائجیریا کا دورہ کر کے اور تجارتی تعلقات کو اہمیت دے کر ایک نئی دنیا کو تلاش کیا ہے۔ اگر ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے نائجیریا سے خصوصی تعلقات کا آغاز کیا جائے تو پاکستان کے لیے دیگر افریقی ممالک کے راستے کھل سکتے ہیں۔
فری مارکیٹ اکانومی کے اس دور میں کسی ملک کی ترقی میں ایک اہم عنصر مختلف ممالک سے تجارتی تعلقات سے منسلک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تمام ممالک روایتی منڈیوں کے علاوہ نئی منڈیوں کی تلاش میں بھی رہتے ہیں۔ پاکستان کے امریکا، یورپی ممالک، جاپان اور چین وغیرہ سے دیرینہ تعلقات ہیں مگر ان ممالک میں مختلف وجوہات کی بناء پر پاکستانی مال کی کھپت میں مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔
یوں ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکی ممالک سے تجارتی تعلقات ناگزیر ہوتے جا رہے ہیں۔ موجودہ حکومت نے تمام ممالک سے دوستی کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے تا کہ ہر ملک میں نئی منڈیاں تلاش کر کے ملکی صنعت کو استحکام دیا جائے ۔ اسی اصو ل کے تحت اب پاکستان اپنی روایتی دوستوں کے علاوہ ایشیا اور افریقہ کے دیگر ممالک سے بھی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
صدر ممنون حسین بنیادی طور پر تاجر برادری سے تعلق رکھتے ہیں، اسی بناء پر وہ دیگر مصروفیات کے علاوہ غیر ملکی تجارت پر بھی خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ صدر ممنون حسین نے گزشتہ دنوں نائیجیریا کا دورہ کیا۔ نائیجیریا کا شمار افریقا کے خوشحال ممالک میں ہوتا ہے۔ عالمی بینک کے سروے کے مطابق نائجیریا دنیا کے 30 امیر ممالک میں شامل ہے۔ نائجیریا میں ملی جلی معیشت ہے۔ وہ ا امریکا سے تجارت کرنے والے ممالک میں ساتویں نمبر پر ہے۔ نائیجیریا کے حالات کسی حد تک پاکستان سے مشابہت رکھتے ہیں۔ یہ ملک آج کل مذہبی انتہاپسندی کا شکار ہے۔
مسلم انتہاپسندوں نے دہشت گردی کے ذریعے نہ صرف نائیجیریا کو مشکلات کا شکار کر دیا ہے بلکہ افریقہ کا امن اور مذہبی ہم آہنگی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ نائیجیریا کی آبادی 17.4 ملین افراد پر مشتمل ہے۔ یوں یہ آبادی کے اعتبار سے دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے۔ یہاں کی آبادی 3 بڑے لسانی گروہوں میں تقسیم ہے۔ ان میں Hausa، Igbo اور Yoruba شامل ہیں۔ نائیجیریا میں کل آبادی دو مذاہب عیسائیوں اور مسلمانوں میں تقسیم ہے۔ عیسائی نائجیریا کے جنوبی اور وسطی حصے میں جب کہ مسلمان جنوبی اور شمالی علاقے میں آباد ہیں۔
آبادی کا ایک حصہ اب بھی قدیم افریقی Igbo اور Yoruba قبائل کی روایات پر عمل پیرا ہے۔ نائجیریا 18 ویں اور 19 ویں صدی میں برطانیہ کی نوآبادی رہا۔ برطانیہ نے اس نوآبادی میں جدید انتظامی اور قانونی ڈھانچہ نافذ کیا۔ اس کے ساتھ ہی قدیم قبائلی نظام کو بھی برقرار رکھا گیا۔ نائجیریا 1960ء میں برطانیہ سے آزاد ہوا مگر پھر مختلف قبائل کے درمیان قبائلی لڑائی شروع ہوگئی، یوں نائجیریا میں منتخب جمہوری نظام قائم نہیں ہو سکا اور فوجی حکمران حکومت کرتے رہے۔ نائجیریا میں 2012ء میں پہلی دفعہ صدارتی انتخابات منعقد ہوئے۔ ملک کو وفاقی جمہوری قرار دیا گیا۔ نائجیریا تیل کی دولت سے مالامال ہے۔
جب 70ء کی دھائی میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کی ایک تنظیم اوپیک میں متحد ہوئے تو نائجیریا نے بھی اوپیک میں شرکت اختیار کی مگر فوجی حکمرانوں نے تیل کی دولت سے ملک میں تعلیم، صحت اور ذرایع مواصلات کی ترقی پر توجہ نہیں دی جس کے باعث نائجیریا ایک پسماندہ ملک رہا۔ نائجیریا سول وار کے دوران قحط اور بیماریوں کا شکار بھی رہا۔ 1979ء میں نائجیریا میں مختصر عرصے کے لیے جمہوریت بحال ہوئی جب Olusegun Obasanjo نے اقتدار Shehu Shagari کو منتقل کیا مگر شہشگاری حکومت، کمزور طرزِ حکومت اور غیر شفاف طریقہ کار کی بناء پر ملک میں اصلاحات نہیں کر سکی۔
نائجیریا کی حکومت نے 60ء کی دہائی میں تعلیم اور صحت کے نظام کو منظم کرنے کے لیے پاکستانیوں کی خدمات حاصل کیں۔ پاکستانی اساتذہ نے اسکولوں اور کالجوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح پاکستانی ڈاکٹروں کی اسپتالوں کے لیے خدمات کو بھی اب تک یاد کیا جاتا ہے۔ مگر پھر پاکستان میں برسرِ اقتدار آنے والی حکومتوں نے نائجیریا سے تعلقات پر توجہ نہیں دی۔ بھارتی سفارتکار متحرک ہوئے، یوں بھارتی ماہرین نے پاکستانیوں کی جگہ لینا شروع کر دی۔ نائجیریا میں بنیادی انفرااسٹرکچر نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسپتالوں میں جدید آلات نہیں ہیں، ڈاکٹروں کی کمی ہے، اسکولوں اور کالجوں میں اہل اساتذہ کی شدید ضرورت ہے کیونکہ نائجیریا میں آبادی عیسائی اور مسلمانوں میں تقسیم ہے۔
صدر ممنون حسین نے اس ماحول میں نائجیریا کا دورہ کیا جو کہ ایک جرأت مند اقدام تھا۔ صدر ممنون حسین کے ہمراہ تاجروں کا ایک وفد بھی نائجیریا گیا۔ ان تاجروں نے اپنے اخراجات خود برداشت کیے۔ صدر ممنون حسین نے نائجیریا کے صدر گڈلک جوناتھن سے خصوصی طور پر تجارتی تعلقات بڑھانے کے لیے مذاکرات کیے۔ انھیں ابوجا اور لاگو میں بزنس فورم سے خطاب کرنے کا موقع ملا۔ اس دورے پر 4 معاہدوں پر دستخط کیے گئے جن میں زرعی تعاون، سیاحت اور منشیات کی روک تھام کے معاہدے شامل تھے۔ مختلف معاملات پر مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی اتفاق رائے ہوا۔ نائجیریا کا ایک اہم مسئلہ مذہبی دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ نائجیریا کے حکام پاکستان میں مذہبی دہشت گردی کے تدارک کے لیے کیے گئے اقدامات سے متاثر ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ یوں پاکستان کے دہشت گردی کے ماہرین نائجیریا کے ماہرین کو عملی تربیت دے سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کر تربیت کا بھی معاملہ ہے۔ اس طرح پاکستان نائجیریا کی فوج کی بھی تربیت کر سکتا ہے۔ دونوں ممالک مذہبی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی بھی تیار کر سکتے ہیں۔ نائجیریا میں صنعتی ڈھانچہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ افریقہ میں تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہونے کے باوجود پورے ملک میں کوئی ریفائنری نہیں۔
مغربی کمپنیاں نائجیریا کے اس قیمتی سیال مادے کو انتہائی کم قیمتوں میں خرید لیتی ہیں اور یہ تیل ان کی ریفائنریز سے گزر کر مہنگی قیمتوں میں عالمی منڈی میں فروخت ہوتا ہے۔ اس افریقی ملک میں قیمتی معدنی مصنوعات مثلا یورینیئم، سونا اور کاپر وغیرہ موجود ہے۔ کانکنی کے جدید طریقے رائج نہ ہونے کی بناء پر ملک اس قیمتی دولت سے محروم ہے۔ یوں ہر شعبے میں تعاون کی ضرورت ہے۔ جب 90ء کی دھائی میں مسلم لیگ کی حکومت پہلی دفعہ قائم ہوئی تو سوویت یونین ختم ہو گیا تھا اور وسطی ایشیائی ریاستیں وجود میں آ چکی تھیں۔
یہ ریاستیں اپنے جدید انفرااسٹرکچر، تعلیم، صحت اور ذرایع مواصلات کی جدید ترین سہولتوں کے لیے شہرت رکھتی تھیں۔ ان وسطی ایشیائی ممالک میں تاجکستان، قازقستان اور آزربائیجان وغیرہ کی حکومتیں پاکستان سے دوستی اور تجارتی تعلقات کی خواہاں تھیں، یوں ان ممالک سے دوستی کا آغاز ہوا۔ مگر مذہبی انتہا پسندوں نے ان ممالک میں مداخلت شروع کر دی، نواز شریف حکومت کے وزیر سردار آصف علی کی کوششوں کے باوجود افغان مجاہدین ان ممالک کے جنگی قیدیوں کو رہا کرنے پر تیار نہیں ہوئے، اس وقت کی حکومت انتہاپسندوں کی سرگرمیوں کی روک تھام میں ناکام رہی۔ یوں ان ممالک نے بھارت سے تعلقات قائم کرنے شروع کر دیے۔ پاکستان ان ممالک سے دور ہوتا چلا گیا۔ اب یہ صورتحال نائجیریا میں بھی ہے۔
نائجیریا کے حکمران انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے تعاون کے طلبگار ہیں۔ یہ تعاون اسی وقت پائیدار ہو گا جب انتہاپسندوں کا تدارک کیا جائے گا۔ پاکستان نائجیریا کے ساتھ مل کر ان انتہاپسندوں کے خلاف کارروائی کرے ۔ صدر ممنون حسین نے نائجیریا کا دورہ کر کے اور تجارتی تعلقات کو اہمیت دے کر ایک نئی دنیا کو تلاش کیا ہے۔ اگر ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے نائجیریا سے خصوصی تعلقات کا آغاز کیا جائے تو پاکستان کے لیے دیگر افریقی ممالک کے راستے کھل سکتے ہیں۔