غیر ملکی کمپنیوں نے جولائی تا مئی 11 ارب ڈالر کا منافع بیرون ملک بھیجا

گزشتہ مالی سال سے14.5 فیصد زائد، مئی میںغیر ملکی کمپنیوں نے 17 کروڑ 17 لاکھ ڈالر کا منافع اپنے ملکوں میں منتقل کیا

فنانشل سیکٹر5.4، تھرمل پاور 83.3،تیل گیس تلاش کے شعبے سے منافع کی منتقلی میں158.6 فیصد اضافہ ہوا، اسٹیٹ بینک فوٹو: اے ایف پی/فائل

غیرملکی کمپنیوں نے گزشتہ 11 ماہ کے دوران 1.1ارب ڈالر کا منافع اپنے ملکوں کو روانہ کیا۔


اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق رواں مالی سال کے دوران منتقل کردہ منافع گزشتہ مالی سال سے14.5 فیصد زائد ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق صرف مئی 2014 میں غیرملکی کمپنیوں نے 17 کروڑ 17 لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا جو مئی 2013 میں منتقل کردہ 16 کروڑ 29 لاکھ ڈالر کے مانفع سے 5.4 فیصد زائد ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے مئی تک پاکستان میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی مالیت 1.3 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے جو اسی عرصے میں منتقل کردہ منافع سے 17.7 فیصد زائد ہے، مئی میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی مالیت 61 کروڑ 9 لاکھ ڈالر رہی جس کی وجہ تھری جی اسپیکٹرم کی نیلامی سے حاصل ہونے والی آمدنی قرار پائی ہے، 11 ماہ کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری سے حاصل شدہ 96 کروڑ 76 لاکھ ڈالر منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا جو مجموعی منتقل کردہ منافع کا 83.6 فیصد ہے۔

فنانشل سیکٹر سے سب سے زیادہ 32 کروڑ 76 لاکھ ڈالر کا منافع منتقل کیا گیا جو گزشتہ سال سے 5.4 فیصد زائد رہا، تھرمل پاور سیکٹر سے 14 کروڑ 37 لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے سے 83.3 فیصد زائد ہے، اسی طرح تیل و گیس کی تلاش کے شعبے سے منافع کی منتقلی 158.6 فیصد اضافے سے 9 کروڑ 83 لاکھ ڈالر رہی ، پٹرولیم ریفائننگ کے شعبے سے 69 ملین ڈالر، فوڈ سیکٹر سے 93.8 ملین ڈالر، کیمکلز سیکٹر سے 45.9 ملین ڈالر، فارماسیوٹیکلز سیکٹر سے 35.5 ملین ڈالر، ٹیلی کمیونی کیشنز کے شعبے سے 39.1ملین ڈالر جبکہ سیمنٹ کے شعبے سے 39.6 ملین ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا۔
Load Next Story