ڈی ایم سی کورنگی اور ملیر کے بجٹ پیش کردیے گئے
ملازمین کی ہیلتھ انشورنس پالیسی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، ایڈمنسٹریٹر ڈی ایم سی کورنگی
ایڈمنسٹریٹر ڈی ایم سی کورنگی عمران اسلم بجٹ پیش کررہے ہیں، مسرور میمن بھی موجود ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس
ڈی ایم سی کورنگی کا2ارب 30 کروڑ53لاکھ روپے کا بجٹ پیش کردیا گیا، ایڈمنسٹریٹر ڈی ایم سی کورنگی عمران اسلم نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال 2014-15 کا بجٹ ضلع کورنگی کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، علاقہ معززین ، سیاسی و سماجی شخصیات کی تجاویز کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔
جس میں ترقیاتی اخراجات میں اضافے کے لیے غیر ترقیاتی اخراجات میں کافی حد تک کمی کر دی گئی ہے اور مجموعی بجٹ کا صرف17% contingency کی مد میں رکھا گیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ضلع کورنگی انتظامیہ اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اپنے عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کو تیار ہیں کیوں کہ ضلع کورنگی (سابقہ لانڈھی ، کورنگی ، شاہ فیصل ٹاؤن )پر مشتمل ہے، رقبے کے لحاظ سے وسیع اور شہر کے مضافات میں ہونے کی وجہ سے اس کے مسائل بھی بہت ہیں لیکن پھر بھی محدود وسائل میں رہتے ہوئے بھی کاموں کی انجام دہی کو یقینی بنایا جاتا رہا ہے اورآئندہ بھی کیا جاتا رہے گا۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے میونسپل کمشنر کورنگی مسرور میمن ، سپرنٹنڈنٹ انجینئر پریم چند ، فنانس آفیسر خان ملک ، بجٹ آفیسر ابصار احمد ، فوکل پرسنز اسلم پرویز (شاہ فیصل) ، مبین صدیقی(کورنگی)،ارشاد احمد (ڈائریکٹر کونسل) کے ہمراہ بجٹ میزانیہ برائے 2014-15 پیش کرنے کے موقع پر کیا، اس موقع پر انھوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ضلع کورنگی میں موجودہ مالی سال میں2ارب 30کروڑ 53لاکھ 80ہزار روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس میں88ہزار 2سو89روپے کی بچت بھی کی گئی ہے۔
آمدنی کا جو تخمینہ لگایا گیا ہے اس کے مطابق OZTکی مد میں 1ارب 42کروڑ65لاکھ روپے، پراپرٹی ٹیکس کی مد میں 19کروڑروپے بقایا جات کی مد میں 36کروڑ 19لاکھ30ہزار روپے، اپنے ذرائع سے آمدن 32 کروڑ 69لاکھ 50ہزار روپے، مجموعی آمدنی 2ارب 30کروڑ 53لاکھ 80ہزار روپے ہے جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں 1ارب67کروڑ50لاکھ 61ہزار711روپے جس میں اسٹیبلشمنٹ 1ارب 7 کروڑ39 لاکھ 12ہزار 711روپے (41%) مصارف سائر (contegency) 46کروڑ42لاکھ 36ہزار(17%) تعمیر و مرمت و دیکھ بھال، 13کروڑ69لاکھ 13ہزار، ترقیاتی اخراجات 63کروڑ 3لاکھ 18ہزار 2 سو 89 روپے (24%)اسٹروم واٹر ڈرین نالے 3کروڑ51لاکھ روپے، سڑکیں، گلیاں اور فٹ پاتھوں کیلیے 21کروڑ69لاکھ 50ہزارروپے، اسٹریٹ لائٹس کیلیے 6کروڑ95لاکھ روپے، پارکوں کیلیے4 کروڑ 5 لاکھ10ہزار روپے، بلڈنگ کیلیے2کروڑ 70لاکھ روپے اور ڈسٹ بن کیلیے50لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔
جاری ترقیاتی کام؍بقایا جات کیلیے18کروڑ61لاکھ روپے، ڈپازٹ ورک 1کروڑ 7لاکھ 60ہزار روپے اور دیگر متفرق ترقیاتی کام 3کروڑ 83لاکھ روپے ہیں، عمران اسلم نے اس موقع پر مزید کہا کہ ہم گلیوں اور محلوں کی سطح پر صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنانے ، روشنی کے انتظامات کی بہتری کے لئے اسٹریٹ لائٹس کی درستگی سمیت دیگر بلدیاتی مسائل کو حل کرنے کے ساتھ اپنے ضلع کے نوجوانوں کو صحت مند تفریحی سہولیات کی فراہمی کے لیے پارکس ، پلے گراؤنڈز اور گرین بیلٹس کی تعمیر و مرمت اور تزئین و آرائش کو یقینی بنا رہے ہیں،جبکہ آئندہ سال کے بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں10فیصد اضافے کو بھی شامل کیا گیا ہے، اس کے علاوہ اس مالی سال میں ملازمین کی ہیلتھ انشورنس پالیسی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
ڈی ایم سی ملیر کا 3 ارب 57 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کردیاگیا، ایڈمنسٹریٹر ڈی ایم سی ملیر ظہیر عابد میمن نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ ملیر کی بیشتر آبادی پسماندہ علاقوں پر مشتمل ہے جبکہ بلدیاتی سہولیات کی فراہمی ہماری ترجیحات میں شامل ہے اس لیے ضلع ملیر کے شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ مضافاتی علاقوں گوٹھوں میں ترقیاتی اسکیموں کے لیے رقم خاص طور پر مختص کی گئی ہے۔
بن قاسم اور گڈاپ کے علاقوں میں وہاں کے عوام کے لئے فیملی پارکس کی تعمیر کے حوالے سے بھی رقم مختص کی گئی ہے، ڈنگی، نگلیریا اور دیگر قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بجٹ میں رقم مختص کی گئی جبکہ ملازمین جو ادارے کو چلانے میں اہم کردار رکھتے ہیں ان کے لیے تنخواہوں میں10 فیصد اضافے کے ساتھ ساتھ حج وعمرہ اسکیم ہیلتھ پالیسی انشورنس اسکیم وبیماری کے کے حوالے سے ہونے والے اخراجات کی ادائیگی، دوران ملازمت انتقال کی صورت میں کفن دفن کا خرچہ دینے کے لیے پالیسی بنائی گئی ہے اس کے لئے بھی رقم مختص کی گئی ہے۔
میڈیا جو ہمیشہ ڈسٹرکٹ ملیر کی کارکردگی کو سراہانے اور ہماری کوتاہی پر درست رہنمائی کرنے میں ہمارے ساتھ تعاون کرتا ہے اس کے لیے کراچی پریس ودیگر مضافاتی علاقوں کے پریس کلبوں اور صحافی برادری کے لیے خصوصی گرانٹ بھی بجٹ میں مختص کی گئی ہے، ان خیالات کا اظہار ایڈمنسٹریٹر ظہیر عابد میمن نے میونسپل کمشنر بلدیہ عالیہ ملیر اشفاق احمد ملاح،A.Oاخلاق احمد ،AAOبابو ملD.Aشریف بلوچ کے ہمراہ مقامی ہوٹل میں بجٹ میزانیہ برائے سال2014-15پیش کرنے کے موقع پر کیا۔
انھوں نے اس موقع پر تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہماری ہر ممکن کاوش کے تحت ضلع میونسپل کارپوریشن ملیرکراچی کے بجٹ کو عوام دوست بنایا گیا ہے، بجٹ برائے سال 2014-15کیلیے محاصل کی وصولی کا اندازہ 3 ارب 57 کروڑ 87 لاکھ 04 ہزار 600 روپے جبکہ اخراجات کا اندازہ 3 ارب 57 کروڑ 47 ہزار 2 سو 71 روپے ہے اس طرح یہ بجٹ 86 لاکھ 57 ہزار 329 روپے سر پلس ہے اس بجٹ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس بجٹ میں کو شش کی گئی ہے کہ عوام پر کوئی بوجھ نہ ڈالا جائے اور ترقیاتی اسکیموں کی مد میں ایک خطیر رقم ایک ارب 9 کروڑ 60 لاکھ 60 ہزار روپے رکھے گئے ہیں۔
ضلع میونسپل کارپوریشن ملیر کراچی کے تحت جاری ترقیاتی اسکیموں کیلئے 27 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جن میں واٹر سپلائی کیلیے9 کروڑ 78 لاکھ 30 ہزار روپے ، نکاسی آب کیلیے 10کروڑ 23 لاکھ روپے، سڑکوںکی تعمیر و مرمت کیلیے 9 کروڑ 62 لاکھ 55 ہزار روپے، پارکوں کی تزین و آرائش کیلیے 3 کروڑ 50 لاکھ روپے اسٹریٹ لائٹس کیلیے 4 کروڑ 25 لاکھ روپے ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کیلیے 2 کروڑ روپے جبکہ مشینری و گاڑیوں کی خرید ومرمت کیلیے 15 کروڑ 23 لاکھ 50 ہزار روپے رکھے گئے۔
ضلع میونسپل کارپوریشن ملیر کی جاری آمدنی 2 ارب81 کروڑ7 لاکھ 25ہزار 600 روپے اور اپنے ذرائع سے آمدنی 36 کروڑ 39 لاکھ 86 ہزار روپے ہے جبکہ اصل محاصل 76 کروڑ 79 لاکھ 79 ہزار روپے ہے، ضلع میونسپل کارپوریشن ملیرکے غیر ترقیاتی اخراجات ایک ارب 52 کروڑ 36لاکھ58 ہزار 2 سو 17 روپے ہیں جبکہ ترقیاتی اخراجات ایک ارب 9 کروڑ 60 لاکھ 60 ہزار روپے ہیں ہیں۔
ظہیر عابد میمن نے کہا کہ کراچی کے بجٹ کو عوام دوست بنایا گیا ہے بجٹ برائے سال 2014-15کیلیے محاصل کی وصولی کا اندازہ 3 ارب 57 کروڑ 87 لاکھ 04 ہزار 600 روپے ، جبکہ اخراجات کا اندازہ 3 ارب 57 کروڑ 47 لاکھ 2 ہزار 71 روپے ہے اس طرح یہ بجٹ 86 لاکھ 57 ہزار 329 روپے سر پلس ہے اس بجٹ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس بجٹ میں کو شش کی گئی ہے کہ عوام پر کوئی بوجھ نہ ڈالا جائے اور ترقیاتی اسکیموں کی مد میں ایک خطیر رقم ایک ارب 9 کروڑ 60 لاکھ 60 ہزار روپے رکھے گئے ہیں۔
جس میں ترقیاتی اخراجات میں اضافے کے لیے غیر ترقیاتی اخراجات میں کافی حد تک کمی کر دی گئی ہے اور مجموعی بجٹ کا صرف17% contingency کی مد میں رکھا گیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ضلع کورنگی انتظامیہ اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اپنے عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کو تیار ہیں کیوں کہ ضلع کورنگی (سابقہ لانڈھی ، کورنگی ، شاہ فیصل ٹاؤن )پر مشتمل ہے، رقبے کے لحاظ سے وسیع اور شہر کے مضافات میں ہونے کی وجہ سے اس کے مسائل بھی بہت ہیں لیکن پھر بھی محدود وسائل میں رہتے ہوئے بھی کاموں کی انجام دہی کو یقینی بنایا جاتا رہا ہے اورآئندہ بھی کیا جاتا رہے گا۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے میونسپل کمشنر کورنگی مسرور میمن ، سپرنٹنڈنٹ انجینئر پریم چند ، فنانس آفیسر خان ملک ، بجٹ آفیسر ابصار احمد ، فوکل پرسنز اسلم پرویز (شاہ فیصل) ، مبین صدیقی(کورنگی)،ارشاد احمد (ڈائریکٹر کونسل) کے ہمراہ بجٹ میزانیہ برائے 2014-15 پیش کرنے کے موقع پر کیا، اس موقع پر انھوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ضلع کورنگی میں موجودہ مالی سال میں2ارب 30کروڑ 53لاکھ 80ہزار روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس میں88ہزار 2سو89روپے کی بچت بھی کی گئی ہے۔
آمدنی کا جو تخمینہ لگایا گیا ہے اس کے مطابق OZTکی مد میں 1ارب 42کروڑ65لاکھ روپے، پراپرٹی ٹیکس کی مد میں 19کروڑروپے بقایا جات کی مد میں 36کروڑ 19لاکھ30ہزار روپے، اپنے ذرائع سے آمدن 32 کروڑ 69لاکھ 50ہزار روپے، مجموعی آمدنی 2ارب 30کروڑ 53لاکھ 80ہزار روپے ہے جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں 1ارب67کروڑ50لاکھ 61ہزار711روپے جس میں اسٹیبلشمنٹ 1ارب 7 کروڑ39 لاکھ 12ہزار 711روپے (41%) مصارف سائر (contegency) 46کروڑ42لاکھ 36ہزار(17%) تعمیر و مرمت و دیکھ بھال، 13کروڑ69لاکھ 13ہزار، ترقیاتی اخراجات 63کروڑ 3لاکھ 18ہزار 2 سو 89 روپے (24%)اسٹروم واٹر ڈرین نالے 3کروڑ51لاکھ روپے، سڑکیں، گلیاں اور فٹ پاتھوں کیلیے 21کروڑ69لاکھ 50ہزارروپے، اسٹریٹ لائٹس کیلیے 6کروڑ95لاکھ روپے، پارکوں کیلیے4 کروڑ 5 لاکھ10ہزار روپے، بلڈنگ کیلیے2کروڑ 70لاکھ روپے اور ڈسٹ بن کیلیے50لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔
جاری ترقیاتی کام؍بقایا جات کیلیے18کروڑ61لاکھ روپے، ڈپازٹ ورک 1کروڑ 7لاکھ 60ہزار روپے اور دیگر متفرق ترقیاتی کام 3کروڑ 83لاکھ روپے ہیں، عمران اسلم نے اس موقع پر مزید کہا کہ ہم گلیوں اور محلوں کی سطح پر صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنانے ، روشنی کے انتظامات کی بہتری کے لئے اسٹریٹ لائٹس کی درستگی سمیت دیگر بلدیاتی مسائل کو حل کرنے کے ساتھ اپنے ضلع کے نوجوانوں کو صحت مند تفریحی سہولیات کی فراہمی کے لیے پارکس ، پلے گراؤنڈز اور گرین بیلٹس کی تعمیر و مرمت اور تزئین و آرائش کو یقینی بنا رہے ہیں،جبکہ آئندہ سال کے بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں10فیصد اضافے کو بھی شامل کیا گیا ہے، اس کے علاوہ اس مالی سال میں ملازمین کی ہیلتھ انشورنس پالیسی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
ڈی ایم سی ملیر کا 3 ارب 57 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کردیاگیا، ایڈمنسٹریٹر ڈی ایم سی ملیر ظہیر عابد میمن نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ ملیر کی بیشتر آبادی پسماندہ علاقوں پر مشتمل ہے جبکہ بلدیاتی سہولیات کی فراہمی ہماری ترجیحات میں شامل ہے اس لیے ضلع ملیر کے شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ مضافاتی علاقوں گوٹھوں میں ترقیاتی اسکیموں کے لیے رقم خاص طور پر مختص کی گئی ہے۔
بن قاسم اور گڈاپ کے علاقوں میں وہاں کے عوام کے لئے فیملی پارکس کی تعمیر کے حوالے سے بھی رقم مختص کی گئی ہے، ڈنگی، نگلیریا اور دیگر قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بجٹ میں رقم مختص کی گئی جبکہ ملازمین جو ادارے کو چلانے میں اہم کردار رکھتے ہیں ان کے لیے تنخواہوں میں10 فیصد اضافے کے ساتھ ساتھ حج وعمرہ اسکیم ہیلتھ پالیسی انشورنس اسکیم وبیماری کے کے حوالے سے ہونے والے اخراجات کی ادائیگی، دوران ملازمت انتقال کی صورت میں کفن دفن کا خرچہ دینے کے لیے پالیسی بنائی گئی ہے اس کے لئے بھی رقم مختص کی گئی ہے۔
میڈیا جو ہمیشہ ڈسٹرکٹ ملیر کی کارکردگی کو سراہانے اور ہماری کوتاہی پر درست رہنمائی کرنے میں ہمارے ساتھ تعاون کرتا ہے اس کے لیے کراچی پریس ودیگر مضافاتی علاقوں کے پریس کلبوں اور صحافی برادری کے لیے خصوصی گرانٹ بھی بجٹ میں مختص کی گئی ہے، ان خیالات کا اظہار ایڈمنسٹریٹر ظہیر عابد میمن نے میونسپل کمشنر بلدیہ عالیہ ملیر اشفاق احمد ملاح،A.Oاخلاق احمد ،AAOبابو ملD.Aشریف بلوچ کے ہمراہ مقامی ہوٹل میں بجٹ میزانیہ برائے سال2014-15پیش کرنے کے موقع پر کیا۔
انھوں نے اس موقع پر تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہماری ہر ممکن کاوش کے تحت ضلع میونسپل کارپوریشن ملیرکراچی کے بجٹ کو عوام دوست بنایا گیا ہے، بجٹ برائے سال 2014-15کیلیے محاصل کی وصولی کا اندازہ 3 ارب 57 کروڑ 87 لاکھ 04 ہزار 600 روپے جبکہ اخراجات کا اندازہ 3 ارب 57 کروڑ 47 ہزار 2 سو 71 روپے ہے اس طرح یہ بجٹ 86 لاکھ 57 ہزار 329 روپے سر پلس ہے اس بجٹ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس بجٹ میں کو شش کی گئی ہے کہ عوام پر کوئی بوجھ نہ ڈالا جائے اور ترقیاتی اسکیموں کی مد میں ایک خطیر رقم ایک ارب 9 کروڑ 60 لاکھ 60 ہزار روپے رکھے گئے ہیں۔
ضلع میونسپل کارپوریشن ملیر کراچی کے تحت جاری ترقیاتی اسکیموں کیلئے 27 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جن میں واٹر سپلائی کیلیے9 کروڑ 78 لاکھ 30 ہزار روپے ، نکاسی آب کیلیے 10کروڑ 23 لاکھ روپے، سڑکوںکی تعمیر و مرمت کیلیے 9 کروڑ 62 لاکھ 55 ہزار روپے، پارکوں کی تزین و آرائش کیلیے 3 کروڑ 50 لاکھ روپے اسٹریٹ لائٹس کیلیے 4 کروڑ 25 لاکھ روپے ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کیلیے 2 کروڑ روپے جبکہ مشینری و گاڑیوں کی خرید ومرمت کیلیے 15 کروڑ 23 لاکھ 50 ہزار روپے رکھے گئے۔
ضلع میونسپل کارپوریشن ملیر کی جاری آمدنی 2 ارب81 کروڑ7 لاکھ 25ہزار 600 روپے اور اپنے ذرائع سے آمدنی 36 کروڑ 39 لاکھ 86 ہزار روپے ہے جبکہ اصل محاصل 76 کروڑ 79 لاکھ 79 ہزار روپے ہے، ضلع میونسپل کارپوریشن ملیرکے غیر ترقیاتی اخراجات ایک ارب 52 کروڑ 36لاکھ58 ہزار 2 سو 17 روپے ہیں جبکہ ترقیاتی اخراجات ایک ارب 9 کروڑ 60 لاکھ 60 ہزار روپے ہیں ہیں۔
ظہیر عابد میمن نے کہا کہ کراچی کے بجٹ کو عوام دوست بنایا گیا ہے بجٹ برائے سال 2014-15کیلیے محاصل کی وصولی کا اندازہ 3 ارب 57 کروڑ 87 لاکھ 04 ہزار 600 روپے ، جبکہ اخراجات کا اندازہ 3 ارب 57 کروڑ 47 لاکھ 2 ہزار 71 روپے ہے اس طرح یہ بجٹ 86 لاکھ 57 ہزار 329 روپے سر پلس ہے اس بجٹ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس بجٹ میں کو شش کی گئی ہے کہ عوام پر کوئی بوجھ نہ ڈالا جائے اور ترقیاتی اسکیموں کی مد میں ایک خطیر رقم ایک ارب 9 کروڑ 60 لاکھ 60 ہزار روپے رکھے گئے ہیں۔