جی آئی ڈی سی ریٹ میں کمی نہیں ہوگی وزیر ٹیکسٹائل

گیس نرخ میںکمی متوقع نہیں،صنعتیں کوئلہ استعمال کریں،نئی پالیسی آئندہ ماہ اورٹیکسٹائل سٹی منصوبہ اگست۔۔۔، عباس آفریدی

کراچی: وفاقی وزیر ٹیکسٹائل عباس خان آفریدی اپٹما ہاؤس آمد کے بعد میڈیا سے بات چیت کررہے ہیں، اس موقع پر آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین یاسین صدیق و دیگر بھی موجود ہیں۔

LAHORE/ISLAMABAD:
وفاقی وزیرٹیکسٹائل عباس خان آفریدی نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مشورہ دیا ہے کہ قدرتی گیس پر انحصار کرنے کے بجائے کوئلے سے توانائی کے حصول کا سستا متبادل ذریعہ اختیار کریں۔

گیس کی قیمت میں کمی کا کوئی امکان نہیں، جی آئی ڈی سی نہ ختم ہوگا اور نہ ہی اس کی شرح میں کمی کی جائے گی۔ جمعہ کو آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) ہاؤس کے دورے پر اراکین سے خطاب اور صحافیوں سے بات چیت کے دوران انہوں نے بتایا کہ نئی ٹیکسٹائل پالیسی کا اعلان جولائی کے دوسرے ہفتے میں کردیا جائے گا جبکہ مجوزہ ٹیکسٹائل پالیسی کے بیشتر نکات کو پہلے ہی وفاقی بجٹ کا حصہ بنا دیا گیا ہے، اسی طرح پاکستان ٹیکسٹائل سٹی کے منصوبے کو بھی اگست یا ستمبر 2014 میں متعارف کرادیا جائے گا۔

وزیراعظم نوازشریف نے اپنے حالیہ دورے میں ترکمانستان سے سرپلس بجلی درآمدکرنے کے لیے کامیاب مذاکرات کیے ہیں اور فوری طور450 میگاواٹ درآمدی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو جائے گی جبکہ باقی ماندہ 1000 میگاواٹ درآمدی بجلی کے بارے میںجلدہی حتمی فیصلہ کرلیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 10 سال سے ملک میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے کوئی لائسنس جاری نہیں کیا گیا تاہم موجودہ حکومت نے اس جانب توجہ دیتے ہوئے ابتدائی طور پر50 سے زائد کمپنیوں کو ایکسپلوریشن لائسنس جاری کردیے ہیں اوررواں سال کے اختتام تک ملک میں تیل وگیس کی تلاش کیلیے مجموعی طورپر 200 لائسنس جاری کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس کے نتیجے میں تیل وگیس کی مقامی پیداوار بڑھے گی تاہم اس میں کافی وقت لگے گا۔


انہوں نے اپٹما کے اراکین کو یقین دہانی کرائی کہ انکے زیرالتوا تمام سیلزٹیکس ریفنڈزآئندہ 3 ماہ میں اداکردیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ٹیکسٹائل سیکٹر کے برآمد کنندگان پر سیلز ٹیکس کے نفاذ کے حق میں نہیں ہیں اور اس حوالے سے وہ حکومتی سطح پر اپنی کوششیں جاری رکھیں گے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کے برآمد کنندگان پر سیلز ٹیکس کی شرح صفر ہوجائے تاکہ ریفنڈ کے مسائل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔

وفاقی وزیرٹیکسٹائل نے اس امر سے اتفاق کیا کہ مستقل بدامنی، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور دہشت گردی جیسے عوامل نے پورے ملک کی انڈسٹری کو زبردست مشکلات سے دوچار کردیا ہے تاہم اس حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت کے درست سمت اور اولین ترجیح کی بنیاد پر اٹھائے جانے والے سخت اقدامات کے نتیجے میں رواں سال کے اختتام تک ملک کے باسیوں اور تاجروںوصنعت کاروں کو دہشت گردوں سے مکمل نجات مل جائے گی اور بدامنی، بھتہ خوری اغوابرائے تاوان میں ملوث عناصر کا قلع قمع ہو جائیگا اورملک میں بڑے پیمانے پرغیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد دوبارہ شروع ہو جائے گی جس سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔

وزیر ٹیکسٹائل نے اپٹما کی جانب سے نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ پروگرام کے اعلان کو سراہتے ہوئے بتایا کہ وزارت ٹیکسٹائل انڈسٹری نے بھی باقاعدہ ''اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام'' مرتب کیا ہے اور اس پروگرام کے تحت 5 سال میں 1 لاکھ 20 ہزار نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کی جائیگی جنہیں دوران تربیت 8000 روپے ماہانہ وظیفہ بھی دیا جائیگا، حکومت کی خواہش ہے کہ فنی تربیت حاصل کرنیوالے نوجوانوں کو مقامی انڈسٹری میں ہی زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع مل سکیں، وزارت نے اس 5 سالہ پروگرام کے لیے 4.4 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے۔
Load Next Story